Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

وجہ سے باز رہے اور(۷)وہ شخص جو اپنی قوم کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہو، پس جب  دشمن سے سامناہواوروہ کھل کرجنگ شروع کردیں تووہ شخص اپنی قوم کی حمایت میں تلواراٹھالے حتی کہ وہ اوراس کی قوم فتح پاجائے یاوہ شہیدہوجائے ۔ ‘‘ (الجامع الصغیر ، الحدیث ۴۶۴۶، ص۲۸۵ )

تنبیہ : شیخ الاسلام حضرت سیِّدُناامام ابن حجرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الاَ   کبر فرماتے ہیں کہ ’’یہ حدیث حسن اور غریب ہے بالخصوص ساتویں صفت کے اعتبارسے غرابت بہت زیاد ہ ہے ۔  اور اس خصلت کے ساتھ مذکورہ احادیث میں موجودسات خصلتوں کابیان مکمل ہوا  ۔

 سا تویں خصلت کے  متعلق احادیثِ مبارکہ

(۱)…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمان ذیشان ہے : ’’تین افرادکو اللہ عَزَّوَجَلَّ دوست رکھتاہے ، (ان میں سے ایک) وہ شخص جو کسی لشکر میں ہو پس جب دشمن سے مقابلہ ہوتودشمن شکست کھاجائے اوروہ شخص بھی ڈٹ کر مقابلہ کرے یہاں تک کہ شہیدہوجائے یا فتح پائے  ۔ ‘‘ (المستدرک ، کتاب الزکاۃ ، باب الثلاثۃ الذینالخ، الحدیث۱۵۶۰، ج۲، ص۴۳)

(۲)…حضرت سیِّدُناابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ایک مرفوع حدیث پاک مروی ہے کہ ’’تین اشخاص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن سے خوش ہوتا ہے (ان میں سے ایک) وہ شخص کہ جب (دشمن کا) گروہ ظاہر ہو تووہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر اس سے جہاد کرے ۔ ‘‘   (المستدرک، کتاب الایمان، باب اذا زنی العبد ۔ ۔ ۔ الخ، الحدیث۷۶، ج۱، ص۱۸۰)

(۳)…حضرت سیِّدُناربیعہ بن وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ’’ تین اشخاص کی دُعا رَدْنہیں ہوتی (ان میں سے ایک)وہ شخص جو کسی لشکر میں ہو اوراس کاساتھ دینے والے بھاگ جائیں پھربھی وہ ثابت قدم رہے ۔  ‘‘(معرفۃ الصحابہ ، باب من اسمہ ربیعۃ بن وقاص ، الحدیث ۲۷۹۲، ج۲، ص ۲۹۸)

          شیخ الاسلام نے اس بارے میں مزید اشعار کہے ہیں  :   

وَزِدْسَبْعَۃً : اِظْلَالُ غَازٍوَعَوْنُہٗ                                                                                                                                     وَاِنْظَارُذِیْ عُسْرٍوَتَخْفِیْفُ حِمَلِہٖ

وَحَامِیُ غُزَاۃٍ حِیْنَ وَلَّوْاوَعَوْنُ                                                                                                   ذِیْ غَرَامَۃِحَقٍّ مَعَ مُکَاتِبِ اَھْلِہٖ

ترجمہ : (۱)…سایۂ عرش پانے والے مزیدسات افرادیہ ہیں  ۱؎ غازی پر سایہ کرنے والا۲؎ اس کا مددگار۳؎ قرضدار کو مہلت دینے والایا۴؎  اس کابوجھ کم کرنے والا ۔

(۲)…۵؎ غازیوں کی حمایت کرنے والا جب لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں ۶؎تاوان کی ادائیگی میں مستحق کامدد گاراور۷؎   اپنے مکاتب غلام سے تعاون کرنے والا  ۔

فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  : ’’اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَاذَنْبَ لَہُ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والاایساہے جیساکہ اس نے گناہ کیاہی نہیں ۔ ‘‘(سنن ابن ماجۃ، حدیث۴۲۵۰، ص۲۷۳۵)

سایۂ عرش پانے والے چودہ اشخاص کابیان

          یہاں پرعرش کاسایہ پانے والے ان چودہ اشخاص کاذکرکیاجاتاہے جن کو شیخ الاسلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   نے بیان کیاہے اوران چودہ اشخاص والی احادیث میں کچھ ضعف ہے  ۔ اوریہ دس احادیث کریمہ ہیں ۔

پہلی حد یثِ پاک

بھوکے کوکھاناکھلانے کاصلہ :

          حضرت سیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمان عالیشان ہے : ’’تین خصلتیں جس شخص میں ہوں گی اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے گا، (۱)دشواری کے وقت وضو کرنا (۲)اندھیرے میں مسجدوں کی طرف چلنااور(۳)بھوکے کو کھانا کھلانا ۔ ‘‘ (الترغیب الترھیب ، کتاب الصدقات ، الحدیث ۱۴۱۷، ج۱، ص ۴۴۸)

 



Total Pages: 67

Go To