Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

(۱)…حضرت سیِّدُناابومالک اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :    ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ایسے بندے بھی ہیں جونہ انبیاء علیہم السلام ہیں اورنہ شہداء لیکن انبیاء کرامعلیہم السلام اور شہدائے عظام ان کے مقام ومرتبہ اوراللہ عَزَّوَجَلَّ  سے ان کے قرب پر رشک کریں گے ۔  ‘‘ایک اعرابی نے عرض کی : ’’ یارسول اللہ  عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم !یہ کون لوگ ہوں گے ؟‘‘حضورنبی ٔکریم، رء ُوف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’یہ مختلف شہروں کے لوگ ہوں گے ان کے درمیان کوئی خونی رشتہ نہ ہوگامگر وہ ایک دوسرے سے صرف رضائے الٰہیعَزَّوَجَلَّکی خاطر محبت کرتے اور تعلق رکھتے ہوں گے ۔ بروزِقیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے لئے اپنے (عرش کے ) سامنے نور کے منبر رکھنے کاحکم فرمائے گا ۔ اور ان کاحساب بھی اُنہی منبروں پرفرمائے گا ۔  لوگ توخوفزدہ ہوں گے لیکن وہ بے خوف ہوں گے ۔  ‘‘(المعجم الکبیر، الحدیث ۳۴۳۳، ج۳، ص۲۹۰بتغیر)

(۲)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے بعض مقرب بندے قیامت کے دن عرش کے دائیں جانب بیٹھے ہوں گے اور  عرشِ الٰہی  عَزَّوَجَلَّ کی دونو ں جانبیں سیدھی ہی ہیں ۔ وہ بندے نور کے منبروں پر ہوں گے اوران کے چہرے نورانی ہوں گے وہ نہ تو انبیاء علیہم السلام ہوں گے نہ شہداء اور نہ ہی صدیقین ۔ ‘‘ عرض کی گئی : ’’یارسول اللہ  عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ! وہ کون لوگ ہوں گے ؟‘‘ نبی ٔکریم، ر ء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’وہ لوگ جواللہعَزَّوَجَلَّ  کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں ۔ ‘‘(المرجع السابق، الحدیث ۱۲۶۸۶، ج۱۲، ص۱۰۴)

(۳)…حضرت سیِّدُنا ابوامامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیبعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّکے بعض بندے ایسے ہیں کہ وہ انہیں قیامت کے دن نور کے منبروں پر بٹھائے گا، نوران کے چہروں کوچھپالے گا حتّٰی کہ لوگ حساب سے فارغ ہوجائیں گے  ۔ ‘‘(المرجع السابق، الحدیث۷۵۲۷، ج۸، ص ۱۱۲)

(۴)…حضرت سیِّدُنا ابوایوب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے قیامت کے دن عرش کے اردگرد یاقوت کی کرسیوں پر ہوں گے ۔  ‘‘(المرجع السابق، الحدیث۳۹۷۳، ج۴، ص۱۵۰)

(۵)… حضرت سیِّدُناابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبی ٔ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کافرمانِ معظم ہے  :  ’’اللہ  عَزَّوَجَلَّکے لئے آپس میں محبت رکھنے والے دوبندوں کے لئے کرسیاں رکھی جائیں گی جن پران کوبٹھایا جائے گایہاں تک کہ (لوگوں کا)حسا ب و کتاب ہو جائے ۔ ‘‘(الجامع الصغیر، الحدیث ۷۸۶۸، ص۴۸۱)

(۶)…حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے  :  ’’کچھ بندے ایسے ہیں جونہ تو انبیاء ہیں اورنہ شہداء لیکن بروز قیامت ان کے لئے نور کے منبر بچھائے جائیں گے اور وہ ’’اَلْفَزَعُ الْاَکْبَر‘‘(یعنی بڑی گھبراہٹ) سے امن میں ہوں گے ۔ ‘‘ ایک شخص نے عرض کی  : ’’یارسول اللہ  عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم !  وہ کون لوگ ہوں گے ؟‘‘رحمتِ عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا :  ’’قبائل کے وہ غریب الوطن لوگ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاکی خاطرباہم محبت کرتے ہیں ۔ ‘‘(المعجم الکبیر، الحدیث : ۳۵۸، ج۲۰، ص۱۶۸)

            خوفِ خدا  عَزَّوَجَلّکے سبب  دعوتِ گناہ ترک کرنے والے کی حدیث جو حضرت  سیِّدُنا ابوامامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے وہ آگے آئے گی ۔

صدقہ کرنے والوں پر عرش کا سایہ :

 (۱)…حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دلنشین ہے  : ’’بندہ اپنے صَدَقے کے سائے میں ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کا فیصلہ ہو جائے ۔ ‘‘(المسندللامام احمدبن حنبل، حدیث عقبۃ بن عامر الجھنی، الحدیث۱۷۳۳۵، ج۶ص۱۲۶ مفہوماً)

(۲)…حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال،



Total Pages: 67

Go To