Book Name:Jannat ki Tayyari

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اگر آپ واقعی نیک بننا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

        میٹھے میٹھے اسلا می بھائیو! اگر آپ واقِعی اللّٰہ  تَعَالٰی کے فرمانبردار اور سچے عاشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نیک و عِبا دت گُزار اور با عمل مسلمان بننا چاہتے ہیں تو پھرہمّت کر کے شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے عطا کردہ مدنی انعامات اپنا لیجئے ، یہ گُناہوں کے مرض سے شِفا پانے اور نیک بننے کا مدنی نُسخہ ہے ۔  

        امیر ِِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  فرماتے ہیں : مجھے مدنی انعامات سے پیا ر ہے۔ فرماتے ہیں : اگر آپ نے اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی رِضا کی خاطر بصمیمِ قلب اِن کو قبول کر کے اِن پر عمل شروع کر دیا تو آپ جیتے جی بہت جلد اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ   اِس کی برکتیں دیکھ لیں گے۔آپ کو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ    سکونِ قلب نصیب ہو گا ۔باطن کی صفائی ہو گی۔ خوفِ خدا و عشقِ مصطفی    عَزَّ وَجَلَّ    وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سوتے آپ کے قلب سے پُھوٹیں گے ۔  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ  آپ کے عَلاقے میں دعوتِ اسلامی کا مدنی کام حیرت انگیز حد تک بڑھ جائے گا۔ چونکہ مدنی انعامات پر عمل اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی رِضا کے حصول کا ذریعہ ہے لہٰذا شیطان آپ کو بہت سُستی دِلائے گا ، طرح طرح کے حیلے بہانے سُجھائے گا ۔آپ کا دِل نہیں لگ پائے گامگر آپ ہمّت مت ہاریے گا   اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ    دِل بھی لگ ہی جائے گا۔

 اے رضاؔ ہر کا م کا اِک وقت ہے                    دِل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمّد

       اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ہمارے خیر خواہ ہیں ۔آپ نے ہمیں جو یہ ایک عظیم الشّان مدنی نسخہ بنام’’ مدنی انعامات‘‘ عطا فرمایا ہے۔ اس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کا عظیم جذبہ پاسکتے ہیں ۔ یہ مدنی انعامات کا تحفہ ہمارے اَسلاف رحمہم اللّٰہ کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اس کے ذریعے ہم خود اِحتسابی کامدنی جذبہ پاسکتے ہیں ، خلوت میں مدنی انعامات کے رسالے کو کھول کر اس میں درج شدہ سُوال کے جواب میں خود ہی ہاں()یا نہ(o) کے ذریعے اپنی کارکردگی یاکوتاہی کا جائزہ لے سکتے ہیں ۔ گویا یہ مدنی انعامات ہمیں روزانہ اپنی ہی لگائی ہوئی خود اِحتسابی کی عدالت میں حاضر کر کے ہمارے اپنے ہی ضمیر سے فیصلہ کرواتے اور ہماری اصلاح کا سامان مہیا کرتے ہیں ۔ یہ مدنی انعامات جنت میں لے جانے والے اور جہنم سے بچانے والے اعمال کا مجموعہ ہیں ۔حضرت سَیِّدُنَا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   خود کو دُرّہ مار کر پوچھتے بتا تُو نے آج کیا عمل کیا؟اِسی طرح اور بزرگانِ دین رَحمَہُمُ اللہُ الْمُبِین بھی حسبِ حال خود احتسابی کرتے اور بلندیٔ درجات کااہتمام فرماتے ۔

        شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے ہماری بد حالی ملاحظہ فرماتے ہوئے ہمیں مدنی انعامات کا عظیم مدنی تحفہ عطا فرمایا ہے تا کہ ہم روزانہ وقت مقرر کر کے فکرِ مدینہ (خود اِحتسابی)پر اِستقامت حاصل کریں ، گناہوں سے بچیں اور نیک بنیں ۔آئیے!مدنی انعامات کی بہار ملاحظہ فرمائیے اور روز فکر ِمدینہ کی نیّت کیجئے چنانچہ

روزانہ فکرِ مد ینہ کرنے کا انعام

        ایک اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ   مجھے مَدَنی اِنعامات سے پیار ہے اور روزانہ فکرِ مدینہ کرنے کا میرا معمول ہے ۔ایک بار میں تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیت کے مدنی قافِلے میں عاشقانِ رسول کے ساتھ صوبہ بلوچستان (پاکستان) کے سفر پر تھا ۔اِسی دوران مجھ گنہگار پر بابِ کرم کُھل گیا۔ ہوا یوں کہ رات کو جب سویا تو قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی ، جنابِ رسالت مَآبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خواب میں تشریف لے آئے ، ابھی جلوؤ ں میں گُم تھا کہ لب ہائے مبارَکہ کو جُنبِش ہوئی اور رحمت کے پھول جھڑنے لگے ، الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے : جو مدنی قافِلے میں روزانہ فکرِ مدینہ کرتے ہیں میں اُنہیں اپنے ساتھ جنَّت میں لے جاؤں گا۔‘‘(فیضانِ سنَّت ، باب فیضانِ رمضان، فیضانِ لیلۃ القد ر ، ج ا، ص ۹۳۱)   

شکریہ کیوں کر ادا ہو آپ کا یامصطفی

ہے پڑوسی خُلْد میں اپنا بنایا شکریہ

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نیک اعمال کے لئے کمر بستہ ہو جائیے

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر ہم نے وقت مقرر کر کے روزانہ فکرِ مدینہ کی سعادت حاصل کی تو  اِنْ شَآءَاللہ    عَزَّ وَجَلَّ   ہم نیک بن جائیں گے ۔نیکوں پر ربّ جَلَّ جَلَالُہٗ کی خوب کرم نوازیاں ، مہربانیاں اورحوصلہ افزائیاں ہوتی ہیں ۔ اللّٰہ اکبر!جب نیک و متّقی شخص دُنیا سے رُخصت ہو تا ہے اللّٰہ تَبَارَک وَتَعَالٰیکے معصوم فِرِشتے اُسے کیا بِشارت سُناتے ہیں مُلاحظہ فرمائیے اوراللّٰہ تَعَالٰیکی رضا کے لئے اِخلاص کے ساتھ نیک اعمال کی بجا آوری کے لئے کمر بستہ ہو جائیے۔ چنانچہ پارہ ۳۰  سُوْرَۃُ الْفَجْر کی آیت نمبر۲۷، ۲۸، ۲۹، ۳۰میں ارشاد ہوتا ہے :     

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ(۲۷) ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ(۲۸) فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ(۲۹) وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠(۳۰)

ترجمۂ کنز الایمان : اے اطمینان والی جان اپنے ربّ (  عَزَّ وَجَلَّ  ) کی طرف  واپس ہو یُوں کہ تُو اُس سے راضی وہ تجھ سے راضی پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنّت میں آ۔

        اِطاعت گزار اور فرمانبرداروں کو جنّت میں داخلے کے وقت کیا کہا جائے گا ، مُلاحظہ فرمائیے اور ایمان تازہ کیجئے چنانچہ پ۲۹ سُوْرَۃُ الدَّھر آیت۲۲میں  ارشاد ہوتا ہے :

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠(۲۲)

ترجمہ کنز الایمان : ان سے فرمایا جائے گا یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری محنت ٹھکانے لگی۔

            بروزِ قیامت جب کُفّا ر و فُجّار، بحکمِ جبّار و قہّار جَلَّ جَلاَلُہٗ داخلِ نار ہوں گے تو نیکوکار اور اَبرار یعنی نیک اعمال کی بجا آوری کرنے والے گروہ در گروہ جَنّت کے گلزار میں داخل کئے جائیں گے چنانچہ  پ ۲۴ سُوْرَۃُ الزُّمَر  آیت ۷۳، ۷۴  میں ارشاد ہوتا ہے :     

 



Total Pages: 31

Go To