Book Name:Jannat ki Tayyari

جنّت والے ہی کامیاب ہیں

پ۲۸سُوْرَۃُ الْحَشْر آیت ۲۰ میں ارشاد ہوتاہے :     

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِؕ-اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان : دوزخ والے اور جنّت والے برابر نہیں جنّت والے ہی مُراد کو پہنچے۔

جنّت قلبِ سلیم والوں کے لیے ہے

پ ۱۹ سُوْرَۃُ الشُّعَرَآء آیت۸۸، ۸۹، ۹۰ میں ارشاد ہوتا ہے :

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹) وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۹۰)

ترجمۂ کنز الایمان : جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ  کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر اور قریب لائی جائے گی جنّت پرہیز گاروں کے لئے۔

موتیوں کا مَحل

            حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوہُرَیْرَہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوَایَت ہے کہ رسولِ اکرم، تاجدارِ حرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  کے اِس فرمان کے بارے میں سُوَال کیا گیا ، پ ۲۸، سُوْرَۃُ الصَّفِّ آیت  ۱۲

وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍؕ

 ترجمۂ کَنْزُالایْمَان :  اور پاکیزہ محلوں میں جو بسنے کے باغوں میں ہیں ۔     

تو اِرشادفرمایاکہ’’ جَنّت میں موتیوں کا ایک مَحَل ہے جِس میں سُرْخ یَاقُوت سے بنے ہوئے سَتَّر(70) مَکَان ہیں ، ہرمَکَان میں سَبْز زُمُرَّد (زُ۔ مُر۔ رَد)  یعنی قیمتی سبز پتھر کے سَتّر(70) کَمْرے ہیں ، ہر کمرے میں سَتَّر(70) تَخْتْ ہیں ، ہر تخت پر ہررنگ کے سَتَّر(70) بِچھونے ہیں ، ہربِچھونے پرایک عورت ہے ، ہر کمرے میں سَتّر(70) دَسترخَوان ہیں ، ہَر دَسترَ خوان پراَنواع واَقسام کے ستّر(70) کھانے ہیں ، ہر کمرے میں ستّر(70) خادم اورخادِمائیں ہیں ۔ مومِن کو اتنی قوت عطا کی جائے گی کہ وہ ایک دن میں ان سب سے جِمَاع کرسکے گا۔

(التر غیب والترہیب ، کتاب صفۃ الجنۃ ، باب الترغیب فی الجنۃ۔۔ الخ حدیث ۴۱، ج ۴ ، ص ۲۸۵)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اندازہ لگائیے کہ اُس موتیوں کے مُقَدّس جنّتی محل میں سبز زمرد کے کتنے کمرے ، تخت ، خُدّام ، دسترخوان، بچھونے ، جنّتی عورتیں اورکتنے ہی رنگوں کے کھانے ہوں گے فَسُبْحَانَ مَنْ لاَّ یُحْصٰی فَضْلُہٗ وَلَا یَنْفَدُ عَطَاؤُہٗیعنی پاکی ہے اُس ذات کو جس کے فضل کی انتہاء نہیں اور جس کی عطا میں کمی نہیں ۔

گدا بھی منتظر ہے خُلد میں نیکوں کی دعوت کا

خُدا دن خیر سے لائے سخی کے گھر ضیافت کا

(حدائقِ بخشش ، ازامامِ اہلسنت  علیہ رحمۃ ربّ العزت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آئیے!میں آپ کی بارگاہ میں چند اور جَنّت میں لے جانے والے اعمال کا ذکرِ خیر کرتا ہوں ۔اِنہیں مُلاحظہ فرمائیے اور اِن کی بجا آوری کر کے جَنّت کی تیاری کیجئے۔

جنت میں لے جانے والے اعمال[1]؎

خوفِ خدا   عَزَّ وَجَلَّ  

پارہ۲۷ سورۃ الرحمٰن آیت ۴۶ میں خدائے رحمن  عَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے :

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶)

ترجمۂ کنز الایمان : اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اُس کے لئے دو جنّتیں ہیں ۔

            اس آیت کی تفسیر بیا ن کرتے ہوئے صدر الافاضل حضرت علّامہ مولانا مُفتی سید محمد نعیم الدین مُراد آبادی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’ تفسیرِخزائن العرفان‘‘ میں لکھتے ہیں : یعنی جسے اپنے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ  کے حضور روزِ قیامت موقف میں حساب کے لئے کھڑے ہونے کا ڈر ہو اور وہ معاصی ترک کرے اور فرائض بجا لائے ، اُس کے لئے دو جنّتیں ہیں ۔(۱)     جنّتِ عدن (۲)      جنّتِ نعیم اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک جَنّت ربّ  عَزَّ وَجَلَّ  سے ڈرنے کا صِلہ اور ایک شہوات ترک کرنے کا صِلہ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

سورۃ النسآء میں ارشاد ہوتا ہے :

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹) (پ۵ سُوْرَۃُ النِّسَآء آیت۶۹ )

 



1     اس عنوان پر 2000مستند احادیث کا مجموعہ’’جنت میں لے جانے والے اعمال ‘‘نامی کتاب مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃً خرید فرمائیں جسے مجلس المدینۃ العلمیہ (دعوتِ اسلامی) نے پیش کیا ہے ۔



Total Pages: 31

Go To