Book Name:Jannat ki Tayyari

چاندی کی ہو گی اور اُس کے کَنْکَر مَرْجان کے ہوں گے اورمُشک کی مٹّی ہوگی ۔اُس کے پودے زَعْفرَان کے ہوں گے۔ پُھولوں کی خُوشبُو والا پانی بادلوں سے برسے گا، کَافُور کے ٹیلے ہوں گے۔چاندی کے پیالے حاضر ہوں گے، جِن پرموتی ، یَاقُوت اور مَرجان کا جڑاؤ ہو گا ، ایک پیالہ وہ ہوگا جس میں خُوشْبو دارمُہَر لگا ہوا مشروب ہو گا، جس میں سَلْسَبِیل شیریں چشمے کا پانی ملا ہو گا۔ایک ایسا پیالہ ہو گا کہ اس کے جوہر کی صَفائی کے باعِث سب طَرَف روشنی ہوجائیگی اور اس میں شَرابِ طَہُور خوب سُرخ اور بہترین ہوگی، جو اِنْسان نہیں بناسکتا ، چاہے جس قَدَرصَنْعت اور کاریگری دِکھالے ، یہ پیالہ ایک خادِم کے ہاتھ میں

 ہوگا ، اس کی روشنی مشرق تک جائیگی مگرسُورج میں وہ خوبصورتی و زینت کہاں ؟

        اُس آدمی پرتعجب ہے جو اِیمان رکھتا ہے کہ جَنّت  واقعی ایسا گھر ہے مگر پھر اُس کا اَہل بننے کے لئے (عمل نہیں کرتا)اور نہجَنّتی کی موت مرتا ہے اور اہلِ جَنّت کی سی محنت نہیں اٹھاتا اور نہ ہی اہلِ جَنّت کے کارناموں پرنَظَر رکھتا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ آدمی اس گھر پر کیسے مطمئن ہو بیٹھتا ہے جِس کی بَربادی کا فیصلہ اللہ   تَعَالٰی کرچُکا ہے ، اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم !اگر جَنّت میں صرف بَدَن کی سَلَامتی ہوتی اور مَوت، بُھوک، پَیَاس اور تمام حَوَادِث سے ہی بچاؤ ہو تا ، تو بھی اِس قابل تھا کہ ُاس کی خاطِر دُنیا کومُسْتَرد کردیا جاتا اور اُس پر اِس دنیائے تنگ کو تَرجِیح نہ دی جاتی اور اب جبکہ اہلِ جَنّت مامُون بادشاہ ہیں ، ہر طرح کی مَسَرّتوں سے مُسْتَفِید ہیں ، جو چاہتے ہیں حاصل کرتے ہیں ۔ عرش کے آنگن میں ہر روز حاضر ہو کراللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    کا دِیدار کرتے ہیں ۔ اللہ   تَعَالٰی کے دیدار میں وہ کچھ حاصل کرتے ہیں ، جو جَنّت کی نِعْمت سے حاصل نہیں اور دوسری کِسی طَرَف مُتَوَجِّہ نہیں ہوتے، ہر وقت طرح طرح کی نِعْمتَوں کے چِھن جانے سے بالکل محفوظ و مَامُون ہیں اور ہر طرح کی نعمتوں سے لُطْف اَنْدوزْ ہو رہے ہیں ۔ اب ایسی جَنّت کی طرف انسان کا کیوں دھیان نہیں ہوتا۔ (مکاشفۃ القلوب، ص۵۵۰/۵۵۲)      

کردے جَنّـت میں تُو جوَار اُن کا

اپنے عطارؔ کو عطا یاربّ

(مناجاتِ عطاریہ ، ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

آہ کون غور کرے!

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کِس قَدَرحیرت بالائے حَیرت ہے کہ اگر ہمارا کوئی پڑوسی یا عزیز بلند وبالا کوٹھی تَیّار کرلے یا بہترین کار (CAR)خریدے یا کسی بھی صورت سے اپنی دُنیاوی آسائش کا معیار بلند کرے تو ہم فوراًاُس سے آگے بڑھنے کی جُسْتَجُو میں مگن ہوجاتے ہیں ، ایک دُھن سی لگ جاتی ہے اور بسا اوقات تو حَسَد کے باعث زِندگی پَریشان ہوجاتی ہے ۔لیکن ہائے افسوس !کہ ہم مُتّقی و پرہیز گار بندوں کو دیکھ کر یہ تمنا کیوں نہیں کرتے کہ جس طرح یہ اسلامی بھائی جَنّت کے دَرَجوں کی بُلندی کی طرف بڑھ رہا ہے ، میں بھی اسی طرح کو شش کروں ، میں بھی نمازِ باجماعت کا پابند بنوں ، تلاوت کروں ، سنّتوں کاپَیکر بَنُوں ، مَدَنی اِنعامات ومَدَنی قافِلوں کا پابند بنوں ، دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں اَوّل تا آخِر شرکت کروں اور دیگر مدنی کاموں میں شرکت کی برکتیں حاصل کروں وغیرہ ۔

مَتْ لگا تُو دِل یہاں پچھتائے گا

کس  طرح  جَنّت  میں  بھائی جائے  گا

(مغیلانِ مدینہ ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ، ص ۱۷۲)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جس طرح ظاہِری عِبَادات وحُسْنِ اَخلاق کے اِعْتِبار سے لوگوں کو مختلف درجوں میں مُنقسم (مُن۔قَ۔سِم)یعنی تقسیم کیا جاتا ہے اسی طرح اجر و ثواب کے درجوں کی بھی تقسیم ہے لہٰذا اگر ہم سب سے اعلیٰ دَرَجہ حاصِل کرنے کی تَمَنّا رکھتے ہیں تو اس کے لئے بھر پور کوشش کرنی ہو گی ۔چنانچہ پ ۴  سُوْرَۃُ     اٰلِ عِمْران کی آیت نمبر ۱۳۳ میں ارشاد ہوتا ہے :

وَ  سَارِعُوْۤا  اِلٰى  مَغْفِرَةٍ  مِّنْ  رَّبِّكُمْ  وَ  جَنَّةٍ  عَرْضُهَا  السَّمٰوٰتُ  وَ  الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ  لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۱۳۳)

ترجمۂ کنز الایمان : اور دوڑو اپنے ربّ کی بخشش اور ایسی جَنّت کی طرف جس کی چَوڑان میں سب آسمان و زمین آجائیں ، پرہیز گاروں کے لئے تیار رکھی ہے ۔

        ’’تفسیر خزائن ُالْعِرفان ‘‘میں خلیفہ ٔ        اعلیٰ حضرت ، مُفسرِ قرآن ، حضرتِ علامہ مولانا مُفتی سید محمد نعیم الدِّین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِی فرماتے ہیں :  ’’دوڑو‘‘ سے مُراد توبہ ، ادائے فرائض وطاعات و اخلاص والے عمل اختیار کرکے( یعنی اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں اپنے گُناہوں سے توبہ کرتے ہوئے ، فرائض مَثَلاً نماز وروزہ وغیرہ اور دِیگر اَحْکاماتِ شرْعِیّہ پر اِخْلَاص کے ساتھ عَمَل کے ذَرِیعے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ  کی بخشش اور جَنّت کی طرف دوڑو کہ یہ راستے جَنّت کی طرف لے جاتے ہیں )

جنّت ایمان دار، نیک اعمال والوں کے لیے

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جَنّت ایک مَکَان ہے کہ اللہ   تَعَالٰی نے اِیمان والوں کے لئے بنایا ہے ۔اُس میں وہ نِعمتیں مُہَیّا کی ہیں جِن کو آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سُنااور نہ ہی کسی آدمی کے دِل پر اس کا خطرہ گُزرا ۔دُنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ شے کو جَنّت کی کسی چیز سے کوئی مناسبت نہیں ۔جنّت ایمان دار، نیک اعمال والوں کے لیے ہے، پ۵ سُوْرَۃُ النِّسَآء آیت ۱۲۴میں ارشاد ہوتا ہے :  

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا(۱۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان : اور جو کچھ بھلے کا م کرے گا مردہو یا عورت اور ہومسلمان تو وہ جنّت میں داخل کیے جائیں گے اور انہیں  تِل بھر نقصان نہ دیا جائے گا۔

 



Total Pages: 31

Go To