Book Name:Jannat ki Tayyari

سے پہلا گِروہ جو جَنّت میں جائیگا ، اُن کی شکلیں چودھویں رات کے چاند کی طرح ہونگی ، وہ وہاں نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے اور نہ قضائے حاجت کے لئے بیٹھیں گے۔ اُن کے بَرتن اور کنگِھیاں سونے اورچاندی کے ہوں گے۔ اُن کا پسینہ کَستوری کا ہوگا۔ اُن میں سے ہر ایک کے لئے دو بیویاں ہونگی وہ اِس قَدَرحسین ہونگی کہ اُن کی پنڈلیوں کا گوشت اوپر سے نظر آتا ہو گا، اُن کے درمیان اِختلاف ہو گا اور نہ بُغْض۔ اُن کے دِل ایک دِل کی طرح ہونگے۔ وہ صُبح وشام اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    کی تَسْبِیح بیان کریں گے ۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنۃوالصفۃ، باب فی صفات الجنۃالخ، الحدیث۲۸۳۴، ص۱۵۲۰)

وہی سَب کے مالک اُنہیں کا ہے سَب کچھ

   نہ عاصی کسی کے نہ جنَّت کسی کی      (ذوقِ نعت از حسن رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

جنت کا بازار اور دیدارِ  رَبِّ غَفّار(جَلَّ جَلَالُہٗ)

        جنّتیوں کے لِباس نہ پُرانے ہونگے نہ اُن کی جوانی فنا ہو گی ۔ جَنّت میں نیندنہیں کہ نیند ایک قسم کی موت ہے اور جَنّت میں موت نہیں ۔ جَنّتی جب جَنّت میں جائیں گے ہر ایک اپنے اَعْمال کی مقدار سے مرتبہ پائے گا اور اُس کے فضل کی حد نہیں ۔ پھر اُنہیں دُنیا کے ایک ہفتہ کی مِقْدار کے بعد اِجازت دی جائے گی کہ اپنے پَرْوَرْدگَار   عَزَّ وَجَلَّ   کی زیارت کریں ، عرشِ الٰہی ( عَزَّ وَجَلَّ ) ظاہر ہو گا اور ربّ(  عَزَّ وَجَلَّ   ) جَنّت کے باغوں میں سے ایک باغ میں تجلّی فرمائے گا اور اُن جَنّتیوں کے لیے مِنبر بچھائے جائیں گے، نورکے منبر، موتی کے منبر، یاقوت کے منبر، زَبر جَدکے منبر، سونے کے منبر، چاندی کے منبر اور اُن میں کا ادنیٰ مُشک و کافور کے ٹیلے پر بیٹھے گا اور اُن میں ادنیٰ کوئی نہیں ، اپنے گُمان میں کرسی والوں کو کچھ اپنے سے بڑھ کر نہ سمجھیں گے اوراللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   َکا دیدار ایساصاف ہو گا جیسے آفتاب اور چودھویں رات کے چاند کو ہر ایک اپنی اپنی جگہ سے دیکھتا ہے کہ ایک کا دیکھنا دوسرے کے لیے مانِع(رُکاوٹ) نہیں اور اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   ہر ایک پرتَجَلّی فرمائے گاان میں سے کسی کو فرمائے گا :  اے فُلاں بِن فُلاں ! تجھے یاد ہے ، جِس دن تُو نے ایسا ایسا کیا تھا...؟!دُنیا کے بعض مَعاصِی(مَ۔عا۔صی) یعنی گُناہ یاد دِلائے گا، بندہ عرض کرے گا :  یا ربّ عَزَّ وَجَلَّ ! کیا تُونے مجھے بخش نہ دیا؟ فرمائے گا :  ہاں ! میری مَغْفِرَت کی وُسْعَتْ ہی کی وجہ سے تُو اِس مرتبے کو پہنچا ، وہ سب اِسی حالت میں ہونگے کہ اَبر چھائے گا اور اُن پر خُوشبُو برسَائے گاکہ اُس کی سی خُوشبُواُن لوگوں نے کبھی نہ پائی تھی اوراللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   َ  فرمائے گا کہ جاؤ اُس کی طرف جو مَیں نے تُمہارے لئے عزّت تَیّار کر رکھی ہے، جو چاہو لو، پھر لوگ ایک بازار میں جائیں گے جِسے ملائکہ گھیرے ہوئے ہیں ۔ اُس میں وہ چیزیں ہوں گی کہ اُن کی مِثل نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سُنی اور نہ ہی قُلُوب پر اُن کا خَطْرہ گُزرا۔ اُس میں سے جو چیز چاہیں گے اُن کے ساتھ کر دی جائے گی اور خریدوفروخت نہ ہو گی ، جَنّتی اُس بازار میں بَاہَم ملیں گے۔چھوٹے مرتبے والا بڑے مرتبے والے کو دیکھے گا اُس کا لِبَاس پسند کرے گا، ہُنُوز(ہُ۔نُوز) یعنی ابھی گفتگو ختم بھی نہ ہو گی کہ خیال کرے گا کہ میرا لِبَاس اِس سے اچھا ہے اور یہ اِس وجہ سے ہے کہ جَنّت میں کسی کے لیے غم نہیں ۔ پھر وہاں سے اپنے اپنے مکانوں کو واپس آئیں گے۔ اُن کی بیبیاں (بیویاں ) استقبال کریں گی، مبارکباد دے کر کہیں گی کہ آپ واپس ہوئے اور آپ کا جمال اُس سے بہت زائِد ہے کہ ہمارے پاس سے آپ گئے تھے، جواب دیں گے کہ پَرْوَرْدْگارْ  عَزَّ وَجَلَّ   کے حضور ہمیں بیٹھنا نصیب ہوا تو ہمیں ایسا ہی ہو جانا سزاوارتھا۔   

 جَنّتی بَاہَم مِلنا چاہیں گے تو ایک کاتَخْتْ دُوسرے کے پاس چلا جائے گااور ایک رِوَایَت میں ہے کہ اُن کے پاس نہایت اعلیٰ درجے کی سُوَارِیاں اورگھوڑے لائے جائیں گے اور اُن پر سُوَار ہو کر جہاں چاہیں گے ، جائیں گے۔ سب سے کم دَرَجے کا جوجنّتی ہے، اُس کے باغات اور بیبیاں اورنِعیم وخُدَّام اور تخت ہزار(1000) برس کی مَسَافَت تک ہوں گے اور اُن میں اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کے نزدیک سب میں مُعَزَّز وہ ہے جو اللہ   تَعَالٰی کے وجہ ِکریم کے دِیدار سے ہرصُبح و شام مُشَرَّف ہو گا۔ جب جَنّتی جَنّت میں جا ئیں گے تو اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    اُن سے فرمائے گا : ’’کچھ اور چاہتے ہو جو تم کو دُوْں ؟‘‘ عرض کریں گے :  تُونے ہمارے مُنہ روشن کئے، جَنّت میں داخِل کیا، جہنم سے نَجَات دِی، اُس وقت پردہ کہ مخلوق پر تھا ، اُٹھ جائے گا تو دیدارِ الٰہی   عَزَّ وَجَلَّ   سے بڑھ کر اُنہیں کوئی چیز نہ ملی ہو گی۔

(بہارِ شریعت تخریج شدہ مکتبۃ المدینہ ص۸۲/۸۶)

جنت میں آقا کا پڑوسی          بہرِرضا و قطبِ مدینہ

بن  جائے  عطار  الٰہی         یااللہ  مِری جھولی بھر دے

(مناجاتِ عطاریہ ، ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )

     صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ذرا اہلِ جَنّت اور اُن کے سر سبز و شاداب پُر رونَق چہروں پر غور کیجئے کہ ُانہیں خُوشبُودار بند مُہر والا مشروب پلایا جاتاہے ، موتیوں کے خیمے میں سُرْخ یاقوت کے مِنبروں پر بیٹھے تَازَہ سَفَید کھجوریں سامنے رکھی ہو ئی ہیں ، انتہائی سبز فرش بچھے ہیں ، مَسْنَدوں پر تکیہ لگائے ہیں ، جو نہروں کے کَنَارَے بچھائے گئے ہیں ، شرابِ طَہُور اور شہد حاضرہیں ، غلام اور نوکر حاضِر ہیں ، خُوبْصُورت حُورَیں موجود ہیں ، گویا وہ یاقوت ومَرْجان کی بنی ہوئی ہیں ، جِن کو کبھی کسی اِنسان اورجِن نے نہیں چُھوا، بَاغَات کے درجات میں چل رہی ہیں ، جن پرسَفَید ریشم کالِبَاس ہے کہ آنکھیں خیرہ ہوجائیں ، سب کے سر پر تاج ہیں ، اُن پرمَوتی اورمَرجان جڑے ہیں ، خُوبْصُورت کَاجَل لگی آنکھیں مُعَطَّر اور بڑھاپے و تنگی سے محفوظ ، خَیْموں میں بند اور وہ خیمے یاقوت کے مَحّلات میں ہیں ، جوجَنّت کے باغوں کے درمیان ہیں ، پاک دل و پاک نظر عورتیں ہیں ، پھر اِن جَنّتی مردوں اور حُوروں کے سامنے پیالے اور برتن پیش کئے جاتے ہیں (جن میں جَنّت کے عمدہ مشروبات ہیں )پینے والوں کے لئے لذِیذ سَفَیدمَشْروب کا گلاس پیش ہوتا ہے۔ اِن کی خِدْمَت پرخُدَّام و غِلمان( بچے) حاضِر رہتے ہیں جیسے کہ قیمتی محفوظ مَوتی ہوں ۔یہ سب اُن کے نیک اعمال کا اَجْر ہے ، وہ باغات میں پُر اَمْن مقام میں ہوں گے ،  

 بَاغَات میں چشمے اور نہریں ہونگی۔بہترین مقام پر اپنے مَالِک قادر کریم  عَزَّ وَجَلَّ   کا  دیدار ہوگا اور اُن کے چہروں پرتازگی اور رونقِ نعمت صاف جھلکتی ہوگی۔ان پر کوئی تنگی اور پریشانی نہ ہو گی بلکہ وہ مُکرَّم بندے ہونگے ۔رب  تَعَالٰی کے دربار سے تحائف سے سرفراز ہوں گے۔اُس میں اُن کے لئے ہر وہ چیز ہوگی ، جو وہ چاہیں گے۔ ہمیشہ رہیں گے ، اُس میں کو ئی غم اور نہ کوئی خطرہ ہوگا ۔ہر شک سے محفوظ ہونگے ، نعمتوں سے مُتَمَتِّع ْ (مُ۔تَ۔مَتْ۔تِع) یعنی فائدہ اُ ٹھاتے ہوں گے۔وہاں کھانا کھائیں گے اور جَنّت کی نہروں سے دودھ ، شرابِ طَہُور ، شہد اور تازہ پانی پئیں گے۔جَنّت کی سَرزَمِین



Total Pages: 31

Go To