Book Name:Jannat ki Tayyari

کردے جَنّـت میں تُو جوار اُن کا

اپنے عطارؔ کو عطا یاربّ

(مناجاتِ عطاریہ، ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حبشی چیخیں مار کر رونے لگا

         حضرت ِ سَیِّدُنااَنَس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ رَحْمتِ عَالَمْ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیت ِمبارکہ تلاوت فرمائی :     

وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ( پ ۲۸، سُورَۃُالتَّحْرِیم : ۶)

ترجمۂ  کنزالایمان : جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔‘‘

        اِس کے بعد ارشادفرمایا کہ’’ جہنم کی آگ کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سُرخ ہوگئی ، پھر ایک ہزار سال تک جَلایا گیا یہاں تک کہ وہ سَفَید ہوگئی، پھر اُسے ایک ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سِیاہ ہوگئی تو اب جَہَنَّم کالی سِیاہ ہے اس کے شُعْلے نہیں بُجھتے ۔یہ سُن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے سامنے ایک حَبَشِی چیخیں مارکر رونے لگا تو حضرت جبرئیل امین عَلَیْہِ السَّلام نازِل ہوئے اور عرض کیاکہ ’’آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے رونے والا شخص کون ہے؟‘‘ فرمایاکہ ’’حَبَشَہ کا ایک شخص ہے۔‘‘ اورپھر اُس شخص کی تعریف بیان فرمائی تو جبرئیلعَلَیْہِ السَّلام نے عرض کیا :  ’’ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   فرماتاہے کہ مجھے اپنی عزت وجَلال اور اِرْتِفَاعْ فَوْقَ الْعَرْشْ ہونے کی قَسَم! میرے خوف کے سبب جِس بندے کی آنکھ روئے گی، میں جنت میں اُس کی ہنسی میں اِضَافہ فرماؤں گا۔‘‘(شعب الایمان، باب فی الخوف من اللہ  تعالی ، حدیث ۷۹۹، ج۱، ص ۴۸۹)

نارِ  جہنم  سے  تُو اماں دے       خلدِ بریں  دے باغ جِناں دے

      واسِطَہ نُعماں بِن ثابت کا             یااللہ  مِری جھولی بھر دے

(مناجاتِ عطاریہ، ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

 اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    کی خُفْیَہ تَدْبِیر

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ     کی خُفْیَہ تَدْبِیر سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے ۔اللہ   تَعَالٰی بے نیاز ہے جہاں وہ اعمالِ صالِحہ مثلاً سلام کو عام کرنا ، اہل و عیال کو کھلاناپِلانا ، عِلمِ دین حاصل کرنا ، عِبادات بجا لانا، جھگڑا ترک کرنا، رزقِ حلال کمانا ، سُنّتیں اپنانا، باوُضو رہنا، تحیۃُ الوضو اور تحیۃُ المسجد ادا کرنا ، نفلی نماز وروزہ کی کثرت کرنا، اذان و اِقامت کہنا اور اِن کا جواب دینا، صف کے خلاء کو پُر کرنا ، اُس کی رِضا کے لئے مسجد بنانا ، نمازِ تہجد و اشراق وچاشت واوّابین ادا کرنا، مریض کی عِیادت ، کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کرنا، نمازِ جنازہ پڑھنا ، بہ خشوع و خضوع نمازِ پنجگانہ با جماعت پڑھنا ، نمازِ جُمُعہ ادا کرنا، کلِمہ طَیِّبہ پڑھنا، لا حول شریف کی کثرت کرنا، بچوں کی فوتگی پر صبْرکرنا، زکوٰۃ دینا، اَمانت لوٹانا، شرم گاہ، پیٹ اور زبان کی حفاظت کرنا، کسی سے کچھ نہ مانگنا ، کسی مسلمان کو لباس پہنانا، کھانا کھلانا، صدقہ و قرض دینا ، ماہِ رمضان کے اور نفل روزے رکھنا، راہِ خدا   عَزَّ وَجَلَّ   میں زخم سہنا ، قراٰن پڑھنا پڑھانا، ذِکر کے حلقوں مثلاً سنّتوں بھرے اِجتماعات میں شرکت کرنا، ذِکر و اذکار کرنا، والِدین کی خدمت اور رشتہ داروں کے ساتھ صِلۂ رحمی کرنا، بیٹیوں ، بہنوں اور محتاج و یتیم کی کفالت و پرورش کرنا، اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی رِضا کے لئے مُلاقات اور اپنے اسلامی بھائیوں کی حاجت روائی و مشکل ُکشائی کرنا، مسلمانوں کے دِلوں میں خوشی داخل کرنا، اچھی عادات اپنانا، سچ بولنا، وعدہ وفا کرنا، نگاہیں نیچی رکھنا، غُصّہ پینا، لوگوں کو مُعاف کرنا، کمزوروں پر رحم کرنا، کسی کے عیبوں پر مُطلع ہونے پرپردہ پوشی کرنا ، اُس کے راز چھپانا، اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کے لیے محبت کرنا، نیکی کی دعوت دینا ، بُرائی سے منع کرنا، جاہل کو عِلم سِکھانا، مظلوم کی مدد کرنا، اِیذاء رسانی سے بچنا، لوگوں سے تکلیف دُور کرنا، خرید و فروخت اور قرض کے تقاضے میں نرمی کرنا ، زِنا سے بچنا وغیرہ پر اپنی رحمت سے جَنّت عطا فرماتا ہے ، وہِیں گُناہوں کے سبب جَنّت کے داخِلے سے روک بھی لیتا ہے چنانچہ ایک عِبْرَتْ اَنگیز رِوَایت مُلاحِظہ فرمائیے،

ثَواب سے مَحْرُوْمِی

        حضرت عَدِی بن حَاتِم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہنبیٔ کریم، رء وف و رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’قیامت کے دِن لوگوں میں سے کچھ لوگوں کو جنت کی طَرَف جانے کاحکم دیا جائیگا ، جب وہ لوگ جَنّت  کے قریب پہنچ جائینگے اور اس کی خُوشْبوؤں کو سُونگھ لیں گے اور اُس کے مَحَلّوں او ر جنَّتیوں کے لئے جو نعمتیں تیّار کی گئی ہیں اُن کو دیکھ لیں گے تو نِدا کی جائیگی ’’ان کو جَنّت سے ہٹادو، اِن کے لئے جَنّت میں کوئی حِصّہ نہیں ہیـ‘‘وہ اتنی حسرت سے جَنّت سے لوٹیں گے کہ پہلے اِتنی حَسْرَت سے کوئی نہیں لوٹا تھا وہ کہیں گے کہ اے ہمارے ربّ   عَزَّ وَجَلَّ    اگر تو ہم کو جَنّت اور اپنے ثَوَاب کو دِکھانے اورتُو نے اپنے دوستوں کے لئے جو نعمتیں تیار کی ہیں ، اُن کو ہمیں دِکھانے سے پہلے دَوزخ میں داخِل کردیتا تو یہ ہمارے لئے بہت آسان ہوتا۔ اللہ   تَعَالٰی فرمائے گا : میں نے تُمہارے ساتھ یہی اِرَادہ کیا تھا جب تم خَلْوَت میں ہوتے تھے تو میرے سامنے بڑے بڑے گُناہ کرتے تھے اور جب تم لوگوں سے ملتے تو انتہائی تقْویٰ وپَرہَیزگَارِی کے ساتھ ملتے تم لوگوں کو اُس کے خِلاف دِکھاتے جو تُمہارے دِلوں میں میرے لئے خیال تھا ۔تم لوگوں سے ڈَرتے تھے اور مجھ سے نہ ڈَرتے تھے ، تم لوگوں کو  بُزُرْگْ سمجھتے تھے ، مجھے بڑا نہیں جانتے تھے ۔تم نے لوگوں کی خاطِر بُرے کام تَرْک کئے اور میری خاطِر نہیں کئے، آج میں تم کو ثَوَابْ سے مَحْروم کرنے کے ساتھ ساتھ درد ناک عَذَاب چکھاؤں گا۔(مجمع الزوائد ، کتاب الزھد، ج ۱۰ص۳۷۷، رقم۱۷۶۴۹)

اَ لْاَمَانْ وَالْحَفِیْظ

گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی

 



Total Pages: 31

Go To