Book Name:Jannat ki Tayyari

(سامانِ بخشش از شہزادہ اعلیٰ حضرت مصطفی رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ، ص۱۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

حُور کا مہر

        حضرت سَیِّدُنَا اَزہَر بن مُغِیث عَلَیْہِ رَحْمَۃ  اللّٰہ المُجِیبجوکہ نہایت عِبادت گُزار تھے، فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں ایک ایسی عورت کو دیکھا جو دُنیا کی عورتوں کی طرح نہ تھی ۔تو میں نے اُس سے پُوچھا کہ تم کون ہو؟اُس نے جواب دیا :  ’’میں جَنّت کی حُور ہوں ۔ ‘‘یہ سُن کر میں نے اُس سے کہا :  میرے ساتھ شادی کرلو۔  اُس نے کہا :  میرے مالک کے پاس شادی کا پیغام بھیج دو اور میرا   مَہر ادا کردو۔ میں نے پوچھا :  تمہارا مَہر کیا ہے؟ تو اُس نے کہا :  رات میں دیر تک نماز پڑھنا۔ (جَنَّت میں لے جانے والے اعمال، ص ۱۴۸)

نارِ  جہنم  سے  تُو   اماں دے     خُلدِ  بریں  دے باغِ جناں دے

واسطَ نعماں  بن ثابت کا        یا اللہ  مِری جھولی بھر دے

(مناجاتِ عطاریہ، ازامیراہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ، ص ۲۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جَنت کی نَہْریں

        جَنّت میں چار دریا ہیں ایک پانی کا ، دوسرا دُودھ کا، تیسرا شہد کا ، چوتھا شَراب کا ، پھر اِن سے نہریں نکل کرہر ایک کے مَکان میں جارہی ہیں ۔وہاں کی نہریں زمین کھود کر نہیں بلکہ زمین کے اوپر رَوَاں ہیں ، نہروں کا ایک کنارہ موتی کا دُوسرا یاقُوت کا ہے اور اِن نہروں کی زمین خالِص مُشْک کی ہے ۔(الترغیب والترہیب، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل فی انہار الجنۃ، الحدیث۳۵/۵۷۳۴، ج۴، ص۳۱۵)

اللہ   تَعَالٰی پ۲۶ سُوْرَۂ مُحَمَّد  آیت نمبر ۱۵ میں ارشاد فرماتا ہے :

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَؕ-فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍۚ-وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗۚ-وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ ﳛ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّىؕ-وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْؕ-كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ(۱۵)

ترجمۂ کنز الایمان :  احوال اُس جنّت کا جس کا وعدہ پرہیز گاروں سے ہے اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذّت ہے اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صا ف کیا گیا اور ان کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں اور اپنے ربّ کی مغفرت کیا ایسے چین والے ان کی برابر ہو جائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔   

میں اُن کے در کا بھکاری ہوں فضلِ مولیٰ سے

حسنؔ فقیر کا جنت میں بسترا ہوگا

(ذوقِ نعت از حسن رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن، ص۳۷)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جَنّتِیوں کا کھانا پینا

        جَنّتیوں کوشَرَاب پِلائی جائیگی مگر وَہاں کی شَرَاب دُنیا کی شَرَاب کی طرح بَدبُودار ، کَڑْوِی ، بے عقْل کرنے والی اور آپے سے باہر کرنے اور نشہ والی نہ ہو گی بلکہ وہ پاک شراب اِن سب باتوں سے پاک و مُنزّہ ہو گی ۔

        جنّتیوں کوجَنّت میں ایک سے ایک لذیذکھانے ملیں گے جو چاہیں گے وہ کھانا فوراً حاضر ہو جائیگا ، اگر کسی پرندے کو دیکھ کر اُس کا گوشت کھانے کو جی چاہے گا تو وہ اُسی وقت بُھنَا ہوا اُن کے پاس آجائیگا کم سے کم ہر ایک شخص کے سرہانے دس(10) ہزار خادم کھڑے ہونگے ۔خادِموں میں ہر ایک کے ایک ہاتھ میں چاندی اور دوسرے ہاتھ میں سونے کے پیالے ہونگے اور ہر پیالے میں نئے نئے رنگ کی نِعْمَت ہو گی، جتنا کھانا کھاتے جائیں گے، لذّت میں کمی نہ ہو گی بلکہ زِیَادَتی ہوتی جائیگی ، ہرنِوالے میں ستّر(70)مَزے ہونگے، ہرمَزَہ  دُوسرے  مَزے سے مُمْتَاز ہو گا ، اگر پانی وغیرہ کی خواہِش ہوگی تو کُوزے خود ہاتھ میں آجائیں گے۔ اِن میں ٹھیک اندازے کے مُوَافِق پانی، دودھ ، شراب اورشہد ہوگا۔ پینے کے بعد جہاں سے آئے تھے خود بخُود وہاں چلے جائیں گے ۔وہاں نَجَاست ، گندگی ، پیشاب وغیرہ تھوک ، رِینٹھ، کان کا میل، بدن کا میل اَصْلاً(بالکل) نہ ہو نگے۔اور ڈکار و پسینے سے مُشک کی خوشبو نکلے گی ۔ (بہارِ شریعت، حصہ۱، ص۸۱/۸۲)

پڑوسی خُلد میں اپنا بنالو

کرم  یا مصطفے بہرِ رضا  ہو

(ازامیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جَنّتیوں کے لِبَا س

        حضرت سَیِّدُنَا اَبُو ہُرَیْرَہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ حُضور سراپا نُور، شاہ ِ غیورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِرشاد فرمایا : ’’جو شخص جَنّت میں داخل ہو گا، اُسے نِعْمت ملے گی، نہ وہ محتاج ہو گا نہ اس کے کپڑے پُرانے ہونگے اور نہ اس کی جَوَانی ختم ہو گیجَنّت میں وہ کُچھ ہے ، جِسے کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سُنا اور نہ ہی کسی دل میں اُس کا خَیَال گُزرا۔

(الترغیب والترہیب، کتاب صفۃ الجنۃ، فصل فی ثیابہمالخ، الحدیث۷۹، ج۴، ص۲۹۴)

        حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کے حَبِیْب، حَبِیْبِ لَبِیْب ، ہم گناہوں کے مریضوں کے طبیب صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’سب



Total Pages: 31

Go To