Book Name:Jannat ki Tayyari

       حضرت سَیِّدُنا اَنَس بن مَالِکرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  بیان کرتے ہیں کہ نبیوں کے سُلطان، سرورِ ذیشان، سردارِ دو جہان صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جس نے تین مرتبہاللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   سے جَنّت کا سُوال کیا تو جَنّت دُعا کرتی ہے کہ یااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  ! اِس کو جَنّت میں داخل کردے اور جس شخص نے تین مرتبہ دوزخ سے پناہ مانگی تو دوزخ دعاء کرتی ہے کہ یااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   ! اِس کو دوزخ سے پناہ میں رکھ۔ (جامع الترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ماجاء فیالٰخ، الحدیث۲۵۸۱، ج۴، ص۲۵۷)   

عَفْو کر اور سدا کے لیے راضی ہوجا

گر کرم کردے تو جَنّـت میں رہوں گا یاربّ (وسائل بخشش (مرمم)، ص ۸۵)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

     شانِ صِدِّ یقی ( رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ )

        حضرت سَیِّدُنَا ابُو ہُرَیْرَہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، سُلطانِ بَاقَرِیْنہ ، قرارِ قلب و سینہ ، فیض گنجینہ ، صاحبِ معطر پسینہ ، باعثِ نُزُولِ سکینہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : جوشَخْص اپنے مال میں دو جوڑے اللہ   تَعَالٰی کے راستے میں خرچ کرے ، اُسے جَنّت کے تمام دروازوں سے بُلایا جائیگا اور جَنّت کے آٹھ دروازے ہیں پس جو شخص نمازِی ہوگا اُس کو نماز کے دروازے سے بلایا جائیگا ، جو روزہ داروں میں سے ہوگا اُس کو روزے کے دروازے سے بلایا جائیگا ، جوصَدَقہ دینے والوں میں سے ہوگا، اُس کوصَدَقہ کے دروازے سے آواز دی جائیگی اور جو اہلِ جِہاد سے ہو گا، اُسے جِہاد کے دروازے سے طَلَبْ کیا جائیگا۔ حضرت سَیِّدُنَاابُوبَکْرصِدّیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا کہ ہر شخص کو کسی نہ کسی دروازے سے بلایا جائیگا تو کیا کسی کو اِن تمام دروازوں سے بھی بُلایا جائیگا ؟نبیٔ کریم، رء وفٌ  رَّحیم، محبوبِ ربِّ عظیم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’ہاں ‘‘اور مجھے اُمِّید ہے کہ وہ آپ( رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ )     ہی ہوں گے۔

 (مکاشفۃ القلوب، الباب الثانی والسبعون  فی صفۃ الجنۃ، مراتب اہلہا، ص۲۴۴)

صدیق و عمر دونوں بھیجیں گے غلاموں کو

جس وقت کُھلے گا دَرمولیٰ تیری جنَّت کا

(قَبالۂ بخشش از خلیفہ اعلیٰ حضرت جمیل الرحمن قادری رضوی علیہ ر حمۃ القوی)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جَنّتِی حُوْْرَیْں

       پارہ 27 سورۃ الرحمن آیت58,57,56میں ارشاد ہوتا ہے :

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِۙ-لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ(۵۶) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۵۷) كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ(۵۸)

ترجمہ کنز الایمان : ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سِوا کسی کو آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھتیں ان سے پہلے انہیں نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جن نے تو اپنے ربّ کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے گویا وہ لعل اور مونگا ہیں ۔

        حضرتِ صدر الافاضل مولانا مُفتی سید محمد نعیم الدین مُرادآبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  الْہَادِی ’’ تفسیرِخزائن العرفان‘‘میں ان آیا ت کے تحت فرماتے ہیں : جنّتی بیبیاں اپنے شوہرسے کہیں گی :  مجھے اپنے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ  کے عزت و جلال کی قسم! جَنّتمیں مجھے کوئی چیز تجھ سے زیادہ اچھی نہیں معلوم ہوتی تواُس خدا  عَزَّ وَجَلَّ  کی حمدجس نے تجھے میرا شوہر کیا اور مجھے تیری بی بی (بیوی)بنایا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جنت کی حُوریں کیسی ہوں گی ؟

        صدر الشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی(اَ لْمُتَوَفّٰی۱۳۷۶ھ) احادیث کے مضامین کو بیان کرتے ہوئے بہارِ شریعت حصہ 1، صفحہ 79تا 82پر لکھتے ہیں :  ’’ اگر حُور اپنی ہتھیلی زمین و آسمان کے درمیان نکالے تو اُس کے حُسْن کی وجہ سے مخلوق  فِتنہ میں پڑجائے او راگر اپنا دوپٹّا ظاہِر کرے تو اُس کی خُوبصُورتی کے آگے آفتاب ایسا ہو جائے جیسے آفتاب کے سامنے چَرَاغ ۔اورجنّتی سب ایک دل ہونگے ، انکے آپس میں کو ئی اِختلاف وبُغْض نہ ہو گا ۔ان میں ہر ایک کوحور ِعِیْن میں کم سے کم دو بیبیاں (بیویاں ) ایسی ملیں گی کہ سَتّر سَترَّ (70)جوڑے پہنے ہونگی، پھر بھی اِن لِباسوں اور گو شت کے بَاہَر سے اُن کی پِنڈلیوں کا مَغْز دِکھائی دے گا، جیسے سفید شیشے میں شَرابِ سُرخ دِکھائی دیتی ہے ۔آدمی اپنے چہرے کو اس کے رُخْسار میں آئینہ سے بھی زیادہ صاف دیکھے گا، مرد جب اس کے پاس جائیگا، اُسے ہر بار کنواری پائیگا مگر اُس کی وجہ سے مرد و عورت کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو گی ۔جَنّت کی عورت سات سَمُندروں میں تُھوکے تو وہ شہد سے زیادہ شیریں ہو جائیں ۔جب کوئی بندہ جَنّت میں جائیگا تو اُس کے سِرہانے اور پائینتی (پاؤں کی طرف)میں دو حُوریں نہایت اچھی آواز سے گائیں گی مگر اُن کا گانا شیطانی مَزَا مِیر(آلاتِ موسیقی)نہیں بلکہاللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    کی حَمد و پاکی ہو گا وہ ایسی خُوش گُلُو ہو نگی کہ مخلوق نے ویسی آواز کبھی نہ سُنی ہو گی اور یہ بھی گائیں گی کہ ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں کبھی نہ مریں گی، ہم چین والیاں ہیں کبھی تکلیف میں نہ پڑیں گی، ہم راضی ہیں ناراض نہ ہوں گی۔ مُبارک باد اُس کے لئے جو ہمارا اور ہم اس کے ہوں ، ادنیٰ جَنّتی  کے لئے 80ہزار خادم اور 72بِیبِیاں (بیویاں )ہوں گی۔(بہارِ شریعت، حصہ۱، ص، ۷۹، ۸۴)

داخلِ  خُلد ہم  کو  جو  فرمائے  تُو

ہم ہوں اور حور و غِلماں لبِ آبجو

اور جامِ طہور اور مینا سبُو

دیکھیں اعداء تو رہ جائیں پی کر  لہو

اللّٰہٗ       اللّٰہٗ            اللّٰہٗ             اللّٰہٗ

 



Total Pages: 31

Go To