Book Name:Jannat ki Tayyari

41میں ارشادفرماتے ہیں :  آج آپ نے قرض ہونے کی صورت میں (باوجودِ استطاعت)قرض خواہ کی اجازت کے بغیر قرض کی ادائیگی میں تاخیر تو نہیں کی ؟نیز کسی سے عاریتاً(عارضی طور پر اگر لی ہو تو)لی ہوئی چیز ضرورت پوری ہونے پر مقررہ مدت کے اندر واپس کر دی؟

اللہ  کی رحمت سے تو جَنّت ہی ملے گی

اے کاش! مَحَلّے میں جگہ اُنکے ِملی ہو

(ارمغانِ مدینہ، ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

روزہ

        حضرت ِ سَیِّدُنا سَہل بن سَعد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوَایت ہے کہ رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّم، شَاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’بیشک جَنّت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام رَیَّان ہے، اُس دروازے سے صِرف روزہ دار داخِل ہوں گے، اُن کے سِوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا ، جب دوسرے لوگ اُس میں داخِل ہونے کی کوشش کریں گے تو یہ دروازہ بند ہوجائے گا اور وہ اُس میں داخِل نہ ہو سکیں گے ۔‘‘(مسلم ، کتا ب الصیام، با ب فضل الصیام، حدیث ۱۱۵۲ ، ص ۵۸۱)

خُلْد میں ہوگا ہمارا داخِلَہ اِس شان سے

یارسول اللہ  کا نعرہ لگاتے جائیں گے

(ارمغانِ مدینہ، ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  )

        اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ    سَیِّدی ومُرشِدِی، عاشقِ رسولِ عَرَبی، محبِّ ہر سید و صحابی و ولی، سنّتوں کے داعِی ، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت ِعلّامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   چند دِ ن کے عِلاوہ پورا سال ہی نفْل روزے رکھتے ہیں اور اپنے بیانات و تحریرات و اِنفرادی ملاقات میں اِس کی ترغیب بھی دِلاتے رہتے ہیں چنانچہمدنی انعام نمبر58میں ارشاد فرماتے ہیں : کیا آپ نے اِس ہفتے پیر شریف (یا رہ جانے کی صورت میں کسی بھی دن)کا روزہ رکھا؟نیز اِس ہفتے کم از کم ایک دِن کھانے میں جَو شریف کی روٹی تناوُل فرمائی؟

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 کَلِِمہ ، روزہ اور صَدَقہ

        حضرتِ سیّدنا حُذیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے ، رسو ل اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جس نے محض اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی رِضا کے لئے کلمہ پڑھا وہ جَنّت میں داخل ہو گا اور اُس کا خاتِمہ بھی کلمہ پر ہو گا اور جِس نے کسی دن اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رِضا کے لئے روزہ رکھا تو اُس کا خاتمہ بھی اِسی پر ہو گا اور وہ داخلِ جَنّت ہو گااور جِس نے اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا کے لئے صَدَقہ کیا اُس کا خاتمہ بھی اِسی پر ہوگا اور وہ داخلجَنّتہو گا۔(مُسند امام احمد ج ۹ ص۹۰ حدیث۲۳۳۸۴)

تھے گُنہ حد سے سِوا سگِ عطار ؔکے

اُنکے صدْقے پھر بھی جَنّت مِل گئی   

رَمَضَان کی راتوں میں نَماز

        حضرت سَیِّدُ ناابو سعید خُدْرِی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   کی روایت میں ہے : ’’جوبندہ ٔ مومن رَمَضَان کی کسی رات میں نمازپڑھتاہے تو اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس کے ہر سجدے کے عِوض اُس کے لئے پندرہ سو نیکیاں لکھتاہے اور اُس کے لئے   سرخ یاقوت کا ایک مَحل بناتا ہے جس کے ساٹھ (60)ہزار دروازے ہوتے ہیں اور ہر دروازے پر سونے کی مُلَمَّعْ کارِی(مُ۔لَمْ۔مَعْ کارِی) یعنی چمک دَمک ہوگی اور اُس پر سُرخ یاقوت جَڑے ہوں گے۔‘‘

شکریہ کیونکر ادا ہو آپ کا یامصطفی

ہے پڑوسی خُلد میں اپنا بنایا شکریہ

(مغیلانِ مدینہ، ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۴۱  )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سفرِ حج و عُمْرَہ میں فوتگی

         اُمُّ الْمُؤ مِنین حضرت ِسَیِّدَ تُنَا عا ئِشہ صِدّیقہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ ا  سے روایت ہے کہنُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے فرمایا :  ’’جو اُس سَمت حج یا عُمرہ کرنے نکلا پھرراستے میں ہی مرگیاتواُس سے کوئی سُوال نہ کیاجائے گا اورنہ ہی اُس کا حِساب ہوگا اور اُس سے کہاجائے گا کہ جَنّت میں داخل ہوجا۔‘‘

(المعجم الاوسط ، حدیث ۵۳۸۸ ، ج ۴ ، ص ۱۱۱)

میری سرکارکے قدموں میں ہی اِنْ شَآءَاللہ

میرا فردوس میں عطارؔ ِٹھکانہ ہوگا

(ارمغانِ مدینہ، ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 31

Go To