Book Name:Jannat ki Tayyari

        حضرت سَیِدُنا اِبن عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    کے پیارے نبی، مکّی مدنی، عَرَبی قَرَشِی، رسولِ ہاشِمِیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’جو بارہ (12)سال تک اذان دے گا اُس کے لئے جَنّت واجِب ہوجائے گی اور اُس کے اذان دینے کے بدلے میں اس کے لئے روزانہ ساٹھ(60) نیکیاں اور ہر اِقامت کے عِوض تیس(30) نیکیا ں لکھی جائیں گی۔‘‘(سنن ابن ماجہ ، کتاب الاذان والسنۃ فیھا، باب فضل الاذان ، حدیث ۷۲۸، ج ۱، ص ۴۰۲)   

وہ تو نہایت سستاسَودا بیچ رہے ہیں جَنّت کا

ہم مفلِس کیامول چُکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے

(حدائقِ بخشش ، ازامامِ اہلسنت علیہ رحمۃ ربّ العزت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اذان کا جواب

        اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْنحضرت ِسَیّدُناعُمَر بن خَطّا ب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے رِوَایت ہے کہ  نبیٔ اکرم، نورِ مُجسّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا : ’’ جب مؤذِّن اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُکہے تو تم میں سے کوئی اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہے، پِھر مؤذِّن اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُکہے تووہ شخص اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہے، پِھر مؤذِّن اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِکہے تووہ شخص اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللّٰہِ کہے ، پِھر مؤذِّن حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِکہے تووہ شخص لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہے ، پِھر مؤذِّن حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کہے تو وہ شخص لَا حَوْلَ وَلَا قُوََّّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ  کہے ، پھرجب مؤذِّن اَللّٰہُ اَکْبَرُ اللّٰہُ اَکْبَرُ کہے تو وہ شخص اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُکہے اور جب مؤذِّن لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُکہے اور یہ شخص دِل سے لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ کہے تو جَنّت میں داخل ہوگا۔‘‘(صحیح مسلم ، کتا ب الصلوۃ ، باب استجاب القول مثل قول الموذن الخ، حدیث ۳۸۵، ص ۲۰۳)  

وہ خُلْد جس میں اُترے گی اَبرار کی بَرات

ادنیٰ نچھاور اِس ِمرے دُولھا کے سر کی ہے

        مدنی انعام نمبر4میں ارشاد ہوتا ہے :  کیاآج آپ نے بات چِیت، چلت پِھرت، اُٹھانا رکھنا، فون پر گُفتگو اسکوٹر کار چلانا وغیرہ تمام کام کاج مَوقُوف کر کے اَذان و اِقامت کا جواب دیا؟(اگر پہلے سے کھا پی رہے ہوں اور اذان شروع ہو جائے تو کھانا پینا جاری رکھ سکتے ہیں )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

صَفْ کی دُ رُسْتی

        اُمُّ الْمُؤمِنِیْنحضرت ِسَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ ا سے روایت ہے کہ سرورِذیشاں ، دو جہاں کے سلطاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ جو صف کے خَلاء کو پُر کرے گا،  اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    اُس کا ایک دَرَجَہ بُلند فرمائے گا اور اُس کے لئے جَنّت  میں ایک گھر بنائے گا۔ (طبرانی اوسط، حدیث ۵۷۹۷ ، ج ۴، ص ۲۲۵)

یہ مرحمتیں کہ کچی متیں نہ چھوڑیں لَیتں نہ اپنی گتیں

قُصور کریں اور ان سے بھریں قُصور ِجِناں تمھارے لئے

(حدائقِ بخشش ، ازامامِ اہلسنت علیہ رحمۃ ربّ العزت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے سُنّتوں بھرے مَہکے مَہکے مدنی ماحول میں نماز و دُعا میں خُشُوع و خُضُوع کا مدنی ذِہن دیا جاتا ہے ۔چنانچہ میرے آقا ، شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ارشاد فرماتے ہیں : مدنی انعام نمبر44 :  کیا آج آپ نے نَماز و دُعا کے دوران خُشُوع وخُضُوع(خشوع یعنی بدن میں عاجزی اور خُضُوع یعنی دِل میں گِڑگِڑانے کی کیفیت )پیدا کرنے کی کو شش فرمائی ؟نیز دُعا میں ہاتھ اُٹھانے کے آداب کا لحاظ رکھا؟

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

رضائے اِلٰہی ( عَزَّ وَجَلَّ  )  کیلئے مَسْجِد بنا نا

            اَمِیرُا لْمُؤ منین حضرت سَیِّدُ نا عُثمانِ غنی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے رِوایَت ہے کہ میں نے سرکارِدو عالم، نورِ مجسّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو فرماتے ہوئے سُنا کہ ’’جو اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی خُوشنُودی چاہتے ہوئے مسجد بنائے گا، اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   اُس کے لئے جَنّت میں ایک گھر بنائے گا ۔‘‘(صحیح بخاری ، کتا ب الصلوۃ ، با ب من بنی مسجد ا ، حدیث ۴۵۰ ، ج ۱، ص ۱۷۱)   

شاد ہے فردوس یعنی ایک دِن

قسمتِ خُدّام ہو ہی جائے گا

(حدائقِ بخشش ، ازامامِ اہلسنت علیہ رحمۃ ربّ العزت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 سلام کو عام کرنا، کھانا کِھلانا، صِلہ رحمی اور رات کو نماز پڑھنا

         حضرت ِسَیِّدُ نا عبد اللہ