Book Name:Jannat ki Tayyari

آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اُمّت میں بہت ہیں ۔‘‘ تو نبیٔ کریم ، رء وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  عنقریب میرے بعد بہت سے زمانوں میں ہوں گے۔

(المستد رک للحاکم ، کتاب الاطعمۃ ، ذکر معیشۃ النبی ، حدیث ۷۱۵۵، ج ۵ ص ۱۴۲)         

گدا بھی منتظر ہے خُلد میں نیکوں کی دعوت کا

خدا دن خیرسے لائے سخی کے گھر ضیافت کا

(حدائقِ بخشش ، ازامامِ اہلسنت علیہ رحمۃ ربّ العزت، ص۳۲)

اے کاش!حَلال کھانے، سُنّتیں اپنانے کے ساتھ ساتھ ہم لوگوں کا دِل دُکھانے سے بھی بچے رہیں چنانچہ عاشقِ اعلیٰ حضرت ، امیر ِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  مدنی انعام نمبر 48میں ارشادفرماتے ہیں : کیا آج آپ نے (گھر میں اور باہَر) مذاق مسخری، طنز، دل آزاری اور قہقہہ لگانے  (یعنی کِھل کِھلا کر ہنسنے) سے حتّی الامکان بچنے کی کوشش کی؟ (یاد رکھئے! کسی مسلمان کا دِل دُکھانا کبیرہ گُناہ ہے )

مدنی ا نعام نمبر50 : کیا آج آپ کا سارا دن (نوکری یا دُکان وغیرہ پر نیز گھر کے اندر بھی) عمامہ شریف (اور تیل لگانے کی صورت میں سر بند بھی)زُلفیں (اگر بڑھتی ہوں تو) ایک مُشت داڑھی سُنّت کے مطابق آدھی پنڈلی تک (سفید)  کُرتا سامنے جیب میں نُمایاں مِسواک اور ٹخنوں سے اونچے پائنچے رکھنے کا معمول رہا؟

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

وُضُو

         حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ میں نے دو جہاں  کے سُلطان، سَرورِ ذِیشان، محبوبِ رحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’جَنّت میں مومن کا زیور وہاں تک ہوگا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔‘(صحیح مسلم، کتاب الطھارۃ ، باب تبلغ الحلیۃ حیث یبلغ الوضوء ، حدیث ۲۵۰ ، ص ۱۵۱) اِبن خُزَیمَہ کی رِوَایت میں ہے کہ میں نے سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ، باعثِ نزولِ سکینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے ہوئے سنا  ’’جَنّتمیں اعضائے وضو تک زیور ہوں گے۔‘‘(ابن خزیمہ ، باب اسحاب الخ، الحدیث۷، ج۱، ص۷)

پڑوسی خُلد میں عطارؔ کو اپنا بنا لیجے

جہاں ہیں اِتنے احساں اور احساں یا رسول اللہ

(مغیلان ِ مدینہ ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )

            پابندِصوم و صلوٰۃ و سُنّت، امیر ِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   مدنی انعام نمبر 39 میں ارشادفرماتے ہیں : کیا آج آپ حتّی الامکان دِ ن کا اکثر حصّہ با وُضُو رہے ؟     

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  روز فکرِمدینہ کے ذریعے مدنی انعامات پر عمل کی عادت بنانے کی سعادت پر استقامت پانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیت سے معمورمدنی قافلوں میں سفر کو اپنا معمول بنا لیجئے۔دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں میں سفر کی بھی کیا خوب مدنی بہاریں ہیں ۔شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   اپنی مایہ ناز تصنیف’’فیضانِ سنّت جلد اول تخریج شدہ‘‘کے باب ’’فیضانِ بسم اللہ ‘‘ ص ۱۲۴پر لکھتے ہیں :

مدنی قافلے پر سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ْ کی کرم نوازی

      ایک عاشقِ رسول کے بیان کا اپنے انداز و اَلفاظ میں خُلاصہ پیشِ خدمت ہے ، ہمارا مَدَنی قافِلہ سنّتوں کی تربیّت لینے کے لئے حَیْدَرآباد (بابُ الاسلام سندھ) سے صوبۂ سرحد پہنچا ۔ ایک مسجِد میں تین دن گزارکر دوسرے عَلاقے کی طرف جاتے ہوئے راستہ بھول کر ہم جنگل کی طرف جا نکلے ، رات کی سیاہی ہر طرف پھیل چُکی تھی ، دُور دُور تک آبادی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا، لمحہ بہ لمحہ تشویش  میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، اتنے میں اُمّید کی ایک کرن پھوٹی اور کافی دُور ایک بتّی ٹِمٹِماتی نظر آئی ، خوشی کے مارے ہم اُس سَمْت لپکے مگر آہ!چند ہی لمحوں کے بعد وہ روشنی غائب ہوگئی ، ہم  ٹِھٹَھک کر کھڑے کے کھڑ ے رَہ گئے، ہماری گھبراہٹ میں ایک دم اِضافہ ہوگیا ! کیا کریں ، کیا نہ کریں اور کس سَمْت کو چلیں کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ آہ!آہ!آہ!

سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے              سونے والو!جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے

جگنو چمکے پتّا کھڑکے مجھ تنہا کا دِل دھڑکے                ڈر سمجھائے کوئی پَوَن ہے یا اَگیا بیتالی ہے

 بادل گرجے بجلی تڑپے دھک سے کلیجہ ہو جائے                بن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے

  پاؤں اُٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے منہ               مِینہ نے پھسلن کر دی ہے اور دُھر تک کھائی نالی ہے

  ساتھی ساتھی کہہ کے پُکاروں ساتھی ہوتو جواب آئے                پھر جھنجلا کر سَر دے پٹکوں چل رے مولیٰ والی ہے

  پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں                ہاں اِک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے

تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سورج ہو             دیکھو مجھ بے کس پر شب نے کیسی آفت ڈالی ہے

(حدائقِ بخشش، ص۱۳۰/۱۳۱)

اس پریشانی میں نہ جانے کتنا وَقْت گزر گیا، یکایک اُسی سَمْت پھر روشنی نُمُودار ہوئی ۔ ہم نے اللّٰہ    عَزَّ وَجَلَّ   کا نام لیکر ہمّت کی اور ایکبار پھر آبادی کی اُمّید پر روشنی کی جانِب تیز تیزقدم چل پڑے۔ جب قریب پہنچے تو ایک شخص روشنی لئے کھڑا تھا، وہ نہایت پُرتپاک طریقے پرہم سے ملا اور ہمیں اپنے مکان میں لے گیا ، عاشِقانِ رسول   کے مَدَنی قافِلے کے بارہ مُسافِروں کی تعداد کے مطابِق12کپ موجود تھے اور چائے بھی تیّار ۔اُس نے گَرْم گَرْم چائے کے ذَرِیعے ہماری ’’خیر خواہی ‘‘ کی ۔ہم اِس غیبی امداد اور پورے بارہ کپ چائے کی پہلے سے تیّاری پر حیران تھے ۔ اِسْتِفْسار پر ہمارے اجنبی میزبان نے انکِشاف کیا کہ میں سویاہوا تھا کہ قسمت انگڑائی لیکر جاگ اُٹھی ، جنابِ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   میرے خواب میں تشریف لائے اور کچھ اِس طرح  ارشاد فرما یا :  ’’دعوتِ



Total Pages: 31

Go To