Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

سیدنا ابو مسلم خولانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دعا کا اثر ہے تو وہ اپنی حرکت پربہت شرمندہ ہوئی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے معافی چاہی اور زار وقطار رونے لگی ، اور عرض کرنے لگی: ’’مجھے اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر معاف فرما دیں اور اللہ عزوجل  کی بارگاہ میں دعا فرمائیں کہ میری بینائی لوٹ آئے۔‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اس پر تر س آنے لگا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھادیئے اور اس کی بینائی کے لئے دعا کی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ابھی دعا سے فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ اس عورت کی آنکھیں منور ہوگئیں اور وہ بالکل ٹھیک ہوگئی ۔

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

حکایت نمبر31:                       عبادت گزاراورصاحبِ کرامت مجاہد

            حضرت سیدنا حماد بن جعفر بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہم  فرماتے ہیں :’’مجھے میرے والد نے بتایاکہ ایک مرتبہ ہمارا لشکر جہاد کے لئے’’ کابُل ‘‘کی طر ف گیا۔ ہمارے ساتھ حضرت سیدناصلہ بن اشیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ، رات کے وقت لشکر نے ایک جگہ قیام کیا، میں نے دل میں ٹھان لی کہ آج میں حضرت سیدنا صلہ بن اشیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخوب غورسے دیکھو ں گاکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کس طر ح عبادت کرتے ہیں کیونکہ لوگو ں میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عبادت کاخوب چرچاہے لہٰذا میں ان کی طرف متوجہ ہوگیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز پڑھی اور پھر لیٹ گئے اور لوگو ں کے سونے کا انتظار کرنے لگے ، جب لوگ خواب خرگوش کے مزے لینے لگے توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دم اُٹھے اور قریبی جنگل کی طر ف چل دیئے ۔ میں بھی چپکے چپکے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے چل دیا ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ،یکایک ایک خونحوار شیر نمودار ہوا اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طر ف بڑھنے لگا۔ میں بہت خوفزدہ ہواا ور درخت پر چڑھ گیا ، لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شجاعت پر قربان جاؤں ، نہ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شیر سے ڈرے، نہ ہی اس کی طر ف توجہ دی بلکہ نماز ہی میں مگن رہے ، جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سجدے میں گئے تو میں نے گمان کیا کہ اب شیر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کرے گا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چیر پھاڑدے گا لیکن شیر زمین پر بیٹھ گیا ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اطمینان سے نماز مکمل کی اور سلام پھیر نے کے بعد شیر کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’اے جنگلی درندے!جاکسی دوسری جگہ اپنا رزق تلاش کر ۔‘‘آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اتنا فرماناتھا کہ شیر اُلٹے قدموں چل پڑا۔ وہ ایسی خوفناک آواز سے دھاڑ رہا تھا


 

 



Total Pages: 412

Go To