Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

یہ سن کر وہ مال اس سے کہنے لگا:’’ تو مجھے ملامت نہ کر ، کیا تو وہی نہیں کہ دنیاداروں کی نظروں میں حقیر تھا؟ میں نے تیری عزت بڑھائی۔ میری ہی وجہ سے تیری رسائی بادشاہوں کے دربار تک ہوئی ورنہ غریب ونیک لوگ تو وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے، میری ہی وجہ سے تیرا نکاح شہزادیوں اور امیر زادیوں سے ہوا۔ ورنہ غریب لوگ ان سے کہا ں شادی کر سکتے ہیں۔ اب یہ تو تیری بدبختی ہے کہ تو نے مجھے شیطانی کاموں میں خرچ کیا ۔اگر تو مجھے اللہ عزوجل کے کاموں میں خرچ کرتا تو یہ ذلت ورسوائی تیرا مقدر نہ بنتی۔کیا میں نے تجھ سے کہا تھا کہ تو مجھے نیک کاموں میں خرچ نہ کر؟ آج کے دن میں نہیں بلکہ تو زیادہ ملامت ولعنت کا مستحق ہے ۔‘‘

             اے ابن آدم !بے شک میں اورتُودونوں ہی مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں۔ پس بہت سے لوگ ایسے ہیں جونیکی کی راہ پرگامزن ہیں اور بہت سے گناہوں میں مستغرق ہیں۔( امام ابن جوزی علیہ رحمۃ اللہ القوی  فرماتے ہیں :)’’گویا مال ہر شخص سے اسی طرح کہتا ہے، لہٰذا مال کی برائیوں سے بچ کر رہواور اسے نیک کاموں میں خرچ کرو۔‘‘

؎  اجل نے نہ کسرٰی ہی چھوڑا نہ دارا                                             اسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا

ہر اک لے کے کیا کیا نہ حسرت سدھارا                                      پڑا رہ گیا سب یونہی ٹھاٹھ سارا

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے                                                     یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

حکایت نمبر19:                                 

 دو بادشاہ،ساحل سمندر پر

            حضرت سیدنا عبدالرحمن بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں :’’ پہلی اُمتو ں میں ایک بادشاہ تھا ۔ خوب شان وشوکت سے اس کے دن رات گزر رہے تھے۔ ایک دن اس کی قسمت کا ستارہ چمکا اور وہ اپنی آخرت کے بارے میں غور وفکر کرنے لگا، اور سوچنے لگا کہ میں جن دنیاوی آسائشو ں میں گم ہو کر اپنے رب عزوجل کو بھول چکاہوں عنقریب یہ ساری نعمتیں مجھ سے منقطع ہوجائیں گی، میری حکومت وباد شاہت نے تو مجھے اپنے پاک پروردگار عزوجل کی عبادت سے غافل کر رکھا ہے ۔

            چنانچہ وہ رات کی تا ریکی میں اپنے محل سے نکلا،اور ساری رات تیزی سے سفر کرتا رہا۔ جب صبح ہوئی تو وہ اپنے ملک کی سر حد عبور کر چکا تھا۔ اس نے ساحلِ سمند ر کا رخ کیا اور وہیں رہنے لگا۔وہاں وہ اینٹیں بنابنا کر بیچتا،جو رقم حاصل ہوتی اس میں سے

 

 



Total Pages: 412

Go To