Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

 

ہے اور اس کے بغیر بھی جہنم کی آگ سے بچا جاسکتا ہے۔‘‘ توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ عزوجل کی قسم !میں توخوب مجاہدات کرو ں گا اوردن رات اپنے رب عزوجل کی عبادت کروں گا ۔ اگر نجات ہوگئی تو اللہ عزوجل کی رحمت سے ہوگی، اور خدا نخواستہ جہنم میں گیا تو اپنی محنت ومشقت میں کمی کی وجہ سے جاؤں گا ۔‘‘

             پھر جب آپ  رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کا وقت قریب آیا توآپ  رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  زار وقطاررونے لگے ۔لوگو ں نے پوچھا : ’’حضور! آپ  رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اتنا کیوں رورہے ہیں ؟ کیا موت کا خوف آپ کو رلا رہا ہے؟‘‘توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ’’میں کیوں نہ روؤں ،کیا مجھ سے بھی زیادہ کوئی رونے کا حقدارہے ؟خدا عزوجل کی قسم! میں نہ توموت کے خوف سے رو رہاہوں ،نہ ہی اس بات پرکہ دنیا مجھ سے چھوٹ رہی ہے، بلکہ مجھے تو اس بات کا غم ہے کہ میری عبادت وریاضت، راتوں کا قیام اور سخت گرمیوں کے روزے چھوٹ جائیں گے، پھر کہنے لگے: اے میرے پاک پروردگار عزوجل!  دنیا میں غم ہی غم اور مصیبتیں ہی مصیبتیں ہیں اور آخرت میں حساب و عذاب کی سختیاں پھر انسان کو آرام وسکون کیسے نصیب ہو؟‘‘

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

        (۲) حضرت سیدناربیع بن خُثیم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

            حضرت سیدنا علقمہ بن مرثد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :’’حضرت سیدنا ربیع بن خثیم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  بہت بلند مرتبہ بزرگ تھے۔ جب ان کو فالج کا مرض لاحق ہوا تو ان سے کہا گیا:’’ حضور: اگر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  چاہیں تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا علاج کیا جاسکتا ہے۔‘‘یہ سن کر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  نے ارشاد فرمایا: ’’بیشک علاج حق ہے ، لیکن عاد وثمود کیسی بڑی بڑی قومیں تھیں ، ان میں بڑے بڑے ماہر طبیب تھے ، اور ان میں بیماریاں بھی تھیں ، ا ب نہ تو وہ طبیب باقی رہے نہ ہی مریض۔‘‘ اسی طرح جب آ پ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  سے یہ پوچھا جاتا :’’ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  لوگو ں کو وعظ ونصیحت کیوں نہیں کرتے؟‘‘ توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جو اباً ارشاد فرماتے: ’’ـابھی تو مجھے خود اپنی اصلاح کی ضرورت ہے ،پھر میں لوگوں کو کیسے نصیحت کروں ؟انہیں کیسے ان کے گناہوں پر ملامت کروں ؟‘‘ بے شک لوگ اللہ عزوجل سے دو سرو ں کے گناہوں کے بارے میں تو ڈرتے ہیں لیکن اپنے گناہوں کے بارے میں اس سے بے خوف ہیں۔‘‘

             جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا جاتا:’’ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے صبح کس حال میں کی؟‘‘تو ارشاد فرماتے:’’ ہم نے صبح اس حال میں کی کہ اپنے آپ کو کمزور اور گناہ گار پایا، ہم اپنے حصے کا رزق کھاتے ہیں اور اپنی موت کے انتظار میں ہیں۔‘‘


 

 



Total Pages: 412

Go To