Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

خواہ ہوں اور جو مشرک ہیں ، میں ان سے بری ہوں۔ پھر آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہتلوار لے کر میدان کارْ زَار کی طر ف دیوانہ وار بڑھے۔ راستے میں حضرت سیدنا سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی تو فرمایا:’’اے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کہا ں جاتے ہو ؟ اس پاک پرورد گار عزوجل کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میں اُحد پہاڑ کے قریب جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں (پھر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے) واہ جنت کی ہوا کیسی عمدہ،خوشگواراور پاکیزہ ہے۔ باربار یہی کلمات دہراتے رہے(اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے)

            حضرت سیدناسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :’’ جیسا کارنامہ انہوں نے سرانجام دیا ہم ایسا نہیں کر سکتے ،جب آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نعش مبارک کو ڈھونڈا گیا تو ہم نے اسے شہیدوں میں پایا، آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہکے جسم مبارک پر تیروں ،تلواروں اور نیزوں کے ا سّی(80)سے زائد زخم تھے، اور آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہکے اعضاء جگہ جگہ سے کاٹ دیئے گئے تھے ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکو پہچاننابہت مشکل ہوچکاتھا۔پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکی ہمشیرہ نے آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواُنگلیوں کے نشانات سے پہچانا، حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :’’ ہم آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہکودیکھ کر یہ آیت پڑھ رہے تھے:

 مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا

مَاعَاھَدُواللہَ عَلَیْہِج  ( پ۲۱،الاحزاب : ۲۳)

 ترجمۂ کنزالایمان :مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچاکردیاجوعہد اللہ سے کیاتھا ۔

  (صحیح البخاری، کتاب الجھاد، باب قول اﷲ:مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا…الخ، الحدیث۲۸۰۵،ص۲۲۶)

  (السنن الکبری للبیھقی،کتاب السیر، باب من تبرع بالتعرض للقتل۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۱۷۹۱۷،ج۹،ص۷۵۔۷۶)

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

حکایت نمبر9:                                   

عظیم ماں کے عظیم بیٹے

            ایک مرتبہ پتھر تو ڑنے والے چند مزدور حضر ت سیدنا وھب بن منبہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ’’حضور! جس قدر مصیبتوں کا ہمیں سامنا ہے ۔کیا ہم سے پہلے لوگ بھی کبھی ایسی مصیبتوں سے دو چار ہوئے؟‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کی یہ بات سن کر ارشاد فرمایا:’’اگر تم اپنی مصیبتوں اور اپنے سے سابقہ لوگوں کے مصائب کا موازنہ کرو تو تمہیں ان کے مصائب کے سامنے اپنی مصیبتیں ایسے محسوس ہوں گی جیسے آگ کے مقابلے میں دُھواں (یعنی ان کی مصیبتیں آگ اور تمہاری مصیبتیں دھوئیں کی طرح ہیں ) پھر آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہنے فرمایا :’’بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی، جس کانام سارہ تھا،اس کے سات بیٹے تھے۔

 



Total Pages: 412

Go To