Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

ایسا لگ رہا تھا کہ شاید یہ ابھی فوت ہوجائے گا۔ چکی والا مجھے بڑی غضبناک نظر وں سے گھوررہا تھا، میں فورا ً باہر چلا آیا۔ پھر ظہر کے وقت دو بارہ وہاں گیا تو دیکھا کہ ابھی تک اس کی ایسی ہی حالت ہے۔ مغر ب تک میں اس کے پاس رہا، پھر واپس چلا آیا اسے ابھی تک ہوش نہ آیا تھا ۔ وہ رات میں نے اتنی پریشانی اور غم کے عالَم میں گزاری کہ اس سے قبل کبھی مجھے اتنی پریشانی نہ ہوئی تھی۔صبح ہوتے ہی میں اس کے پاس پہنچا تو وہ اپنے گھر کے مشرقی حصے میں بیٹھا تھا ۔ اس نے جسم کے زخمی حصوں پر ایک پرانا کپڑا باندھا ہوا تھا۔مجھے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا اور آگے بڑھ کر یہ کہتے ہوئے میرا استقبال کیا : ’’ اے میرے محسن! تمہاری تشریف آوری کا شکر یہ،اللہ عزوجل تم پر رحم فرمائے اوراپنی حفظ واما ن میں رکھے۔‘‘  وہ مجھے اسی طرح دعائیں دیتا رہا، میں کچھ دیر وہاں بیٹھا اور پھر خوشی خوشی واپس چلا آیا ۔‘‘

 {اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

حکایت نمبر198:                                

 دو ولیوں کی ملاقات

            حضرت سیدنا شعیب بن حرب علیہ رحمۃالرب سے منقول ہے :’’ ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا سفیان بن سعید ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی کے ہمراہ ’’ کوفہ‘‘سے’’ مصیصہ‘‘ حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم کی زیارت کے لئے گیا۔ ہم نے ’’مصیصہ‘‘ پہنچ کر حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم کے بارے میں دریافت کیا تو لوگو ں نے بتایا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجد میں ہونگے۔ ہم جامع مسجد پہنچے توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مسجد میں لیٹے ہوئے پایا۔ میں نے قریب جا کرآپ کو بیدارکیا اورکہا:’’ حضور! اٹھئے اوردیکھئے کہ آپ کے دوست حضرت سیدنا سفیان بن سعید ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی آپ سے ملنے آئے ہیں۔‘‘اتناسنتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک جھٹکے سے اٹھے اور خوش ہوتے ہوئے حضرت سیدنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی کو گلے سے لگایا ۔ پھر دونوں دوست بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے ۔

            میں نے اور حضرت سیدنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے تین دن سے کچھ نہ کھایا تھا ۔ حضرت سیدنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم سے عرض کیـ:’’اے ابو اسحاق (علیہ رحمۃ اللہ الرزاق) ! ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیے کہ جس کے ذریعے ہم حلال رزق حاصل کر سکیں۔‘‘آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’ آؤ! ہم کھیتی کاٹنے چلتے ہیں۔‘‘


 

 



Total Pages: 412

Go To