Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

            حضرت سیدنا ابرہیم خواص علیہ رحمۃ اللہ الرزاق فرماتے ہیں :’’اس نوجوان کی یہ بات سن کر میں شرم سے پانی پانی ہوگیا اور  اپنے آپ کو سب سے زیادہ حقیر سمجھنے لگا، پھر میں نے وہ درہم جمع کرنا شروع کر دیئے۔میں بکھرے ہوئے دراہم اٹھا رہا تھا اوروہ نوجوان میر ی طرف دیکھ رہا تھا۔آج میری نظروں میں اس سے زیادہ معزز کوئی نہ تھا۔وہ مجھے سب سے زیادہ متقی اورپرہیز گار  نظر آ رہا تھا ۔

   {اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

حکایت نمبر186:                                         

  ایک غریب الوطن

            حضرت سید نا علی بن محمد علیہ رحمۃ اللہ الصمد فرماتے ہیں ، میں نے حضرت سیدنا ابراہیم خواص علیہ رحمۃ اللہ الرزاق کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’میں تقریباً سترہ سال تک جنگلوں اور صحراؤں میں پھرتا رہا اورمختلف مقامات پر اپنے ربّ  عزوجل کی عبادت کرتا رہا ۔ ان سترہ سالوں میں مجھے جو سب سے زیادہ عجیب واقعہ پیش آیا وہ یہ تھا :’’ایک مرتبہ میں نے جنگل میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے دونوں ہاتھ پاؤں کٹے ہو ئے تھے اور وہ گھِسٹ گھِسٹ کر چل رہا تھا ۔ اس کے علاوہ بھی وہ بہت سی مشکلات سے دوچار تھا۔ میں اسے دیکھ کر بہت حیران ہو ا اور مجھے اس پر ترس آنے لگا، میں نے قریب جا کر اسے سلام کیا ،اس نے میرا نام لے کر جواب دیا۔ اس کے منہ سے اپنا نام سن کر مجھے بڑی حیرت ہوئی ،میں نے اس سے پوچھا :’’ آپ سے یہ میری پہلی ملاقات ہے، پھر آپ نے میر انام کیسے جان لیا؟‘‘

            تووہ کہنے لگا:’’جو ذات تجھے میرے پاس لائی ہے اسی نے مجھے تمہاری پہچان کرادی ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’آپ نے بالکل بجا فرمایا، واقعی میرا پروردگار عزوجل ہرچاہے پر قادر ہے۔‘‘ پھر میں نے اس سے پوچھا: ’’آپ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جانے کا ارادہ ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’میں شہر ’’بخارا ‘‘سے آرہا ہوں اور’’ حرمین طیبین‘‘ کی طرف جارہا ہوں۔‘‘یہ سن کر مجھے بڑا تعجب ہوا کہ نہ ا س شخص کے ہاتھ ہیں نہ پاؤں۔ پھر یہ بخارا سے یہاں تک کیسے پہنچا اوراب یہ مکہ مکرمہ(زادھا اللہ شرفاًوتعظیماً) تک جانا چاہتا ہے جو یہاں سے کافی فاصلے پر ہے، یہ وہاں تک تنِ تنہا کیسے پہنچے گا؟میں انہیں خیا لات میں گم بڑی حیرت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

            اس شخص نے میری طرف جلال بھری نگاہ ڈالی اور کہنے لگا:’’ اے ابراہیم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ !کیا تجھے اس بات پرتعجب ہورہا ہے کہ قادر وقدیر پروردگار عزوجل مجھ جیسے ضعیف واپاہج کو یہاں تک لے آیا۔‘‘اتنا کہنے کے بعد اس شخص کی آنکھوں سے سیلِ


 

 



Total Pages: 412

Go To