Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حضرت سیدنا شیبان علیہ رحمۃ اللہ المنان کی یہ حکمت بھری باتیں سن کر امیر المؤمنین خلیفہ ہارو ن الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید اور ان کے ساتھی زارو قطا ر رونے لگے ۔ پھر امیر المؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عرض کی:’’کچھ اور نصیحت فرمایئے ۔‘‘آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ’’ان پر عمل کر لو یہ تمہارے لئے کا فی ہیں۔‘‘ اتنا کہنے کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امیر المؤمنین کے پاس سے تشریف لے گئے۔‘‘

 {اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

حکایت نمبر140:                         

ظلم کا انجام

            حضرت سیدنا عبدالمُنعِم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والدسے اور وہ حضرت سیدناوہب علیہ رحمۃ اللہ الاحد سے روایت کرتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک ظالم ومغروربادشاہ رہا کر تا تھا ۔ اس نے ایک عظیم الشان محل بنوایا اور اس کی تعمیر پرکافی مال خرچ کیا ، جب تعمیر مکمل ہوچکی تو اس نے ارادہ کیا کہ میں سارے محل کا دورہ کروں او ردیکھوں کہ یہ میری خواہش کے مطابق بنا ہے یا نہیں۔ چنانچہ با دشاہ نے اپنے چند سپاہیوں کو ساتھ لیا اور محل کو دیکھنے چل پڑا۔ا ندر سے دیکھنے کے بعد اس نے محل کے بیرونی حصوں کو دیکھنا شروع کیا اور محل کے اردگرد چکر لگانے لگا ۔ایک جگہ پہنچ کر وہ رک گیا اور ایک جھونپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا: ’’یہ ہمارے محل کے ساتھ جھونپڑی کس نے بنائی ہے ؟‘‘ سپاہیوں نے جواب دیا:’’ چند روزسے یہاں ایک مسلمان بوڑھی عورت آئی ہے ، اس نے یہ جھونپڑی بنائی ہے اوروہ اس میں اللہ عزوجل کی عبادت کرتی ہے۔‘‘

            جب بادشاہ نے یہ سنا تو بڑے مغرورانہ انداز میں بولا:’’ اس غر یب بڑھیاکویہ جرأ ت کیسے ہوئی کہ ہمارے محل کے قریب جھونپڑی بنائے ، اس جھونپڑی کو فوراً گرا دو ۔‘‘ حکم پاتے ہی سپاہی جھونپڑی کی طر ف بڑھے،بڑھیا اس وقت وہاں موجود نہ تھی ۔ سپاہیوں نے آن کی آن میں اس غریب بڑھیا کی جھونپڑی کوملیا میٹ کر دیا۔ بادشاہ جھونپڑی گر وانے کے بعد اپنے دوستوں کے ہمراہ اپنے نئے محل میں چلا گیا ۔

            جب بڑھیا واپس آئی تو اپنی ٹوٹی ہوئی جھونپڑی کو دیکھ کر بڑی غمگین ہوئی اور لوگو ں سے پوچھا :’’ میری جھونپڑی کس نے گرائی ہے ۔‘‘ لوگو ں نے بتا یا :’’ ابھی کچھ دیر قبل بادشاہ آیا تھا، اسی نے تمہاری جھونپڑی گروائی ہے ۔‘‘ یہ سن کر بڑھیا بہت غمگین ہوئی اور آسمان کی طر ف نظر اٹھا کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں یوں عرض گزار ہوئی: ’’اے میرے پاک پرور دگار عزوجل !جس


 

 



Total Pages: 412

Go To