Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

کرتے رہو ۔‘‘ یہ سن کر حضرت سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر تشریف لے آئے۔

             آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے بیٹے کی وجہ سے بہت پریشان تھیں ، جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ حضور نبی ٔ کریم ،رء ُوف رحیمصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے ارشادفرمایا ہے کہ’’ لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمکی کثرت کرو۔‘‘تو دو نوں نے لا حول شریف پڑھنا شرو ع کردیا،ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ دروازے پر کسی نے دستک دی۔ جب باہر جاکر دیکھا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیٹا سامنے موجود تھا اور اس کے ساتھ کافرو ں کی چار ہزار بکریاں بھی تھیں۔ ان کے بیٹے نے بتا یا کہ دشمنوں نے مجھے قید کرلیا اور مجھ سے بکریاں چروانے لگے ،آج میں نے دشمن کو غافل پایا تو ان کی بکریاں لے کر وہاں سے بھاگ آیا، انہیں میرے بھاگنے کی خبر تک نہ ہوئی ۔

            اپنے بیٹے کو اپنے پاس دیکھ کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بہت خوش ہوئے اور حضور نبی ٔ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی:’’ میرا بیٹا دشمن کی قید سے بھاگ آیا ہے اور ان کی چار ہزار بکریاں بھی ساتھ لایا ہے ،کیا یہ بکریاں ہمارے لئے حلال ہیں ؟ ‘‘توحضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے فرمایا: ’’ہاں (یہ تمہارے لئے حلال ہیں ) ۔‘‘

            اس وقت سورۂ طلاق کی مندرجہ ذیل آیت مبارکہ نازل ہوئی :

وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا0 وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُط وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَھُوَحَسْبُہٗطاِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖطقَدْجَعَلَ اللہُ لِکُلِّ شَیْئٍ قَدْرًا0    ۲۸،الطلاق:۳،۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گااوراسے وہاں سے روزی دے گاجہاں اس کا گمان نہ ہواور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے بیشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھاہے۔

(تفسیرقرطبی،سورۃ الطلاق،تحت الآیۃ:’’وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَُ۔۔۔الٰی۔۔ لَا یَحْتَسِبُ‘‘،ج ۱۷،ص۱۴۳۔۱۴۴)

مذکورہ آیتِ کریمہ کے فوائد:

            یہ آیتیں بڑی ہی بابر کت اور عظمت والی ہیں۔ ان کے متعلق سرکارِ دو عالم ، نورِ مجسَّم ،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے ارشادفرمایا:’’ جو شخص ا س آیت کو پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لئے شبہاتِ دُنیا، غمراتِ موت اوربروزِ قیامت سختیوں سے خلاصی کی راہ نکالے گا۔‘‘ اور اس آیت کی نسبت نبی ٔ کریم ،رء ُوف رحیم   صلَّی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے یہ بھی فرمایا: ’’میرے علم میں ایک ایسی آیت ہے جسے لوگ محفو ظ کرلیں تو ان کی ہر ضرورت وحاجت کے لئے کافی ہے ۔تفسیر خزائن العرفان،سورۃ الطلاق، تحت الآیۃ:۲۔۳)

            (یہ آیت مبارکہ نہایت مُجرّب ہے جسے کوئی پریشانی ہو، دنیا وی تکالیف کا سامنا ہو، فکر معاش دامن گیر ہو، دشمن کا خوف ہو یا


 

 



Total Pages: 412

Go To