Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حکایت نمبر127:                          

ایک مستجاب الدعوات بزرگ

            حضرت سیدنا محمد بن عبدالعزیز بن سلمان عابد علیہ رحمۃ اللہ الواجد فرماتے ہیں ،میں نے ایک نیک شخص کویہ فرماتے ہوئے سنا:’’ ایک مرتبہ مجھے حضرت سیدنا عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ المجید نے اپنے پاس بلایا ۔میں اس وقت کچھ غمگین تھا لہٰذا اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکا ۔پھر جب میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:’’خیر یت تو تھی، کل تم آئے نہیں۔‘‘ میں نے کہا :’’ہا ں ! خیر یت تھی، اللہ عزوجل جس حال میں رکھے ہم تو اس کی رضا پر راضی ہیں ، کل میں گھر والوں کو خوردونوش کاسامان مہیا کرنے کے لئے مزدوری کی تلاش میں تھا اس لئے حاضرِ خدمت نہ ہوسکا۔‘‘

             آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:’’ کیا تمہیں کل مزدوری ملی؟‘‘ میں نے کہا: ’’نہیں۔‘‘ تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے  ارشاد فرمایا: ’’آؤ! ہم اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں ، وہ تمام جہانوں کو رزق عطا فرمانے والاہے ،آؤ! ہم اسی کریم ذات سے رزق کے لئے دعا کرتے ہیں۔‘‘ اتنا کہنے کے بعد حضرت سیدناعبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ المجید نے دعا کی اورمیں آمین کہتا رہا،پھر میں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  آمین کہنے لگے ۔‘‘خدا عزوجل کی قسم! ابھی ہم دعا سے فارغ بھی نہ ہونے پائے تھے کہ ہمارے کمرے میں درہم و دینار گرنا شر وع ہوگئے ۔یہ دیکھ کر حضرت سیدنا عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ المجید نے فرمایا :’’ اے ابراہیم ! کیا تجھے اتنا کافی ہے یاکچھ اور بھی چا ہئے؟ ‘‘اتنا کہنے کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  وہاں سے تشریف لے گئے اور میں نے جب وہ درہم ودینار جمع کئے تو سو درہم اور سو دینار تھے ۔

            حضرت سیدنا محمد بن عبد العزیز علیہ رحمۃ اللہ المجید فرماتے ہیں کہ میں نے اس صالح عا بد شخص سے پوچھا کہ تم نے اس رقم کا کیا کیا ؟‘‘ اس نے جواب دیا:’’ میں نے اپنے اہل وعیال کے لئے ا س رقم سے ایک ہفتے کا راشن خرید کر ان کے حوالے کردیاتاکہ میں اہل وعیال کی طر ف سے بے فکر ہوجاؤں اور پھر دل لگا کر اللہ عزوجل کی عبادت کرو ں اور کوئی چیز میرے اور میرے رب عز وجل کے درمیان حائل نہ ہو ۔‘‘ پھر میں راہِ خدا عزوجل کا مسافر بن گیا ۔

            حضرت سیدنا محمد بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ المجید فرماتے ہیں :’’ خدا عزوجل کی قسم! یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ عزوجل

بے حساب رزق عطا فرماتا ہے ۔‘‘

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷


 

 



Total Pages: 412

Go To