Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

ہوئی تھی۔میں نے اسے سلام کیا اس نے جواب دیا اور پوچھا :’’ بیٹا! تم کہاں سے آرہے ہو اور کہاں کا اِرادہ ہے؟ ‘‘میں نے بتایا: ’’میں بیت المقدس سے آرہا ہوں اور فلاں گاؤں کسی کام کے سلسلے میں جا رہا ہوں۔‘‘ اس بوڑھی عورت نے پھر پوچھا: ’’جہاں سے تم آئے ہو اور جہاں جانے کا تمہارا ارادہ ہے ان دونوں علاقوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟‘‘ میں نے کہا: ’’تقریباً! 18 میل کا فاصلہ ہوگا ۔‘‘ وہ کہنے لگی : ’’بیٹے!پھر تو تمہارا کام بہت ضروری ہوگا جس کے لئے تم نے اتنی مشقت برداشت کی ہے؟‘‘ میں نے کہا :’’جی ہاں !مجھے واقعی بہت ضروری کام ہے۔‘‘ اس نے پوچھا :’’تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘ میں نے کہا :’’عثمان۔ ‘‘وہ کہنے لگی: ’’اے عثمان ! تم جس گاؤں میں اپنے کام سے جا رہے ہو اس کے مالک سے عرض کیوں نہیں کرتے کہ وہ تمہیں تھکا ئے بغیرتمہاری حاجت پوری کردے اور تمہیں سفر کی صعوبتیں برداشت نہ کرنی پڑیں۔‘‘

             مَیں اس کلام سے اس ضعیف عورت کی مُراد نہ سمجھ سکا اور کہا:’’ میرے اور اس بستی کے مالک کے درمیان کوئی خاص تعلق نہیں کہ وہ میری حاجت کو اس طر ح پورا کردے ۔‘‘ اس عورت نے پھر پوچھا:’’ اے عثمان !وہ کون سی شے ہے جس نے تجھے اس گاؤں کے مالکِ حقیقی کی معرفت سے نابلد رکھا ہے اور تمہارا اس مالک سے تعلق منقطع ہوگیا ہے ۔‘‘

             اب مَیں اس بوڑھی عورت کی مراد سمجھ گیاکہ یہ مجھے کیا سمجھا نا چاہتی ہے یعنی یہ میری توجہ اس بات کی طرف دلا رہی ہے کہ خالق حقیقی عزوجل سے اپنا تعلق مضبوط کیوں نہیں رکھا اورتُو اس کی معرفت میں ابھی تک کامل کیوں نہیں ہوا؟جب مجھے اس کی بات سمجھ آئی تو میں رونے لگا ۔اس بڑھیا نے پوچھا :’’اے عثمان! تجھے کس چیز نے رُلایا؟کیا کوئی ایسا کام ہے کہ تُونے و ہ سرانجام دیا اور اب تُو اسے بھول گیا یا پھر کوئی ایسی بات ہے کہ پہلے تو اسے بھولا ہوا تھا اب وہ تجھے یاد آگئی ہے؟‘‘ میں نے کہا:’’واقعی اب تک میں غفلت میں تھااور اب خوابِ غفلت سے بیدار ہوچکاہوں۔‘‘ یہ سن کر اس عورت نے کہا:’’ شکر ہے اس پاک پروردگار عزوجل کا جس نے تجھے غفلت سے بیدار کیاا وراپنی طرف راہ دی ۔‘‘

            اے عثمان!’’کیا تم اللہ عزوجل سے محبت کرتے ہو ؟ ‘‘میں نے کہا:’’جی ہاں ! میں اس پاک پروردگار عزوجل سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ اس نے پھر پوچھا: ’’کیا تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو؟‘‘میں نے کہا:’’ اللہ عزوجل کی قسم! میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں۔‘‘

             بڑھیا نے کہا :’’ اے عثمان! جس پاک ذات سے تم نے محبت کی ہے کیا تم جانتے ہو کہ اس نے تمہیں کس کس حکمت سے نواز ا او رکونسی کونسی بھلائیاں عطا فرمائیں ؟‘‘ میں اس بات کا جواب نہ دے سکااور خاموش رہا۔اس نے کہا: ’’اے عثمان!شاید تُوان لوگو ں میں سے ہے جو اپنی محبت کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں اور لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے ۔‘‘اس پر بھی میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا اور میں نے رو نا شروع کردیا مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا جواب دو ں۔

           


 

 



Total Pages: 412

Go To