Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

اگرمزید یہاں رہا تو ریا کاری یا غرور و تکبرجیسے فتنوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔چنا نچہ میں نے اس مسافر خانہ میں جانا چھوڑ دیا اور تین ماہ کسی اور جگہ رہائش رکھی۔اب اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے میں اپنے دل کو پاک وصاف اورمطمئن پاتااور میری حالت ایسی ہوچکی تھی کہ مجھے لوگوں کی باتوں سے بالکل اُنس بھی نہ رہا۔

             ایک مرتبہ میں مقام’’ مدیف ‘‘ کی طر ف گیا اور راستے میں بیٹھ گیا ۔ اچانک میری نظر ایک نوجوان پر پڑی جو’’ لامیس ،، سے’’ طر طوس ‘‘کی جانب جارہا تھا ۔ میرے پاس کچھ رقم تھی جو میں نے اس وقت سے بچا کر رکھی تھی جب میں لکڑیاں بیچا کرتا تھا۔ میں نے سوچا، مَیں تو حلال پرندوں کا گو شت کھاکر گزارہ کر لیتا ہوں ،کیا ہی اچھا ہوا گر میں یہ رقم اس مسافر کو دے دو ں تا کہ جب یہ طرطو س شہر میں داخل ہو تو وہاں سے کوئی چیز خرید کرکھالے۔ اس خیال کے آتے ہی میں اس نوجوان کی طرف بڑھا او ررقم کی تھیلی نکالنے کے لئے جیسے ہی میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس مسافرنوجوان کے ہونٹوں نے حرکت کی اور میرے آس پاس کی ساری زمین سونا بن گئی۔ قریب تھا کہ اس کی چمک سے میری آنکھوں کی رو شنی ضائع ہوجاتی، مجھ پر یکدم ایسی وحشت طاری ہوئی کہ میں آگے بڑھ کراسے سلام بھی نہ کر سکا اور وہ وہاں سے آگے گزر گیا ۔پھر کچھ عرصہ بعد اس عظیم نوجوان سے دوبارہ میری ملاقات ہوئی ،وہ طر طوس کے علاقے میں ایک بُر ج کے نیچے بیٹھا تھا او راس کے سامنے ایک برتن میں پانی رکھا ہوا تھا۔ میں اس کے پاس گیا، سلام کیا اوردرخواست کی:’’حضور! مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔‘‘ میری اس بات پرنوجوان نے اپنا پاؤں پھیلا یا اوراس  برتن کوالٹا دیا جس میں پانی تھا ،سارا پانی بہہ گیا اوراسے زمین نے فوراً جذب کرلیا ۔پھر اس نوجوان نے کہا: ’’فضول گوئی نیکیوں کو اس طر ح چو س لیتی ہے جس طر ح خشک زمین پانی کو چُو س لیتی ہے ، پس اب تم جاؤ تمہارے لئے اتنی ہی نصیحت کافی ہے ۔ ‘‘

 {اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

؎   میں بے کار با تو ں سے بچ کر ہمیشہ                                               کر وں تیری حمد وثناء یا الٰہی عزوجل !

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

حکایت نمبر118:                  گستاخِ صحابہ کا عبرتناک انجام

            حضرت سیدناخلف بن تمیم علیہ رحمۃ اللہ العظیم فرماتے ہیں ، مجھے حضرت سیدناابوالحصیب بشیر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  نے بتایا کہ میں تجارت کیا کرتا تھا اور اللہ عزوجل کے فضل وکرم سے کافی مال دار تھا۔ مجھے ہر طر ح کی آسائشیں میسر تھیں اور میں اکثر ایران کے شہروں میں رہا کرتا تھا ۔

           

 



Total Pages: 412

Go To