Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

لگ رہا تھا جیسے اس کی تمام عمارتوں کو سونے چاندی سے ڈھانپ دیا گیا ہو،اس کی عمارتیں ایسی تھیں جیسی ہم نے کبھی نہ دیکھی تھیں ، اس بستی میں ایک سفید محل تھا جس کی سفیدی خالص برف جیسی تھی اور اس کا صحن بھی اسی طرح سفید تھا،وہاں پر بہترین لباس میں ملبوس چند کنواری خوبصورت نوجوان لڑکیاں موجود تھیں ،ان کے درمیان میں ایک نہایت ہی حسین وجمیل دوشیزہ تھی جس کا حُسن ان سب لڑکیوں پر غالب تھا ،دوسری لڑکیاں اس کے گر د گھوم رہی تھیں اور وہ دف بجاتے ہوئے یہ شعرگنگنارہی تھی:

مَعْشَرَ الْحُسَّادِ مُوْتُوْا کَمَدًا                                                                                                                                                                                  کَذَا تَکُوْنُ مَا بَقِیْنَا أَبَدَا

غُیِّبَ عَنَّا مَنْ نَعَانَا حَسَدًا                                                                                                                                                                                               وَکَانَ وَحْدَہٗ اِلتَقٰی الأَنْکَدَا

                ترجمہ:اے حسد کرنے والو! تم شدت غم سے مر جاؤ، ہم تو اسی طر ح عیش وعشرت سے زندگی گزاریں گی ، جو ہم سے حسد کرتے ہوئے ہمیں موت کی خبر دیتا ہے وہ خود ہی غمگین اور محروم ہو کر پھینک دیا جاتا ہے (یعنی مرجاتا ہے)۔

            وہ دو شیزہ اِنہی اَشعار کی تکرار کر رہی تھی، وہاں اس بستی میں ایک بہترین حوض بنا ہواتھا،جس میں صاف شفاف پانی تھا، قریب ہی ایک چھوٹی سی بہترین چراگاہ تھی جس میں بہترین قسم کے جانور چر رہے تھے ، عمدہ نسل کے گھوڑے، اُونٹ ، گائے اور گھوڑے کے چھوٹے چھوٹے بچے وہاں موجود تھے ، قریب ہی ایک گول محل بنا ہوا تھا۔ ہم اس جگہ کا حسن وجمال اور زیب وزینت دیکھ کر محو ِحیرت تھے ۔ ہمارے بعض رفقاء نے کہا:’’ ہم کچھ دیر یہاں قیام کر لیتے ہیں تا کہ یہا ں کے مناظر سے لُطف اندوز ہوسکیں اورہمیں اس خوبصورت بستی میں کچھ دیر آرام میسر آجائے۔ چنانچہ ہم نے وہیں اپنے کجاوے اُتارے (اور سامان کو ترتیب دینے لگے) اتنے میں محل کی جانب سے کچھ لوگ آئے،ان کے پاس چٹائیاں تھیں ، انہوں نے آتے ہی وہ چٹا ئیاں بچھادیں پھر ان پر انواع واقسام کے کھانے چُن دیئے،پھر ہمیں کھانے کی دعوت دی۔ ہم نے کھانا کھایا، اس کے بعد کچھ دیر آرام کیا اور وہاں کے نظاروں سے لُطف اَندوز ہوتے رہے پھر ہم نے وہا ں سے کوچ کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے کجاوے کسنے لگے ۔

            ہمیں جاتادیکھ کر محل کی جانب سے چند لوگ آئے اور کہا : ’’ہمارا سردار تمہیں سلام کہتا ہے اور اس نے پیغام بھجوایا ہے کہ مَیں معذرت خواہ ہوں کہ آپ سے ملاقات نہ کرسکا اور کَمَا حَقُّہٗ آپ کی خدمت نہ کرسکا ،ان دنوں ہمارے ہاں ایک جشن کی تیاری ہو رہی ہے جس کی مصروفیت اتنی زیادہ ہے کہ میں آپ لوگوں سے ملاقات نہیں کرسکتا،برائے کرم! میری اس تقصیر کو معاف فرمانا، آپ لوگ ہمارے مہمان ہیں ، آپ جب تک چاہیں ہمارے ہاں قیام فرمائیں۔‘‘

            با دشاہ کا یہ پیغام سن کر ہم نے ان لوگو ں سے کہا:’’ اب ہم یہاں مزید نہیں ٹھہرسکتے، ہماری منزل ابھی بہت دور ہے، ہم اب جانا چاہتے ہیں ،اللہ عزوجل  تمہیں اس مہمان نوازی کی اچھی جزا ء اور بر کتیں عطا فرمائے ۔‘‘

             جب ہم جانے لگے تو ان خادموں نے ہمیں بہت ساکھانا اور کافی سازوسامان دیا او راتنا زادِ راہ دیا کہ وہ ہمارے تمام سفر


 

 



Total Pages: 412

Go To