Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

پر لکھ دیا،جب بھی کوئی مسافر آتا اور وہ اس نام کو دیکھ کر اس کے متعلق سوال کرتا تو میں آسمان کی طر ف اپنی ہتھلیاں اٹھاتا اور کہتا : ’’اے میرے سردار !میرا یہ معاملہ ہے۔ دو دن اسی طر ح گزر گئے تیسری صبح کسی نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا میں نے پوچھا:’’کون ہے ؟‘‘ کہا:’’ میں تمہاری سابقہ لونڈی کا مالک ہوں میں نے ہی تم سے یہ لونڈی خریدی تھی، اب میں بخوشی یہ لونڈی تمہیں دیتا ہوں ،یہ لواپنی لونڈی سنبھالو! اللہ عزوجل اس میں بر کت عطا فرمائے ،میں نہ تو تم سے اس کی قیمت لو ں گا اور نہ ہی اس پر کسی قسم کا نفع ،میں یہ لونڈی تمہیں تحفہ میں پیش کرتا ہوں۔‘‘میں نے کہا: ’’آخر تم یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہو ؟‘‘ اس نے کہا : ’’کل رات مجھے خواب میں کسی کہنے والے نے کہا :’’ یہ لونڈی محمد بن علی ابن عبیدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو واپس کردو۔‘‘

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

حکایت نمبر 88:                                                   

قصاب کی توبہ

            حضرت سیدنا بکر بن عبد اللہرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :’’ بنی اسرائیل کا ایک قصاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عا شق ہوگیا۔ اتفاق سے ایک دن لونڈی کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا ،قصاب کو موقع مل گیا اوروہ بھی اس لونڈی کے پیچھے ہولیا ، جب لونڈی جنگل سے گزری تو اچانک قصاب نے سامنے آکر اسے پکڑ لیا اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے لگا۔جب اس لونڈی نے دیکھا کہ اس قصاب کی نیت خراب ہے تو اس نے کہا:

            ’’اے نوجوان تُو اس گناہ میں نہ پڑ !حقیقت یہ ہے کہ جتنا تُومجھ سے محبت کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ میں تیری محبت میں گر فتار ہوں لیکن مجھے اپنے مالک حقیقی عزوجل  کا خوف اس گناہ کے اِرتکاب سے روک رہا ہے ۔‘‘

             اس نیک سیرت اور خوفِ خدا عزوجل  رکھنے والی لونڈی کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاثیر کا تیربن کر اس قصاب کے دل میں پیوست ہوگئے اور اس نے کہا: ’’ جب تُو اللہ عزوجل  سے اِس قدر ڈر رہی ہے تو مَیں اپنے پاک پرور دگار عزوجل  سے کیوں نہ ڈرو ں ، مَیں بھی تو اسی مالک عزوجل  کا بندہ ہوں ، جا!تو بے خوف ہو کر چلی جا۔‘‘ اتنا کہنے کے بعد اس قصاب نے اپنے گناہوں سے سچی تو بہ کی اور واپس پلٹ گیا ۔

            راستے میں اسے شدید پیاس محسو س ہوئی لیکن اس ویران جنگل میں کہیں پانی کا دور دور تک کو ئی نام ونشان نہ تھا قریب


 

 



Total Pages: 412

Go To