Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

اور دنیا اسے دھوکا دیتی جارہی ہے وہ دنیا پر اعتما د کرتاہے اور دنیا اسے دھوکا دیتی ہے اور اس سے بے وفائی کرتی ہے۔

            افسوس ہے ان لوگوں پر جو دنیا کے دھوکے میں پھنسے ہوئے ہیں۔عنقریب انہیں وہ چیز (یعنی موت ) پہنچنے والی ہے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں اور جس دن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ دن (یعنی قیامت کادن)ان سے بہت قریب ہے۔ جس چیز کووہ پسند کرتے ہیں اور جو محبوب اشیاء ان کے پاس ہیں عنقریب وہ ان تمام چیزوں کو چھوڑ کر اس دارِفانی سے رخصت ہوجائیں گے ۔

            اے لوگو! تم فضول گوئی سے بچتے رہو، کبھی بھی ذکر اللہ عزوجل کے علاوہ اپنی زبان سے کوئی لفظ نہ نکالو، ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے، بے شک دل نرم ہوتے ہیں لیکن فضول گوئی انہیں سخت کردیتی ہے۔

            اور جس شخص کا دل سخت ہوجائے وہ اللہ عزوجل کی رحمت سے محروم ہوجاتا ہے(یعنی اگر تم اللہ عزوجل کی رحمت کے امید وار ہو تو اپنے دلوں کو سختی سے بچاؤ)

            (اے ہمارے پاک پروردگار عزوجل !ہمیں قساوت قلبی کی بیماری سے بچا ،اور ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے معمور رکھ، فضول گوئی سے ہماری حفاظت فرما اورہر وقت اپنا ذکر کرنے والی زبان عطا فرما)

میں بے کار باتوں سے بچ کر ہمیشہ

کروں تیری حمدو ثنا یا الہٰیعزوجل!

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

حکایت نمبر86:                                   شایداِسی میں بھلائی ہو!

             حضرت سیدنا اعمش بن مسروق علیہ رحمۃ اللہ القدوس سے روایت ہے :’’ ایک نیک شخص کسی جنگل میں رہا کرتا تھا  اس مرد صالح کے پاس ایک مرغ، ایک گدھا اور ایک کتا تھا ، مرغ صبح سویرے اسے نماز کے لئے جگاتا، گدھے پر وہ پانی اور دیگر سامان لاد کرلاتا اور کتا اس کے مال ومتا ع اور دیگر چیزوں کی رکھوالی کرتا۔

             ایک دن ایسا ہوا کہ اس کے مرغ کو ایک لومڑی کھاگئی جب اس نیک شخص کو معلوم ہو اتو اس نے کہا : میرے لئے اس میں بہتری ہوگی(یعنی وہ اپنے رب عزوجل کی رضا پر راضی رہااور صبر کا دامن نہ چھوڑا ) لیکن گھر والے اس سے بہت پریشان ہوئے کہ ہمارا نقصان ہوگیا۔چند دن کے بعد ایک بھیڑیا آیا اور اس نے ان کے گدھے کو چیر پھاڑ ڈالا جب گھر والوں کو اس کی اطلاع ملی تو وہ بہت غمگین ہوئے اور آہ وزاری کرنے لگے کہ ہمارا بہت بڑا نقصان ہوگیا۔

 

 


 



Total Pages: 412

Go To