Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

کوئی اور راستہ نہیں۔‘‘

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

حکایت نمبر81:                       

چھوٹی مصیبت نے بڑی مصیبت سے بچالیا

            حضرت سیدنا سعید بن مُسَیب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :’’ ایک مرتبہ حضرت سیدنا لقمان حکیم  علیہ رحمۃ اللہ الرحیم نے اپنے بیٹے کو (نصیحت کرتے ہوئے )فرمایا: ’’اے میرے پیارے بیٹے! جب بھی تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو تُواسے اپنے حق میں بہتر جان اور یہ بات دِل میں بٹھالے کہ میرے لئے اسی میں بھلائی ہے اگر چہ بظاہر وہ مصیبت ہی نظر آرہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ تیرے حق میں بہتر ہوگی۔‘‘

            یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیٹاکہنے لگا : ’’جو کچھ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایامیں نے اس کو سن لیا او راس کا مطلب بھی سمجھ لیا لیکن یہ بات میرے بس میں نہیں کہ میں ہر مصیبت کو اپنے لئے بہتر سمجھوں ، میرا یقین ابھی اتنا پختہ نہیں ہوا ۔‘‘

             جب حضرت سیدنا لقمان حکیم علیہ رحمۃ اللہ الرحیم نے اپنے بیٹے کی یہ بات سنی تو فرمایا:’’ اے میرے بیٹے ! اللہ عزوجل نے دنیامیں وقتاََ فوقتاََ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام مبعوث فرمائے ، ہمارے زمانے میں بھی اللہ عزوجل نے نبی علیہ السلام کومبعوث فرمایا ہے  آؤ، ہم اس نبی علیہ السلام کی صحبتِ بابر کت سے فیضیاب ہونے چلتے ہیں ،ان کی باتیں سن کر تیرے یقین کو تقویت حاصل ہو گی۔‘‘  آ پ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکا بیٹااللہ عزوجل کے نبی  علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لئے تیار ہوگیا ۔

             چنانچہ ان دونوں نے اپنا سامانِ سفر تیار کیا، اور خچروں پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طر ف روانہ ہوگئے ۔ کئی دن ،رات انہوں نے سفر جاری رکھا، راستے میں ایک ویران جنگل آیا وہ اپنے سامان سمیت جنگل میں داخل ہوگئے ،اللہ تعالیٰ نے ان کو جتنی ہمت دی اتنا انہوں نے جنگل میں سفر کیا ، پھر دو پہر ہوگئی ، گرمی اپنے زور پر تھی، گرم ہوائیں چل رہیں تھیں ، دریں اثناء ان کا پانی اور کھانا وغیرہ بھی ختم ہوگیا ، خچر بھی تھک چکے تھے،پیاس کی شدت سے وہ بھی ہانپنے لگے، یہ دیکھ کرحضرت لقمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور آپ کا بیٹا خچروں سے نیچے اتر آئے اورپیدل ہی چلنے لگے۔ چلتے چلتے حضرت سیدنا لقمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بہت دور ایک سایہ اور دھواں سا نظر آیا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے گمان کیا کہ وہاں شاید کوئی آبادی ہے ، اور یہ کسی درخت وغیرہ کاسایہ ہے، چنانچہ


 

 



Total Pages: 412

Go To