Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

ہیں ، اس کا مال ومتاع سب دنیاہی میں رہ جاتا ہے اور اس کامسکن مِٹی کی قبر ہوتی ہے ، اب وہ ہوگا اور اس کے اعمال ہوں گے اور وہ اپنے اچھے اعمال کا محتا ج ہوگا یعنی اسے اپنے کئے ہوئے اچھے اعمال کام آئیں گے باقی تمام دنیاوی معاملات سے اسے کوئی غرض نہ ہوگی جو دنیا وی چیزیں اس نے پیچھے چھوڑیں وہ اسے کچھ نفع نہ دیں گی ،پس اے لوگو ! اللہ عزوجل سے ڈرو اور موت سے پہلے موت کی تیاری کر لو،پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عاجزی کرتے ہوئے فرمایا:’’ خدا کی قسم! میں اپنے آپ کو تم سب سے زیادہ گناہگار سمجھتا ہوں۔‘‘

            اے لوگو! جب بھی مجھے یہ معلوم ہوا کہ تم میں سے کسی کو کوئی حاجت ہے تو میں نے اس کی حاجت پوری کر نے کی بھرپور کوشش کی، اسی طر ح جب بھی تمہیں کسی ایسی چیز کی ضرورت پڑی جو میرے پاس تھی اور میرے اختیار میں تھی تو میں نے اسے کبھی بھی تم سے نہیں روکااور میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں بھی تمہاری ہی طرح زندگی گزاروں اللہ عزوجل کی قسم !اگر میں حکومت وامارت کو ان باتوں کے علاوہ کسی اور غرض کے لئے استعمال کرتا اور حکومت کی وجہ سے دنیاوی عیش وعشرت چاہی ہو تی تو میری زبان اس بیان میں میرا ساتھ نہ دیتی جو میں نے تمہارے سامنے کیا کیونکہ وہ میری حالت سے واقف ہے کہ میں نے حکومت وامارت کو صرف اللہ عزوجل کی مخلوق کی خیر خواہی کے لئے ہی استعمال کیا اور قرآن کریم ہمارے درمیان موجود ہے جو ہمیں سچاقانون بتاتا،ہماری رہنمائی فرماتا، ہمیں اللہ عزوجل کی اطاعت کا حکم دیتا ہے اور اس کی نافرمانی سے روکتا ہے۔

            حضرت سیدنا ابوسلیم الھذلی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :’’ اتنا خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد آپ   رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  نے اپنی چادر اپنے منہ پر رکھی اور رونے لگے، روتے روتے آپ   رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  کی ہچکیاں بندھ گئیں اور آپ اتنا روئے کہ لوگوں نے بھی رونا شروع کر دیا اور یہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  کا آخری خطبہ تھا۔ ‘‘

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

ہزارو ں سال  نرگس  اپنی بے نوری  پہ  روتی  ہے                                            بڑی مشکل سے ہوتا ہے  چمن  میں  دیدہ ورپیدا

 

 

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

 

 

 

 



Total Pages: 412

Go To