Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حکایت نمبر42:                            

شہزادے کی انگوٹھی

            حضرت سیدنا عبداللہ بن الفرج العابد علیہ رحمۃاللہ الماجد  فرماتے ہیں :’’ ایک مرتبہ مجھے کسی تعمیر ی کام کے لئے مزدور کی ضرورت پڑی، میں بازار آیا اور کسی ایسے مزدور کو تلاش کرنے لگا جو میری خواہش کے مطابق ہو، یکایک میری نظر ایک نوجوان پر پڑی جو سب سے آخر میں بیٹھا ہو ا تھا۔ چہرہ شرافت وعبادت کے نور سے چمک رہا تھا ، اس کا جسم بہت ہی کمزور تھا ، اس کے سامنے ایک زنبیل اور رسی پڑی ہوئی تھی،اس نے اُون کاجبہ پہنا ہوا تھا اور ایک موٹی چادر کا تہبند باندھا ہوا تھا ۔

             میں اس کے پا س آیا او رپوچھا:’’ اے نوجوان! کیا تم مزدو ری کرو گے ؟‘‘ کہنے لگا:’’ جی ہاں۔‘‘ میں نے پوچھا : ’’ کتنی اُجرت لوگے ؟ ‘‘اس نے جوا ب دیا:’’ایک درہم اور ایک دانق (یعنی درہم کاچھٹا حصہ) لوں گا۔‘‘ میں نے کہا: ’’ٹھیک ہے ، میرے ساتھ چلو۔‘‘ وہ نوجوان کہنے لگا:’’جیسے ہی مُؤذِّن ظہر کی اذان دے گا میں کام چھوڑ کر نماز کی تیاری کرو ں گا اور نماز کے بعد دوبارہ کام شروع کردوں گا، پھر جب عصر کی اذان ہوگی تو میں فوراًکام چھوڑ کر نماز کی تیاری کروں گا اور نماز کے بعد کام کروں گا،اگر تمہیں یہ شرط منظور ہے تو میں تمہارے ساتھ چلتا ہو ں ورنہ کوئی اور مزدور ڈھونڈ لو۔‘‘ میں نے کہا:’’ مجھے تمہاری یہ شرط منظور ہے ۔ میں اسے لے کر اپنے گھر آیا او ر کام کی تفصیل بتا دی ، اس نے کام کے لئے کمر باندھی اور اپنے کام میں مشغول ہوگیا ۔اورمجھ سے کوئی بات نہ کی۔ جب مؤذن نے ظہر کی اذان دی تو اس نے مجھ سے کہا:’’اے عبداللہ! مؤذن نے اذان دے دی ہے۔‘‘ میں نے کہا:’’آپ جایئے اور نماز کی تیاری کیجئے ۔‘‘ نماز سے فراغت کے بعد وہ عظیم نوجوان دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا اور بڑی دیا نتداری سے احسن انداز میں کام کرنے لگا۔ عصر کی اذان ہوتے ہی اس نے مجھ سے کہا:’’اے عبداللہ! مؤذن اذان دے چکا۔‘‘ میں نے کہا :’’جائیے اور نماز پڑھ لیجئے۔‘‘ نماز کے بعد وہ دوبارہ کام میں مشغول ہوگیا اور غروبِ آفتاب تک کام کرتا رہاپھر میں نے اسے طے شدہ اُجرت دی اور وہ وہاں سے رخصت ہوگیا ۔

            کچھ دنوں کے بعد مجھے دوبارہ مزدور کی ضرورت پڑی تو مجھ سے میری زوجہ نے کہا:’’اسی نوجوان کو لے کر آناکیونکہ اس کے عمل سے ہمیں بہت نصیحت حاصل ہوئی ہے او روہ بہت دیا نتدار ہے، چنانچہ میں بازار گیا تو مجھے وہ نوجوان کہیں نظر نہ آیا۔ میں نے لوگو ں سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے:’’ کیا آپ اسی کمزورو نحیف نوجوان کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جو سب سے آخر میں بیٹھتا ہے ؟‘‘ میں نے کہا:’’جی ہا ں ، میں اسی کے متعلق پوچھ رہا ہوں۔‘‘تو انہوں نے کہا:’’ وہ تو صرف ہفتہ کے دن آتا ہے، اس کے علاوہ کسی دن کام نہیں کرتا۔‘‘ یہ سن کرمیں واپس آگیا اور ہفتے کا انتظار کرنے لگا پھر بروز ہفتہ میں دو بارہ بازار گیا تو میں نے اس پُرکشش وعظیم نوجوان کو اسی جگہ موجود پایا۔ میں اس کے پاس گیا اور اس سے پوچھا:’’ کیا تم مزدوری کرو گے؟‘‘


 

 



Total Pages: 412

Go To