Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                اصطلاحی معنی کے اعتبارسے ظلم فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک گناہ ِ صغیرہ ہے کبیرہ نہیں جیساکہ فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کی تصریح کی ہے، اسی طرح بعض گناہوں کی تفصیل اپنے مقام پرآئے گی جیسے ترک زکوٰۃ کے بیان میں بخل اور لالچ کی اور غیبت کے بیان میں بدگمانی کی تفصیل ذکر کی جائے گی۔

                ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ  میں سے اس بات کہ ’’ دنیا پر خوش ہونا حرام ہے۔ ‘‘  کی تصریح کرنے والوں میں حضرت سیدناامام بغوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہبھی شامل ہیں ، شاید سیدناامام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ نے انہی سے یہ قول لیا اور اس پر یہ اضافہ کر دیا کہ یہ کبیرہ گناہ ہے کیونکہ یہ ایسی برائیوں کا پیش خیمہ ہے جس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ دنیاپرخوش ہونے کی حرمت کا محل اسی صورت میں ہے کہ جب یہ تکبرو فخراور ہم عصرلوگوں کی تحقیر وغیرہ جیسی خرابیوں اور برائیوں پرمشتمل ہو جبکہ اپنی عزت قائم رکھنے، اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو لوگوں کے مال کی محتاجی سے بچانے کے لئے ہو یامحتاجوں کی مددکے لئے ہو تو یہ خوشی محمود ہے، جیسا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے :

 قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ (۵۸)   (پ۱۱، یونس: ۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان:  تم فرماؤ اللہ  ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔

                دوسری بات یہ ہے کہ ان تمام گناہوں کی بنیادبداخلاقی اور دل کی خرابی پرہے لہٰذاہم اپنے اس باب کی ابتدا ان احادیث سے کرتے ہیں جو ان امراض یاان کے متعلقات کی مذمت میں واردہوئیں ۔

بُرے اَخلاق کی تباہ کاریاں

{3}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بداخلاقی عمل کو اس طرح برباد کر دیتی ہے جیسے سرکہ شہدکو خراب کر دیتا ہے۔ ‘‘                  (کشف الخفائ، حرف السین المہملۃ،الحدیث: ۱۴۹۶،ج۱،ص۴۰۵)

{4}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بداخلاقی براشگون ہے، عورتوں کی اطاعت ندامت ہے اور درگزرکرنااچھی عادت ہے۔ ‘‘

 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال،الباب الثانی فی الاخلاق والافعال المذمومۃ، الحدیث: ۷۳۴۳،ج۳،ص۱۷۸)

{5}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بداخلاقی برا شگون ہے اور تم میں بدترین وہ ہے جس کااخلاق سب سے براہے۔ ‘‘                  (تاریخ بغداد،احمد بن عیسٰی، ۲۳۴۱،ج۵،ص۳۱)

{6}…نبی کریم،رؤف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب تم یہ بات سنو کہ کوئی پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس بات کی تصدیق کر دو اور جب یہ سنو کہ کسی شخص نے اپنا اخلاق بدل لیا ہے تو ہر گز اس بات کی تصدیق نہ کرنا کیونکہ بندہ اپنی عادت پر ہی قائم رہتاہے۔ ‘‘  (المسندللامام احمدبن حنبل،حدیث ابی الدردائ،الحدیث: ۲۷۵۶۹،ج۱۰،ص۴۱۹،زال بدلہ ’’ تغیر ‘‘ )

{7}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک ہر گناہ کی توبہ ہے مگر بداخلاق کی توبہ نہیں ، کیونکہ جب وہ کسی ایک گناہ سے توبہ کرتا ہے تو اس سے بڑے گناہ میں پڑ جاتا ہے۔ ‘‘

 (جامع الاحادیث للسیوطی، قسم الاقوال،الحدیث: ۶۰۶۴،ج۲،ص۳۷۵)

{8}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بداخلاقی کے علاوہ ہرگناہ کی توبہ ہے کیونکہ بداخلاق آدمی جب ایک گناہ سے توبہ کرتا ہے تو اس سے بڑے گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ ‘‘                                                                                                        (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال،فصل الترہیب،الحدیث: ۷۳۵۲،ج۳،ص۱۷۸)

{9}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ براشگون بداخلاقی ہے۔ ‘‘

 (المسندللامام احمدبن حنبل، مسند السیدہ عائشہ ، الحدیث: ۲۴۶۰۱،ج۹،ص۳۶۹)

{10}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اگر بداخلاقی انسان  (کی شکل میں ) ہوتی تو وہ شخص سب سے بدصورت ہوتا اور بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے بدکلامی کرنے والا نہیں بنایا۔ ‘‘

 (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال،فصل الترہیب،الحدیث: ۷۳۵۱،ج۳،ص۱۷۸)

{11}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس کا اخلاق برا ہو گا وہ تنہا رہ جائے گا اور جس کے رنج زیادہ ہوں گے اس کا بدن بیمار ہو جائے گا اور جو لوگوں کو ملامت کرے گا اس کی بزرگی جاتی رہے گی اور مروت ختم ہو جائے گی۔ ‘‘             (المطالب العالیۃ ،کتاب البروالصلۃ،باب حسن الخلق،الحدیث:  ۲۶۰۲،ج۷،ص۱۱۶)

{12}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بداخلاق آدمی جنت میں داخل نہ ہوگا ۔ ‘ ‘

  (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی الاحسان الخادم،الحدیث: ۱۹۴۶،ص۱۸۴۷،سییء الخلق بدلہ ’’ سییء الملکۃ ‘‘ )

{13}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لوگ مختلف چیزوں کے سرچشمے ہیں اور باپ دادا کی عادتیں اولاد میں ضرورمنتقل ہوتی ہیں اور بے ادبی بہت بری عادت کی طرح ہے۔ ‘‘

 (شعب الایمان، باب فی الجود والسخائ، الحدیث: ۱۰۹۷۴،ج۷،ص۴۵۵)

{14}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک برااخلاق عمل کو اس طرح خراب کرتاہے جیسے سرکہ شہدکو خراب کرتاہے۔ ‘‘     (جامع الاحادیث للسیوطی،قسم الاقوال ،الحدیث: ۷۰۰۵،ج۳،ص۱۷)

{15}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر