Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{۲}

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ (۱۵)   (پ۱۳،ابراہیم: ۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور انہوں نے فیصلہ مانگا اور ہر سر کش ہٹ دھرم نامراد ہوا۔

{۳}

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ (۳۵)   (پ۲۴، المؤمن: ۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ  یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سر کش کے سارے دل پر۔

{۴}

اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ (۲۳)   (پ۱۴، النحل: ۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک وہ مغرور وں کو پسند نہیں فرماتا۔

{۵}

اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ (۶۰)   (پ۲۴، المؤمن: ۶۰)

 

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھنچتے  (تکبر کرتے)  ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر۔

                تکبر کی مذمت کے بارے میں اور بھی کئی آیات ہیں بہرحال ان پر اکتفاء کرتے ہوئے اب احادیثِ مبارکہ سے اس کی مذمت بیان کی جائے گی۔

تکبرکی مذمت پراحادیثِ مبارکہ

{1}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ ایک شخص اپنا پسندیدہ حلہ یعنی لباس پہنے، کنگھاکرکے اِتراتا ہوا چل رہا تھا کہ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  نے اسے زمین میں دھنسا دیا، اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔ ‘‘      (صحیح البخاری ،کتاب اللباس، باب من جر ثوبہٗالخ،الحدیث: ۵۷۸۹ / ۵۷۹۰،ص۴۹۴)

 {2}…خاتَم ُالْمُرْسَلین، رَحْمۃٌلِّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم سے پچھلی اُمتوں میں سے ایک شخص تکبر سے اپنا تہبند گھسیٹتا ہوا چل رہا تھا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ ‘‘

 (سنن النسائی،کتاب الزینۃ،باب التغلیط فی جرّالازار،الحدیث: ۵۳۲۸،ص۲۴۲۸)

{3}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم سے پہلے کا ایک شخص دو سبز چادریں اوڑھے اِتراتا ہوا نکلا، تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے زمین کو حکم دیا تو زمین نے اسے پکڑ لیا، اب وہ قیامت تک اسی طرح زمین میں دھنستا رہے گا۔ ‘‘                         (المسند للامام احمد بن حنبل،مسند ابی سعید خدری ،الحدیث: ۱۱۳۵۶،ج۴،ص۸۰)

{4}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ایک شخص سرخ جوڑا پہنے اس پر اِترا رہا تھا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اسے زمین میں دھنسا دیا، اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ ‘‘

 (الترغیب والترہیب،کتاب الادب،الترغیب فی التواضع، الحدیث: ۴۴۸۱،ج۳،ص۴۴۰)

 {5}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تکبر سے اپنا تہبند لٹکانے والے پر نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔ ‘‘  (صحیح مسلم،کتاب اللباس،باب تحریم جر الثوب خیلاء ،الحدیث: ۵۴۶۳،ص۱۰۵۱)

{6}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ ‘‘  عرض کی گئی :  ’’ آدمی تو یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتاہے، جبکہ تکبر تو حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نا م ہے۔ ‘‘  (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب تحریم الکبروبیانہ،الحدیث: ۲۶۵،ص۶۹۴)

{7}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مگر تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کی تحقیر کا نام ہے۔ ‘‘     (المستدرک ،کتاب الایمان، باب اللہ  جمیل ویحب الجمال،الحدیث: ۷۷،ج۱،ص۱۸۱)

 {8}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو شخص تکبر سے اپنے کپڑے گھسیٹے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب اللباس،باب تحریم جر الثوب خیلاء ،الحدیث: ۵۴۵۵،ص۱۰۵۱)

{9}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم سے پچھلی اُمتوں میں سے ایک شخص حلہ پہنے تکبر کرتے ہوئے نکلا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے زمین کو  (اسے پکڑنے کا) حکم دیا تو اس نے اسے پکڑلیا، اب وہ قیامت تک اس میں دھنستا ہی رہے گا۔ ‘‘   (جامع الترمذی،ابواب الزھد،باب ماجاء فی شدۃ الخ،الحدیث: ۲۴۹۱،ص۱۹۰۲)

{10}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مغفرت نشان ہے :  ’’ جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا بھی ایمان ہوگا وہ جہنم میں داخل نہ ہوگا اور جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ‘‘                           (صحیح مسلم، کتاب الایمان،باب تحریم الکبروبیانہ،الحدیث: ۲۶۶،ص