Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{170}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے اپنے مسلمان بھائی کا عیب چھپایا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا اور جو اپنے مسلمان بھائی کے عیب ظاہر کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے عیب ظاہر کر دے گا یہاں تک کہ اسے اسی کے گھر میں رسوا کر دے گا۔ ‘‘  (سنن ابن ماجہ، ابواب الحدود، باب الستر علی المومن الخ،الحدیث:  ۲۵۴۶،ص۲۶۲۹)

{171}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا سب سے زیادہ شکر گزار بندہ وہ ہے جو لوگوں کا سب سے زیادہ شکریہ ادا کرتاہے۔ ‘‘        (المعجم الکبیر،الحدیث: ۴۲۵،ج۱،ص۱۷۱)

{172}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ دوخصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں بھی ہوں گیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے صابرو شاکر لکھ دے گا اور جس میں نہیں ہوں گیں نہ اسے شاکر لکھے گا اور نہ ہی صابر  ( وہ دو خصلتیں یہ ہیں )   (۱)  جو اپنے دین میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھ کر اس کی پیروی کرے اوردنیوی معاملہ میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اسے اس شخص پر جو فضلیت دی ہے اس پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے صابر وشاکر لکھ لیتا ہے  (۲) جو دین میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھے اور دنیوی معاملہ میں اوپر والے کو دیکھے پھر اپنی محرومی پر افسوس کرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نہ اسے صابر لکھتا ہے اور نہ ہی شاکر۔ ‘‘                   (جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ ،باب انظرواالی من ھو اسفلالخ،الحدیث:  ۲۵۱۲،ص۱۹۰۴)

{173}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اپنے سے نیچے والوں کودیکھو اوپر والوں کو نہ دیکھوپس تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ کہیں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کوخود سے دور نہ کر بیٹھو۔ ‘‘   (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۲۳۴۳،ج۲،ص۱۸)

{174}…سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھے لوگوں پر مہربانی کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے،کیونکہ مہربانی عقل کا سرچشمہ ہے اوردنیا میں بھلائی والے ہی آخرت میں بھلائی والے ہوں گے۔ ‘‘

 (شعب الایمان،باب فی حسن الخلق ، فصل فی الحلم والتؤدۃ ، الحدیث: ۸۴۷۵،ج۶،ص۳۵۱ /  الحدیث: ۸۴۴۶،ج۶،ص۳۴۴)

{175}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :   ’’ لوگوں پر مہربانی کرنا صدقہ ہے۔ ‘‘    (شعب الایمان،باب فی حسن الخلق ، فصل فی الحلم والتؤدۃ ، الحدیث: ۸۴۴۵،ج۶،ص۳۴۳)

{176}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصلَّیاللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے لوگوں پر نرمی کرنے کا اسی طرح حکم دیا ہے جس طرح فرائض قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ ‘‘

 (الکامل فی ضعفاء الرجال، بشربن عبید، ج۲،ص۱۷۰)

{177}…نبی کریم ،رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لانے کے بعد لوگوں پر مہربانی کرنا عقل کا سرچشمہ ہے۔ ‘‘   (الکامل فی ضعفاء الرجال، سلمان بن عمرو، ج۴،ص۲۲۶)

                ایک روایت میں ہے کہ  ’’ اوردنیا میں بھلائی والے آخرت میں بھی بھلائی والے ہوں گے۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب العلم، باب المعرف الی الناسالخ،الحدیث: ۴۳۷،ج۱،ص۳۳۰)

                ایک  اورروایت میں ہے :  ’’  دنیا میں تکبر کرنے والے آخرت میں بھی متکبر ہی شمار ہوں گے۔ ‘‘

{178}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس کے سامنے کسی مؤمن کو ذلیل کیا جائے اور وہ مدد پر قدرت کے باوجود اس کی مدد نہ کرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے ذلیل کرے گا۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد بن حنبل،مسند المکیین، الحدیث: ۱۵۹۸۵،ج۵،ص۴۱۲، ’’ الاشھادۃ ‘‘ بدلہ  ’’ الاخلائق ‘‘ )

{179}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا:   ’’ میرے جلال کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے کہاں ہیں ؟ آج کے دن میں انہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گاجبکہ میرے عرش کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ۔ ‘‘   (صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ ، باب فضل الحب فی اللّٰٰہ الخ،الحدیث: ۶۵۴۸،ص۱۱۲۷)

{180}…حضور نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں کہ  اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  نے ارشاد فرمایا:  ’’ میرے جلال کی خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کے لئے قیامت کے دن نور کے ایسے منبر ہوں گے کہ انبیائ ( علیہم الصلوٰۃ والسلام)   اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے (یعنی ان سے خوش ہوں گے) ۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب الزھد ، باب ماجاء فی الحب فی اللہ  ، الحدیث: ۲۳۹۰،ص۱۸۹۲)

{181}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ارشادفرمایا:   ’’ وہی لوگ میری محبت کے حق دار ہیں جومیرے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ، میری خاطر ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے، میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرتے اور میری راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ ‘‘

 (المؤطاللامام مالک، کتاب الشعر،باب ماجاء فی المتحابینالخ،الحدیث: ۱۸۲۸