Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                منقول ہے:   ’’ لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مندوہی ہے جسے سب سے کم غصہ آتا ہے پھر اگر وہ ایسا دنیا کے لئے کرتاہے تو یہ اس کا مکر وحیلہ ہے اور اگر آخرت کے لئے کرتاہے تو یہ علم وحکمت ہے۔ ‘‘

                امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے :  ’’ جو خواہشات،لالچ اور غصہ سے بچ گیا وہ فلاح پاگیا۔ ‘‘  

                منقول ہے :  ’’ جو اپنی خواہشات اور غصہ کی اطاعت کرے گا تویہ دونوں اسے جہنم کی طرف لے جائیں گی۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ مسلمان کی علامتیں یہ ہیں :  ’’  دین میں مضبوط ہونا، نرم مزاجی پر ثابت قدم رہنا، موت پر یقین رکھنا، بردباری کی حالت میں علم سیکھنا، نرمی وشفقت میں بھرپور ہونا، راہِ خداعَزَّ وَجَلَّ  میں عطا کرنا، بے نیازی کاقصد کرنا، فاقہ میں صبر کرنا، قدرت کی صورت میں احسان کرنا، تنگدستی میں صبر کرنا، اس پر نہ تو غصہ غالب آتاہے، نہ ہی حمیت طاری ہوتی

ہے، نہ اس پر خواہش غلبہ پاتی ہے، نہ اس کا پیٹ اسے رُسوا کرتاہے، نہ ہی اس کا لالچ اسے ذلیل کرتاہے، وہ مظلوم کی مدد کرتا اور کمزور پر رحم کھاتا ہے، اپنے مال میں بخل کرتاہے نہ اسے فضول اُڑاتا ہے اور نہ ہی اپنی اولاد پر خرچ میں تنگی کرتاہے، جب اس پر ظلم ہوتا ہے تومعاف کردیتاہے، جاہل سے درگزر کرتاہے، اس کا نفس خود تو اس سے تکلیف پاتا ہے جبکہ لوگ اس سے خوشی پاتے ہیں ۔ ‘‘

                حضرت سیدنا وہب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ کفر کے چار اسباب  (یہ بھی)  ہیں :  غصہ، خواہش، وعدہ خلافی، طمع۔ ‘‘  اس قول کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ ایک مسلمان کو غصہ نے اسلام سے مرتدہو نے پر ابھارا تو وہ کافر ہو کر مرا۔ لہٰذا غصہ کی برائی اوراس کے نتائج پر خوب غور کرنا چاہئے۔

                ایک نبی عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے اُمتیوں سے ارشاد فرمایا :  ’’ تم میں سے جو مجھے غصہ نہ کرنے کی ضمانت دے گا وہ میرا خلیفہ ہوگا اور جنت میں میرے ساتھ میرے درجے میں ہوگا۔ ‘‘  تو ایک نوجوان نے عرض کی :  ’’ میں ضمانت دیتا ہوں ۔ ‘‘  تو اس نبی عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی بات دہرائی تو اس نو جوان نے دوبارہ عرض کی :  ’’ میں ضمانت دیتا ہوں ۔ ‘‘  پھر اس نے اپنا وعدہ نبھا یا، جب اس کا انتقال ہوا تو وہ اس نبی عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ ان کا خلیفہ بن کر ان کے درجے میں پہنچ گیا، یہ نوجوان حضرت سیدنا ذوالکفل عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تھے، انہیں ذوالکفل اس لئے کہا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے بارے میں یہ ضمانت دی تھی کہ میں کبھی غصہ نہ کروں گا اور پھر اپنے اس قول کو نبھایا بھی تھااور ایک قول یہ ہے کہ انہیں ذوالکفل کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے رات میں عبادت کرنے اور دن میں روزہ رکھنے کی ضمانت دی تھی اور اسے نبھایا تھا۔

کینہ

{41}…اللہ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  (ماہ) شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان)  تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ ‘‘

 (شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان، الحدیث: ۳۸۳۵،ج۳،ص۳۸۳)

{42}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنی مخلوق پر تجلی فرماتاہے اورمغفرت چاہنے والوں کو بخش دیتاہے اور کافروں کو مہلت دیتاہے جبکہ کینہ پرور لوگوں کو چھوڑدیتاہے حتی کہ وہ کینہ ترک کردیں ۔ ‘‘

 (شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان، الحدیث: ۳۸۳۲،ج۳،ص۳۸۲)

{43}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر ہفتہ کے دوران پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، پھر بغض وکینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مؤمن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ان دونوں کو لمبے عرصے تک چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اُس بغض سے واپس پلٹ آئیں ۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ ، باب النھی عن الشحنائ، الحدیث: ۶۵۴۷،ص۱۱۲۷)

{44}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر پیر اور جمعرات کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ آپس میں بغض رکھنے اور قطع رحمی کرنے والوں کے علاوہ سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ ‘‘                                                                                              (المعجم الکبیر،الحدیث: ۴۰۹،ج۱،ص۱۶۷)

{45}…خاتَم ُالْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں تو ان دو دِنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جومشرک نہ ہو مگر ایک دوسرے سے بغض رکھنے والے دو مسلمان بھائیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کو آپس میں صلح کرلینے تک رہنے دو۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد،کتاب الادب ، باب ھجرۃ الرجل اخاہ ، الحدیث: ۴۹۱۶،ص۱۵۸۳)

{46}…سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جمعرات اور جمعہ کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو مشرک کے علاوہ ہر شخص کی مغفرت کردی جاتی ہے مگر دو شخصوں کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ انہیں آپس میں صلح کرلینے تک مؤخر کر دو۔ ‘‘     ( جامع الاحادیث،الحدیث: ۶۹۷۵،ج۳،ص۱۲)

{47}… شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ  ’’ ہر پیر اور جمعرات کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں بندوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مشرک کے علاوہ ہر بندے کی مغفرت فرمادیتاہے مگر جوشخص اپنے بھائی سے بغض رکھتا ہے اسے چھوڑدیا جاتا ہے۔ ‘‘   (جامع الاحادیث، الحدیث: ۷۳۶۳،ج۳،ص۷۳)

{48}…مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ پیر اور جمعرات کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بار گاہ میں اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ آپس میں بغض رکھنے اور قطع رحمی کرنے والوں کے علاوہ سب کے گناہ بخش دیتاہے۔ ‘‘                                             (المعجم الکبیر،الحدیث: ۴۰۹،ج۱،ص۱۶۷،بدون ’’  الذنوب ‘‘ )

{49}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر پیر اور جمعرات کے دن بنی آدم کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو رحم کے طلبگاروں پر رحم کیاجاتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کو بخش دیا جاتا ہے مگرکینہ پروروں کو ان کے کینے کی وجہ سے چھوڑدیا جاتاہے۔ ‘‘   (المعجم الکبیر،الحدیث: ۹۷۷۶،ج۱۰،ص۱۱)

{50}… مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اوراللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان دو دِنوں میں مشرک کے علاوہ ہر مسلمان کو بخش دیتاہے جبکہ آپس میں کینہ رکھنے والے دو شخصوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں صلح کرنے تک چھوڑ دو۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ ، باب النھی عن الشحنائ، الحدیث: ۶۵۴۴،ص۱۱۲۷)

{51}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَج



Total Pages: 320

Go To