Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                اس صورت کاحکم محلِ نظر ہے یعنی اس اعتبار سے کہ فرض وہ ہوتا ہے جس کی ادائیگی محض اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کی خاطر ہو اور یہاں ایسی عبادت نہیں پائی گئی۔ اور اس اعتبار سے کہ فرض اس شرعی حکم کی بجا آوری کا نام ہے جو کہ خود ایک مستقل ادائیگی کا باعث ہوتی ہے جوکہ یہاں پائی گئی ہے، لہٰذاکسی دوسرے ارادے کا اس میں شامل ہو جانا فرض کی ادائیگی کو ساقط نہیں کر سکتا، جیسا کہ کوئی شخص غصب کی گئی زمین میں نماز پڑھے۔

٭…اگر ریاکاری اصلِ نماز میں نہ ہو بلکہ اس کی خاطر جلدی کرنے میں ہو تو ایسی صورت میں بالاتفاق اس کی نماز درست ہو گی کیونکہ یہ ریا اصلِ نماز میں نہیں بلکہ اسے جلدی یا دیر سے ادا کرنے میں ہے۔

٭…نیز فقط لوگوں کے اس کے نیک اعمال سے آگاہ ہو جانے پراُس کا خوش ہونا جبکہ اس کا اثر عمل میں نہ ہو تو فقہی لحاظ سے یہ عمل بھی ادا ہو گا، فاسد نہیں ہوگا۔

                یہ ایسے  مسائل ہیں کہ فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیاس اعتبار سے ان میں بحث ہی نہیں کرتے اورجو لوگ ان میں بحث کرتے ہیں وہ فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ کے قوانین کا لحاظ نہیں کرتے کیونکہ وہ بندوں کے دلوں کی صفائی اور ان کی ان عبادات میں خلوص پیدا کرنے کے اِنتہائی حریص ہوتے ہیں جو  (عبادات)  دل میں پیدا ہونے والے ان خطرات و خدشات اور وسوسوں سے فاسد ہو جاتی ہیں ، لہٰذا ان مسائل پر ہماری بحث بھی اسی حرص کا نتیجہ ہے ،اور حقیقی علم اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ہی کے پاس ہے۔

تنبیہ4:

ریاء کے مختلف درجات:

                قبح کے اعتبارسے ریاء کے مختلف درجات ہیں :

 (۱) …ایمان میں ریاء کا سب سے قبیح درجہ ان منافقین کا ہے جن کی مذمت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ    نے اپنی پاک کتاب میں بہت سے مقامات پر فرمائی، نیز اس فرمانِ عبرت نشان میں ان سے وعدہ فرمایا :

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-  (پ۵،النسآء:  ۱۴۵)  

ترجمۂ کنزالایمان:  بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں ۔

                یہ لوگ اگرچہ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کے زمانے کے بعد کم ہو گئے مگر قباحت میں ان جیسے لوگ کثرت سے ہونے لگے، جیسے کفریہ بدعات کا عقیدہ رکھنے والے مثلاً حشر کا انکار، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ    کے علمِ جزئیات کا انکار اور مخالفت کے اظہار کے باوجود ہر شئے میں اباحتِ مطلقہ کا عقیدہ رکھنا، ان قبیح احوال کے بعد کوئی چیز نہیں ۔

 (۲) …فرض عبادات پر ریاکاری کرنے والوں کا مرتبہ ان کے بعد ہے جیسے کوئی شخص خلوت میں عبادت ترک کرنے کی عادت بنائے اور لوگوں کے سامنے مذمت کے خوف سے اسے ادا کرلیا کرے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نزدیک اس کا گناہ بہت سخت ہے کیونکہ یہ عمل جہالت کی اِنتہاء کا پتہ دیتا ہے اور نافرمانی کے سب سے بڑے درجے کی طرف لے جاتا ہے۔

 (۳) …نوافل میں ریاکاری کرنے والوں کا درجہ ان کے بعد ہے، مثلاً کوئی تنہائی میں اس وجہ سے نوافل ادا کرنے کی عادت بنائے تا کہ لوگوں کے سامنے اس میں کوتاہی نہ ہو اور سستی دور ہو جائے حالانکہ خلوت میں ان کے ثواب میں رغبت نہ ہو۔

 (۴) …ان کے بعد اپنی عبادت میں عمدہ اوصاف کے ذریعے ریا میں مبتلا لوگوں کادرجہ ہے جیسے نماز اچھی طرح ادا کرنا، اس کے ارکان کو طویل کرنا، اس میں خشوع کا اظہارکرنا، لوگوں کے سامنے تمام ارکان کا مل طور پر ادا کرنا اورتنہا ئی میں نفلی عبادت اور دیگر واجبات کی کم سے کم ادائیگی پر اکتفاء کرنا، یہ بھی جائز نہیں کیونکہ اس میں بھی گذشتہ مثالوں کی طرح مخلوق کو خالق پر مقدم کرنا پایا جا رہا ہے۔

                کبھی شیطان عبادت کرنے والے کو دھوکے میں مبتلا کر دیتا ہے اور اسے یہ خیال دلاتا ہے کہ لوگوں کے سامنے عبادت اچھے طریقہ سے ادا کر تا کہ وہ تیری مذمت نہ کریں ، حالانکہ اگر وہ سچا ہوتا تو خود تنہائی میں عبادت کی وجہ سے ان کمالات سے محرومی سے بچ جاتا، لہٰذا اس کے احوال کے قرائن اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ریاکاری کا اصل سبب مخلوق کی تعریف پر نظر رکھنا ہے نہ کہ ان کے شر سے محفو ظ رہنا۔

ریاکاروں کے درجات:

٭…ریاکاری کے باعث ریاکاروں کے بھی چند درجات ہیں ، جن میں سے سب سے برا درجہ یہ ہے کہ انسان برائی کے ذریعے حکمرانی کا قصد کرے جیسے کوئی شخص اس لئے تقویٰ اور زہد کا اظہار کرے تا کہ یہ اس کی پہچان بن جائیں اور ان کی وجہ سے اسے اعلیٰ منصب دیا جائے، اس کے لئے وصیت کی جائے اور اس کے سپرد امانتیں کی جائیں یا صدقات تقسیم کرنے پر اسے مقرر کیا جائے اور وہ ان تمام اُمور سے خیانت کا قصد کرے یا کوئی شخص کسی عورت یا لڑکے کو پانے کے لئے وعظ ونصیحت کرے یا علم سیکھے اور سکھائے۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ    کے نزدیک ایسے تمام ریاکار اِنتہائی برے ہیں جنہوں نے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ   کی اطا عت کو معصیت کے زینے اور اپنے فسق تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا نیز ان کی عاقبت نہایت ہی بری ہو گی۔

٭…ان کے بعد اس شخص کا درجہ ہے جسے گناہ یاخیانت کی تہمت لگائی جائے تو وہ اس تہمت کو دور کرنے کے لئے اطاعت اور صدقہ کا اظہار کرنے لگے۔

٭…اس کے بعد دنیا کی مباح چیزیں مثلا ًمال یاحصولِ نکاح کی نیت سے عبادت کرنے والے کا درجہ ہے۔

٭…اس کے بعد اس شخص کا درجہ ہے جو اس نیت سے عبادت، خوفِ خدا اور تقویٰ ظاہر کرے تا کہ اسے حقارت کی نظر سے نہ دیکھا جائے یااس لئے کہ اسے نیک لوگوں میں شمار کیا جائے اور جب وہ تنہائی میں ہو تو ان میں سے کوئی بھی عمل نہ کرے اور جس دن کا روزہ رکھنا سنت ہے اس کے بارے میں وہ اس نیت سے اپنی رائے کا اظہار نہ کرے تا کہ اس کے بارے میں یہ گمان نہ کیا جائے کہ اسے نوافل میں کوئی دلچسپی نہیں ۔

                یہ تمام صورتیں ریاکاری کے درجات کی اصل اور ریا کاروں کی اقسام کے درجات ہیں ۔ سیدناامام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ ارشاد  فرماتے ہیں :  ’’ یہ سب لوگ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ    کی ناراضگی اور اس کے غضب کے مستحق ہیں ۔ ‘‘  اور یہ بات سخت ترین مہلکات میں سے ہے۔

تنبیہ 5:

                گذشتہ صفحات میں یہ حدیثِ پاک گزر چکی ہے :  ’’ ریا کی ایک قسم وہ ہے جو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ خفیف ہوتی ہے۔ ‘‘                               (مجمع الزوائد،کتاب الزھد،باب مایقول اذ خافالخ،الحدیث: ۱۷۶۶۹،ج۱۰،ص۳۸۴)

                یہ وہ قسم ہے جس میں نفوس کی آفات اور قلوب کی مصیبت کی وجہ سے جاہل تو جاہل بڑے بڑے علماء بھی پھسل جاتے ہیں ۔

 



Total Pages: 320

Go To