Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

یہ حکم ہو گا۔ ‘‘  امام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ کا کلام اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ ریا اگرچہ حرا م ہے مگر ثواب کی  نیت کے غالب ہونے کی صورت میں وہ اصل ثواب کو نہیں روکتی، اسی لئے آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا :  ’’ اگر کسی شخص کی عبادت کا لوگوں پر ظاہر ہونا اس کی نشاط میں اضافہ اور قوت پیدا کرتا ہے اور اگر لوگوں پراس کی عبادت ظاہر نہ ہوتی تب بھی وہ عبادت نہ چھوڑتاپھر اگر چہ اس کی نیت ریا ہی کی ہو تو ہمارا گمان ہے کہ اس کا اصل ثواب ضائع نہ ہو گا، ریا ء کی مقدار کے مطابق اسے سزا ملے گی جبکہ ثواب کی نیت جتنا ثواب اسے ملے گا۔ ‘‘  اس سے پہلے کا کلام ان کے قول کے منافی ہے :  ’’ اگر وہ اپنے صدقہ اور نماز سے اجر اور تعریف دونوں کا خواہاں ہو تو یہ وہ شرک ہے جو اخلاص کے مخالف ہے۔ ‘‘  ہم نے  ’’ کتاب الاخلاص ‘‘  میں اس کا حکم ذکر کر دیا ہے اورہم نے حضرت سیدنا سعید بن مسیب اور حضرت سیدنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے جو روایات نقل کی ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ریاکار کے لئے بالکل کوئی ثواب نہیں ، لہٰذا علامہ ابن عبدالسلام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا کلام ہی راجح ہے۔

                الغرض!  اگر عبادت کے ذریعے مباح ریا کا قصد کیا جائے تو اس کا ثواب سرے سے ہی ساقط نہ ہوگا بلکہ اسے عبادت کی نیت کے مطابق اجر ملے گا اگرچہ نیت کمزور ہی کیوں نہ ہو اور اگر وہ حرام ریا کا قصد کرے تو یہ ثواب سرے ہی سے ختم ہو جائے گا جیسا کہ گذشتہ بہت سی احادیثِ مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں ، نیز اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا یہ فرمانِ عالیشان:  

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ (۷)   (پ۳۰، الزلزال: ۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا۔

 اس پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ حرام قصد کی وجہ سے عمل کی کوتا ہی نے اجر کے ساقط ہونے کو واجب کر دیا، لہٰذا اس کے لئے خیر کا ایک ذرہ بھی نہ بچا اسی لئے آیت کریمہ اسے شامل نہیں ۔

                یاد رکھئے!  بندہ جب اخلاص کے ساتھ عبادت شروع کرے پھر اس پر ریاکاری کے اسباب ظاہرہوں ، اگریہ اسباب عمل پورا ہو جانے کے بعد ظاہر ہوں تو عمل میں کوئی اثر نہ ڈالیں گے کیونکہ وہ عمل اخلاص کے ساتھ پورا ہو چکا ہے، لہٰذا بعد میں طاری ہونے والی ریاکاری کے اسباب اس پر اس وقت تک اثرانداز نہ ہوں گے جب تک بندہ اپنے عمل کے اظہار اور اسے بیان کرنے میں تکلف سے کام نہ لے۔ اگر وہ ریاکاری کا قصد کرتے ہوئے تکلف کرے تو امام غزالی   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ یہ خوف میں ڈالنے والی بات ہے۔ ‘‘  جبکہ اخبار وآثار یعنی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ریاکاری عمل کو برباد کر دیتی ہے، پیچھے گزر چکا ہے کہ سیدنا امام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ نے بعد میں طاری ہونے والے اسباب کو عمل کے ثواب کو باطل کرنے سے بعید قرار دیا اور ارشاد فرمایا کہ بلکہ قرین قیاس بات یہ ہے کہ جو عمل اس نے مکمل کر لیا اس پر اسے ثواب دیا جائے گا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی اطا عت میں کی جانے والی ریاکاری پر اسے عقاب ہو گا اگرچہ یہ ریاکاری عمل مکمل کر لینے کے بعد کی جائے اور اگر عمل کے دوران ریاکاری پیدا ہو اور عمل محض ریاکاری کے لئے ہو تویہ عمل کو بربادبلکہ فاسد کر دیتی ہے اور اگر محض ریا کی نیت نہ ہو مگر قربت کی نیت پر ریا کاقصدغالب ہو اور قربت کی  نیت مغلوب ہوتو اس صورت میں عبادت کے فاسد ہونے میں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکو تردد ہے، امام حارث محاسبیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی رائے میں عبادت فاسد ہوجائے گی۔ جبکہ ہمارے نزدیک اس صورت میں سب سے بہترقول یہ ہے کہ اگر عمل میں ریا کا اثر ظاہر نہ ہو بلکہ عمل خالص دینی نیت سے کیا گیا ہو لوگوں کے اس عمل پر اطلاع سے بندے کو خوشی حاصل ہوتی ہو تو اصلِ نیت کے باقی رہنے اورعمل کومکمل کرنے کی نیت کے پائے جانے کی وجہ سے عمل فاسد نہ ہوگا اوراگر صورت حا ل یہ ہو کہ اگر لوگ موجود نہ ہوتے تو بندہ اپنی نماز توڑ ڈالتا تو ایسی نماز فاسد اور واجب الاعادہ ہے، اگرچہ فرض نماز ہی کیوں نہ ہو۔

ریاکاری کے احکام

                ریاکاری کی مذمت میں وارد احادیثِ مبارکہ سے یہ اَحکام مستنبط ہوتے ہیں :  

 ٭…جب صرف مخلوق کی خوشنودی کے ارادے سے عمل کیا جائے تو یہ ریاء ہے۔

 ٭… شرک کرنے کے بارے میں وارداحادیثِ مبارکہ ریاء اور ثواب کے قصد کے برابر ہونے یا ثواب پر ریا کی نیت کے غالب ہونے پر محمول ہیں ۔

٭…اگر ثواب کے مقابلے میں ریاکاری کی نیت کمزور ہو تونماز فاسد نہیں ہو گی، لیکن اگر ریاکاری کی نیت نماز میں تکبیرِ تحریمہ سے لے کر سلام تک رہی تو بالاتفاق اس کی نماز نہیں ہوئی اور ایسی نماز کا کوئی اعتبار نہیں ۔

٭…اگر نماز کے دوران یہ شخص ریاکاری سے باز آ گیا اور توبہ کر لی تو ایک گروہ کہتا ہے :  ’’ یہ عبادت ادا نہیں ہوئی لہٰذا وہ اسے دوبارہ پڑھے گا۔ ‘‘  اور دوسرا کہتا ہے :  ’’ تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ اس کی ساری نماز باطل ہو گئی لہٰذا وہ تحریمہ پر بناء رکھتے ہوئے نماز ادا کرے گا۔ ‘‘  جبکہ ایک گروہ کے نزدیک یہ ہے :  ’’ اس پر کوئی چیز لازم نہ ہوگی اور جہاں وہ ہے وہیں سے اپنا عمل پورا کرے گاکیونکہ اعمال کا دارو مدار ان کے انجام پر ہوتا ہے جیسے اگر کوئی اخلاص کے ساتھ عمل شروع کرے اور اس کے عمل کا انجام ریاکاری پر ہو تو اس کا عمل فاسد ہو جائے گا۔ ‘‘  آخری دو اقوال فقہی قیاس سے خارج ہیں ، بالخصوص ان میں سے پہلا قول تو ہر گز قرینِ قیاس نہیں کیونکہ جب عمل کا اِختتام اخلاص پر ہو تو وہ اس وجہ سے صحیح ہو گا کہ ریاکاری تو صرف نیت کو خراب کرتی ہے نہ کہ عمل کو۔ اور فقہی قیاس کے مطابق صحیح بات یہ ہے کہ عمل کی ابتداء کا سبب ریاکاری ہو نہ کہ ثواب کی طلب اور حکمِ شریعت کی بجا آوری تو اس کی ابتداء ہی درست نہ ہو گی لہٰذا بعد کا عمل بھی درست نہ ہو گا کیونکہ اس کی نیت ہی پختہ نہ رہی جو کہ شرط تھی اور لوگوں کی وجہ سے حرام ہو چکی تھی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ کسی کے کپڑے نجس ہوں اور وہ تنہائی میں نماز پڑھے تو اس کے باوجود وہ نماز سرے سے نہیں ہو گی۔

٭…لیکن اگر معاملہ یوں ہو کہ لوگوں کی عدم موجودگی میں صحیح طریقے سے نماز پڑھے مگر اپنی تعریف کی رغبت بھی ہو تو اس  صورت میں عمل کا باعث دو سبب ہوں گے، ایک یہ کہ اگر ریا نفل نماز میں ہو گی تو اس ریاکاری کے باعث گنہگار ہو گا اور دوسرا یہ کہ ثواب کی نیت بھی ہو تو اس کے باعث اَجر پائے گا،

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ    کا فرمانِ عالیشان ہے :

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ (۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ (۸)   (پ۳۰، الزلزا ل: ۷۔۸)

ترجمۂ کنز الایمان :  تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ برائی کرے اسے دیکھے گا۔

                لہٰذا اسے اپنے صحیح ارادے کے مطابق ثواب ملے گا اور غلط ارادے کے مطابق سزا ہو گی، نیز ان میں سے ایک سبب دوسرے کو فاسد نہیں کرے گا۔ نفل نماز صدقہ کی طرح ہی ہوتی ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اس کی نماز فاسد اور اِقتداء باطل ہے۔ اگرچہ یہ بات ظاہر بھی ہو جائے کہ اس کا مقصود ریاء اور حسنِ قراء ت کا اظہار ہے تو چونکہ مسلمان سے اچھا گمان ہی رکھنا چاہئے کہ نفل سے ثواب ہی کی نیت کی ہوگی، لہٰذا اس کے اس قصد کی وجہ سے اس کی نماز اور اقتداء درست ہو جائے گی، لیکن اگر اس کی نیت میں کوئی اور قصد بھی شامل ہو جائے تو اس کی وجہ سے وہ گنہگار ہو گا۔

٭…یہ دونوں سبب  (یعنی ریا اور ثواب کی اُمید)  اگر فرض نماز کی ادائیگی کاباعث ہوں اور ان کی اپنی الگ کوئی مستقل حیثیت نہ ہو تو وہ فرض بندے سے ساقط ہی نہ ہو گا، لیکن اگر دونوں میں سے ہر ایک سبب الگ مستقل حیثیت میں ادائیگی کا باعث ہو مثلاً اگر ریا کا باعث بننے والا سبب نہ پایا جائے تو فرض ادا ہو جائے گا، لیکن اگر ثواب کا باعث بننے والا سبب نہ پایا جائے تو فرض نماز ریاکاری کی وجہ سے نئے سرے سے ادا کی جائے گی۔

 



Total Pages: 320

Go To