$header_html

Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ندا دے گا :  ’’ جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے کئے جانے والے عمل میں کسی کو شریک کیا وہ اسی کے پاس اپنا ثواب تلاش کرے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ شرکاء سے بے نیاز ہے۔ ‘‘  

 (المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند المکیین،حدیث ابی سعید بن ابی فضیلہ،الحدیث: ۱۵۸۳۸،ج۵،ص۳۶۹)

{13}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمارشادفرماتے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ   عبرت نشان ہے :  ’’ جو میرے ساتھ کسی کو شریک کرے گا میں اسے  (عذاب کا)  شدید حصہ دوں گا، جو کسی کو میرا شریک ٹھہرائے گا اس کا قلیل وکثیر عمل اس کے اسی شریک کے لئے ہے جسے اس نے میرا شریک ٹھہرایا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ۔ ‘‘  

 (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند الشامیین، الحدیث:  ۱۷۱۴۰،ج۶،ص۸۲،بدون ’’ حشوہ ‘‘ )

{14}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمارشادفرماتے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ ہدایت نشان ہے:   ’’ میں شریک سے بے نیاز ہوں جس نے کسی عمل میں کسی کو میرے ساتھ شریک کیا میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دوں گا۔ ‘‘  یعنی ڈھیل دوں گا اور جب قیامت کادن آئے گا تو ایک مُہربند صحیفہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں نصب کیاجائے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اپنے ملائکہ سے ارشاد فرمائے گا :  ’’ اِنہیں قبول کر لو اور اُنہیں چھوڑ دو۔ ‘‘  فرشتے عرض کریں گے :  ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ !  تیری عزت کی قسم!  ہم ان میں خیر کے علاوہ کچھ نہیں پاتے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا :  ’’ تم درست کہتے ہومگر یہ میرے غیر کے لئے ہیں اور آج میں صرف وہی اعمال قبول کروں گا جو میری رضا کے لئے کئے گئے تھے۔ ‘‘   (صحیح مسلم ،کتاب الزھد،باب تحریم الریاء ، الحدیث: ۷۴۷۵،ص۱۱۹۵)

 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،حرف الرائ، باب الریائ،الحدیث: ۷۴۷۲،ج۳،ص۱۸۹)

{15}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : جب قیامت کا دن آئے گا توکچھ مہربند صحیفوں کو لایاجائے گا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:  ’’ اِنہیں قبول کر لو اور اُنہیں رد کر دو۔ ‘‘ ملائکہ عرض کریں گے :  ’’ یارب  عَزَّ وَجَلَّ !  تیری عزت کی قسم!  ہم نے وہی لکھا ہے جو اس نے عمل کیا تھا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا :  ’’ اس کا عمل میری رضا کے لئے نہیں تھا اور آج میں وہی اعمال قبول کروں گا جو میری رضا کے لئے کئے گئے تھے۔ ‘‘      (جامع الاحادیث،الحدیث: ۲۴۶۵،ج۱،ص۳۵۹)

{16}…سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : قیامت کے دن کچھ مہر بند صحیفوں کو لاکر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں نصب کیا جائے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا :  ’’ یہ چھوڑ دو اور یہ قبول کر لو۔ ‘‘  ملائکہ عرض کریں گے :  ’’ یا رب  عَزَّ وَجَلَّ !  تیری عزت کی قسم!  ہم تو اس میں خیر ہی دیکھتے ہیں ۔ ‘‘ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا اور وہی زیادہ جانتا ہے :  ’’ یہ میرے غیر کے لئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گا جو میری رضا کے لئے کئے گئے تھے۔ ‘‘

 (سنن دارقطنی، باب النیۃ ، الحدیث:  ۱۲۹،ج۱،ص۷۳)

{17}…حضرت ا بن مبارک رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ ملائکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے بندوں میں سے کسی بندے کے عمل کو زیادہ سمجھتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے یہاں تک کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنی سلطنت میں جہاں چاہے گا وہ وہاں پہنچ جائیں گے، تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ان کی طرف وحی فرمائے گا :  ’’ تم میرے بندے کے عمل لکھنے پر مامور ہو اور میں اس کے دل سے باخبر ہوں ، میرا یہ بندہ میرے لئے عمل کرنے میں مخلص نہیں تھا لہٰذا اسے سجین میں لے جاؤ۔ ‘‘  اسی طرح فرشتے ایک بندے کے عمل کو کم اور حقیر جانتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے یہاں تک کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اپنی سلطنت میں جہاں چاہے گاوہ فرشتے وہاں پہنچ جائیں گے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ان کی طرف وحی فرمائے گا :  ’’ تم میرے بندے کے عمل لکھنے پر مامور ہو اور میں اس کے دل سے باخبر ہوں ، میرا یہ بندہ میرے لئے عمل کرنے میں مخلص ہے لہٰذا اسے علیین میں لے جاؤ۔ ‘‘    (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،حرف الراء ،باب الریائ،الحدیث: ۷۵۰۵،ج۳،ص۱۹۲)

{18}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب قیامت کا دن آئے گا تو ایک منادی ندا دے گا کہ جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے غیر کے لئے عمل کیا وہ اپنا ثواب اسی کے پاس تلاش کرے جس کے لئے اس نے عمل کیا تھا۔ ‘‘                               (جامع الاحادیث،الحدیث: ۲۴۷۶،ج۱،ص۳۶۱،مفہومًا)

{19}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ان پرہیزگار گم نام بندوں سے محبت فرماتا ہے جو غائب ہوں تو انہیں تلاش نہ کیاجائے اور جب حاضر ہوں تو پکارے نہ جائیں اور نہ ہی پہچانے جائیں وہ ہدا یت کے چراغ ہیں اور ہر اندھیری زمین سے طلوع (یعنی ظاہر)  ہوتے ہیں ۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ ، ابواب الفتن، باب من ترجی لہ السلامۃ الخ،الحدیث: ۳۹۸۹،ص۲۷۱۶)

{20}… نبی کریم ،رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ وادی ٔحزن سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی پناہ مانگا کرو کیونکہ یہ ایسی وادی ہے جس سے جہنم بھی روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتا ہے، اس میں دکھاوے کے لئے عمل کرنے والے قاری داخل ہوں گے اور بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ قاری وہ ہیں جو اُمراء سے ملنے کے لئے جاتے ہیں ۔ ‘‘  

 (سنن ابن ماجہ ، ابواب الطہارت، باب الانتفاع بالعلمالخ،الحدیث: ۲۵۶،ص۲۴۹۳)

{21}…نبی مُکَرَّم،نُورِ،مُجسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتا ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے یہ وادی اُمت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے ان ریاکاروں کے لئے تیار کی ہے جو قرآنِ پاک  کے حافظ، غیر اللہ  کے لئے صدقہ کرنے والے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے گھر کے حاجی اور راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ   میں نکلنے والے ہوں گے۔ ‘‘                                                                                   (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۲۸۰۳،ج۱۲،ص۱۳۶)

{22}…رسولِ اکرم،نورِ مجسَّم ،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو شہرت کے لئے عمل کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے رسوا کرے گا، جو دکھاوے کے لئے عمل کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے عذاب دے گا اور جو مخالفت کرے گااللہ  عَزَّ وَجَلَّ  قیامت کے دن اسے مشقت میں ڈالے گا۔ ‘‘   (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۲۰۷۴۰،ج۷،ص۴۴)

{23}…

$footer_html