Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ترجمہ کنزالایمان:  اورجوکوئی مسلمان کو جان بوجھ کرقتل کرے تواس کابدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اوراللہ  نے اس پر غضب کیااور اس پرلعنت کی اوراسکے لئے تیار رکھا بڑا عذاب۔

                یاتو مؤمن کے قتل کو حلا ل سمجھنے والے پر محمول ہے کیونکہ مومن کے قتل کو حلال سمجھنا کفر ہے، تو اس صورت میں خلود سے مراد تأبید یعنی ہمیشگی ہے جیسا کہ دیگر کفار وغیرہ پر ہے، نصوصِ شرعیہ اور لغت اس بات پر گواہ ہیں کہ خلود تأبید کو مستلزم نہیں یعنی خلود کا مطلب  صرف تأبید ہی نہیں ہوتا لہٰذا اس صورت میں آیتِ کریمہ کامطلب یہ ہو گا کہ اگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے عذاب دے گا تو اس کی جزاء یہ ہو گی جو آیت کریمہ میں بیان ہوئی ورنہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے معاف فرما دے گا جیساکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان میں ہے کہ:  

وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-  (پ ۵، النسآء :  ۴۸)

 

ترجمہ کنزالایمان: اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔

اور اس فرمانِ مبارک سے پتہ چلتا ہے کہ:  

اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-  (پ ۲۴، الزمر:  ۵۳)

ترجمہ کنزالایمان: بے شک اللہ  سب گناہ بخش دیتا ہے۔

                جنہوں نے یہ بات کہی ہے :  ’’ قاتل کی توبہ مقبول نہیں ۔ ‘‘  تو اس سے ان کی مراد قتل سے باز رکھنا اور نفرت دلانا ہے، ورنہ قرآن وسنت کی نصوص اس معاملہ میں بالکل صریح ہیں :  ’’ جس طرح کافر کی توبہ مقبول ہے اسی طرح قاتل کی توبہ بھی مقبول ہے بلکہ قاتل کی توبہ تو بدرجۂ اَوْلیٰ مقبول ہے۔ ‘‘  

مُرجِیہ کا عقیدہ:  

                ان کاعقیدہ یہ ہے :  ’’ جس طرح کافر کو کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی اسی طرح مومن کو کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا۔ ‘‘

                یہ بھی ان (بد مذہبوں )  کے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر باندھے جانے والے بہتانوں میں سے ہے۔ لہٰذا ہرمسلمان پر واجب ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھے :  ’’ گناہ گار مؤمنین کی ایک جماعت جہنم میں داخل ہو گی۔ ‘‘  کیونکہ اس کا انکار کفر ہے اس لئے کہ یہ انکار ان صریح نصوصِ قطعیہ کو جھٹلانا ہے جو اس بات پر دلا لت کرتی ہیں ۔

تنبیہ3:  

                امام الحرمین علیہ رحمۃ الرحمن نے اُصولیوں سے ان کایہ اصول ذکر کرنے کے بعد اسی کو برقرار رکھا :  ’’ جس نے کلمۂ کفر بکا اور یہ گمان کیا کہ وہ توریہ (یعنی جو بات دل میں ہو اس کے خلاف ظاہر کرنا)  کر رہا ہے تو وہ ظاہرًایاباطنا ً دونوں طرح سے کافر ہے، اور جسے وسوسہ آیا اور وہ ایمان یاصانع کے بارے میں متردد ہوا یا اس کے دل میں ان کے ناقص ہونے یا انہیں گالی دینے کا خیال آیا اور وہ ان وسوسوں کو شدید ناپسند کرتا ہو مگر انہیں دور کرنے پر قادر نہ ہو تو اس پر کوئی گناہ یا حرج نہیں بلکہ یہ وسوسے شیطا ن کی طرف سے ہیں ، لہٰذااس بندے کو چاہئے کہ وہ انہیں دور کرنے کے لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے مدد طلب کرے کیونکہ اگر یہ وسوسے اس بندے ہی کی جانب سے ہوتے تو وہ انہیں ہر گزناپسند نہ کرتا۔ ‘‘  علامہ ابنِ عبدالسلام وغیرہ نے بھی اس اصول و قاعدہ کا تذکرہ کیا ہے۔

تنبیہ4:  

                اصلی کافر یامرتد کا اسلام اس وقت ثابت ہو گا جب وہ زبان سے شہادتین یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت کا اقرار کرے گا اگرچہ ان میں سے ایک شہادت کااقرار وہ پہلے ہی سے کرتاہو اور اگر اس نے اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ  (یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کوئی معبود نہیں )  سے  ’’ اِلٰہَ ‘‘ کے لفظ کو بَارِیَٔ،رَحْمٰنَ،مٰلِکَ،یارَزَّاقَ سے بدل دیا تب بھی جائز ہے۔ اسی طرح اگر لَا کومَامِنْ سے بدل دیا مثلاً  مَامِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ  (یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں )  کہا یا لفظ اِلَّا کو غَیْرَ، سِویٰ یا عَدَا سے بدل دیا مثلاً کہا لَااِلٰہَ غَیْرُ اللّٰہِ، سِوَی اللّٰہِ، عَدَااللّٰہِ (یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں ) ، یا پھر اسم جلالت  ’’ اللّٰہُ ‘‘  کو الْمُحْیِی الْمُمِیْتُ سے بدل دیا جو کہ غیر طبعی ہے یا الرَّحْمٰنُ، الْبَارِیُٔسے بدل دیا مثلاً کہا :  ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا الْمُحْیِی الْمُمِیْتُ (یعنی زندگی اور موت عطا کرنے والی ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں ) ، لَا اِلٰہَ اِلَّا الرَّحْمٰنُ (یعنی رحمن عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کوئی معبود نہیں )  وغیرہ یا لَا اِلٰہَ اِلَّا مَنْ آٰمَنَ بِہِ الْمُسْلِمُوْنَ  (یعنی جس ذات پر مسلمانوں کاایمان ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں )  کہایا کہاکہ لَا اِلٰہَ اِلَّا مَنْ فِی السَّمَآء  (یعنی اس ذات کے علا وہ کوئی معبود نہیں جو آسمانوں میں ہے)  یا لَا اِلٰہَ اِلَّا الْمٰلِکُ (یعنی مالک عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کوئی معبود نہیں )  کہایا لَا اِلٰہَ اِلَّا الرَّزَّاقُ  (یعنی رزاق عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کوئی معبود نہیں )  کہاتو یہ سب صورتیں جائز ہیں اور اگر لَا اِلٰہَ اِلَّا سَاکِنُ السَّمَآئِ (یعنی وہ ذات جو آسمانوں میں رہنے والی ہے کے سوا کوئی معبود نہیں )  کہاتو جائز نہیں ۔

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو سَاکِنُ السَّمَآء  اور مَنْ فِی السَّمَآء کہنے میں فرق یہ ہے کہ سَاکِنُ السَّمَآءکہنا ایک جہت ہے اور جہت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے محال ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے اورظالموں ومنکروں کے بہتانوں سے بہت بلند ہے، بہت سے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے جہت ثابت کرنا کفر ہے، لہٰذا جو کلمات کفر پر مشتمل ہوں ان سے اسلام کا ثبوت کیسے ہو سکتا ہے؟ جب کہ  مَنْ فِی السَّمَآء کہنے میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے جہت کی تصریح نہیں کیونکہ مَنْ فِی السَّمَآءسے مراد یہ ہے :  ’’ اس کاحکم اور سلطنت آسمانوں میں قائم ہے۔ ‘‘  کیونکہ یہ لفظ ان قرآنی آیات کے موافق ہے جو سَلَف وخَلَف کے نزدیک مؤوَّل ہیں ۔ ( اس میں حنابلہ کے ایک گمراہ فرقہ کے علا وہ کسی کو کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے ) جبکہ ان دونوں کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے :  ’’ ہم اس تأویل کو معین کرتے ہیں اور ظاہر کواس کی طرف نہیں پھیرتے۔ ‘‘  یہ خَلَف کا مذہب ہے یا  ’’ اجمالی تأویل کرتے ہیں اور کسی شے کومعین نہیں کرتے بلکہ ہم اسے معین کرنے کا علم اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر چھوڑتے ہیں ۔ ‘‘  اور یہی سَلَف کا مذہب ہے، بعض متاخرین ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے بھی اسے اختیار کیا ہے اور بعض نے اس میں تھوڑی سی زیادتی کے ساتھ اس کو اختیار کیا ہے اور وہ یہ ہے :  ’’ تأویل کو اس طرح معین کرنا کہ وہ ظاہر کے قریب ہو جائے اور عربی لغت کے قواعد بھی اس کی درستگی پر گواہی  دیں تو یہ مناسب ہے ورنہ تفویض یعنی اس کی تعیین کے علم کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد کر دینا ہی مناسب ہے۔ ‘‘  جو شخص آیات واحادیث میں غور وفکر کرے تو وہ انہیں اسی تأویل کی گواہی دیتے ہوئے پائے گا کیونکہ تأویل کے بغیر ان آیات واحادیث کا ظاہری مفہوم تناقض کاوہم پیدا کرتا ہے۔ ‘‘  لہٰذا اس وہم سے بچنے کیلئے تأویل کی طرف جانا واجب ہے، کیا آپ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ان فرامین مبارکہ کو نہیں دیکھتے:  

{۱}

ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ۫-  (پ ۸، الاعراف: ۵۴)  

 ترجمۂ کنز الایمان : پھر عرش پراستوا ء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے

{۲}حالانکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ،

 



Total Pages: 320

Go To