Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{28}… مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے اپنے مسلمانوں والے دین کی مخالفت کی اسے قتل کر دو اور جب وہ اس بات کی گواہی دینے لگے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور اس بات کی گواہی کہ محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں تو اسے قتل کرنے کی کوئی راہ نہیں مگر جبکہ وہ کوئی ایسا عمل کرے جس کی وجہ سے اس پر حد قائم کی جائے۔ ‘‘            (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۱۶۱۷،ج۱۱،ص۱۹۳)

٭٭٭٭٭٭

تنبیہات

تنبیہ1:

                شرک اور اس کی تمام انواع کا تذکرہ کرنے کاسبب یہ ہے کہ لوگ حد سے زیادہ اس میں مبتلا ہیں نیزعام لو گوں کی زبانوں پر شرکیہ کلمات جاری ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ ایسا کرنا شرک ہے لیکن اگر ان پر اس کی بعض اقسام آشکار ہو جائیں تو شایداس  سے بچنے کی کوشش بھی کریں تا کہ ان کے عمل برباد نہ ہوں اور وہ ہمیشگی کے بڑے عذاب اور سخت عقاب میں مبتلا ہونے سے بچ سکیں ۔ اس کی معرفت حاصل کرنا ایک بہت ہی اہم کام ہے کیونکہ جو کفر کا مرتکب ہوجائے اس کے تمام اعمال برباد ہوجا تے ہیں اور ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی ایک جماعت مثلا ًسیدناامام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے نزدیک اس پر ہمیشہ کے لئے جہنم کا عذاب لازم ہو جائے گا۔ اور ان کے شاگردانِ ذی ِمقام نے بکثرت کفریہ اعمال واقوال بیان فرمادیئے ہیں اوراس معاملہ کی اہمیت کے پیشِ نظر اس میں خوب کو شش سے کام لیا ہے اور باوجود اس کے کہ ان کامذہب یہ ہے کہ اِرتداد یعنی دین سے پھرنا اعمال کو برباد کر دیتا ہے اورمرتد کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جاتی ہے اور اپنے شوہر پر حرام ہو جاتی ہے، اس گروہ نے اس معاملہ میں دیگر ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیسے زیادہ کو شش کی ہے لہٰذا ہر وہ شخص جو اپنے دین پر استقامت چاہتا ہے اس پرلا زم ہے کہ ان علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اقوال کا علم حاصل کرے تا کہ ان کفریات سے بچ سکے اور ان میں پڑ کر اپنے اعمال برباد نہ کر بیٹھے اور اس پررب عَزَّ وَجَلَّ  کا دائمی عذاب لازم نہ ہو جائے اوران ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک اس کی عورت اس کے نکاح سے نہ نکل جائے، جبکہ سیدنا امام شافعی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے نزدیک ارتداد اعمال کو تو برباد نہیں کرتا مگر ان کے ثواب کو ختم کردیتاہے، لہٰذا امام شافعی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اور دیگر ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے درمیان قضاء یعنی دائمی عذاب ہی کا اختلاف رہ جاتا ہے۔ جمہور علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیاگر چہ احناف کی تقلید نہیں کرتے مگر شریعت اور دین کی حفاظت، احتیاط اور جہاں تک ممکن ہو، اختلاف کی رعایت کا تقاضا کرتی ہے، خصو صاً ایسے معاملہ میں جو دنیا وآخرت کے شدید حرج کا سبب بن سکتاہے اور یقینا یہی سب سے شدید حرج ہے۔ اسی لئے میں نے ان ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک قابل اعتماد اورغیر معتبر اقوال نیز دیگر مذاہب کے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اقوال بھی اپنی اس کتاب میں جمع کردیئے ہیں جس کا ذکرآئندہ آئے گا، میں ان تمام اقوال کی جانب یہاں صرف کچھ اشارے دوں گا اور جو شخص ان تمام فروعات کااحاطہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ ہماری اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرے۔

٭٭٭٭٭٭

کفر و شرک کی اقسام

 کفر کی اقسام میں سے چند یہ ہیں :

٭…انسان مستقبل قریب یابعید میں کفر یا شرک کرنے کا عزم کرے۔

٭…زبان یا دل سے کسی کفر کو اچھا جانے اگرچہ وہ چیز ظاہرًا محالِ عقلی ہی کیوں نہ ہو، اس صورت میں وہ فورًا ہی کافر ہوجائے گا ۔

٭…ایسی چیز کا عقیدہ رکھے یاایسا کام کرے یا ایسی بات کہے جو کفر کو واجب کرتی ہو اگرچہ اس کا عقیدہ رکھتے ہوئے کہے یا عنادکے طور پریا پھر استہزاء کے طور پر کہے، مثلاً کوئی شخص عالَم (یعنی کائنات)  کے قدیم ہونے کاعقیدہ رکھے، اگرچہ کائنات کو نوعی طور پر قدیم جانے۔

٭…ایسی بات کی نفی کرے جس کا ثبوت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اجماع سے ثابت ہو اور اس کا ضرویارتِ دین سے ہونا بھی معلوم ہو جیسے ذات باری تعالیٰ کی صفات اصلیہ مثلا ًاس کے علم اور قدرت کا انکار کرنا یا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے جزئیات کے عالِم ہونے کا انکار کرنا۔

٭…اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ایسی چیز کو ثابت کرے جس کا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے منع ہونا ضروریات دین سے ہوجیسے رنگ، روپ وغیرہ ثابت کرنا یا یہ کہنا کہ وہ عالَم کے ساتھ متصل ہے یا ایک اختلافی مسئلہ کے مطابق عالَم سے خارج ہے۔

                خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی ذات کو نقص سے متصف کرنے کااعتقادیاتوصراحتاًرکھے یاایسی بات کااعتقادرکھے جس سے نقص لازم آتاہو، لہٰذا پہلی صورت بالاجماع کفر ہے اور دوسری کے کفر ہونے میں اختلاف ہے، جبکہ ہمارے نزدیک صحیح ترین قول کے مطابق یہ دوسری صورت کفر نہیں ، لہٰذا معلوم ہوا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو مجسَّم یا جوہر کہنے والے کے قول سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر جو نقص لازم آتاہے اس بناء پر اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی مگر جب وہ اس نقص کا اعتقاد رکھے یا اس کی صراحت کردے تواس صور ت میں اس کی تکفیر کی جائے گی،اور اسی طرح انسان کا کسی مخلوق مثلاً سورج کو سجدہ کرنا بشرطیکہ اس کے عذر پرکوئی ظاہری قرینہ دلالت نہ کررہا ہو تو اس کی بھی تکفیر نہیں کی جائے گی۔  ( ظاہری قرینے کے اس کے عذر پر دلالت نہ کرنے کی یہ قید آئندہ آنے والے بیشتر مسائل میں بھی آئے گی۔)

٭…نیز یہ اُصول ہے کہ ہروہ شخص جو کوئی ایسا عمل کرے جس کے بارے میں مسلمانوں کا اجماع ہو کہ یہ کام کافر ہی سے صادر ہوسکتاہے تو ایساکام کرنا بھی کفرہے اگرچہ وہ اپنے مسلمان ہونے کی صراحت ہی کیوں نہ کرتاہو۔ جیسے کفار کے ساتھ ان کا مذہبی لباس مثلا ًزنار وغیرہ پہن کران کے عبادت خانے کی طرف جانا یاکسی ایسے کاغذ کو نجاست  (یعنی گندگی)  میں ڈال دینا جس میں  قرآن پاک، علمِ شرعی یا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کانام بلکہ کسی نبی یا فرشتے کا نام بھی لکھا ہوا ہو۔

                بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں :  ’’ ان اشیاء کو ایسی گندگی میں ڈالنا بھی کفر ہے جو پاک ہوجیسا کہ مَنِیْ (جوکہ شوافع کے نزدیک پاک ہے) ، رینٹھ یا تھوک میں ڈال دینا یا ان ناموں یا مسجد کوگندگی سے آلودہ کرنا بھی اسی طرح ہے اگرچہ وہ نجاست اتنی قلیل ہی کیوں نہ ہوجس کی شریعت مطہرہ میں معافی ہے۔

٭… جس نبی کی نبوت پر اجماع ہے اس کی نبوت میں شک کرنا بھی کفر ہے، اس لئے چونکہ حضرت سیدنا خضر عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت سیدنا خالد بن سنان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت میں اختلا ف ہے لہٰذا ان کی نبوت کا انکار کفر نہیں ،

٭… جس کتاب کے منزل من اللہ  تعالیٰ ہونے پر اجماع ہے جیسے تورات یا انجیل، حضرت سیدنا داؤد عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زبور یاحضرت سیدنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحیفے یا جس آیت کے قرآن ہونے پراجماع ہے جیسے معو ّذتین (یعنی سورۃ فلق اور سورۃ ناس) ، لہٰذا ان میں سے کسی کے کلامِ الہٰیعَزَّ وَجَلَّ ہونے میں شک کرنا بھی کفر ہے۔

 



Total Pages: 320

Go To