Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

خاتون اور اس کی بیٹیاں تیرے پاس ہیں ؟ ‘‘ میں نے عرض کی:  ’’ جی ہاں ،یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ‘‘ توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:  ’’ یہ محل تیرے اورتیرے گھر والوں کے لئے ہے۔ ‘‘  آخرکار وہ مسلمان چلا گیا اور اس کے حزن و ملال کواللہ  عَزَّ وَجَلَّہی جانتا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر209:                         

گناہ کے کام میں مال خرچ کرنا

اگرچہ ایک فلس  (یعنی درہم کاچھٹاحصہ) ہی کیوں نہ ہوخواہ وہ گناہ کبیرہ ہویاصغیرہ۔

                اسے بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیاگیا ہے جس پر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا کلام دلالت کرتاہے کیونکہ انہوں نے اسے اس نادانی اور فضول خرچی میں شمارکیا ہے جو مال میں تصرف کرنے سے روکنے کا سبب ہے، اور اس بات کی بھی تصریح کی ہے:  ’’ جس کو تصرف سے روک دیا جائے اس کی نہ تو گواہی صحیح ہوتی ہے اور نہ ہی ولایت جیسے اپنی بیٹی کا نکاح کرنا۔ ‘‘

                شہادت اور ولایت سے اُسے روک دینا اس کے فاسق ہونے کی خبر دیتا ہے اور جس نے اسے فسق قرار دیا اس کے نزدیک یہ بھی کبیرہ گناہ ہے، معنوی طور پر اس کی توجیہ یہ ہے کہ نفس کے نزدیک مال سے زیادہ عزیز کوئی چیز نہیں اور جب اسے گناہوں میں خرچ کرنا آسان ہو جائے تو یہ گناہوں کی محبت میں مکمل طور پر اِنہماک پر دلالت کرتاہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس انہماک سے عظیم مفاسد پیدا ہوتے ہیں لہذا یہ معنوی طور پر بھی کبیرہ گناہ ہے۔

 

 

٭٭٭٭٭٭

صلح کابیان

کبیرہ نمبر210:

پڑوسی کورہائش کے معاملے میں تکلیف پہنچانا

پڑوسی کے گھر سے اونچا گھر بنانا یا ایسی عمارت بنانا یا ایسی طرز پرعمارت بنانا

جس سے اسے تکلیف پہنچتی ہو اگرچہ پڑوسی ذمی اور کافر ہی کیوں نہ ہو۔

{1}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو ہر گز تکلیف نہ دے، جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے اورجو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ ‘‘   ( صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب الحث علی اکرام الجار والضیفالخ ،الحدیث:  ۱۷۴ ، ص ۶۸۸ )

{2}… مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے۔ ‘‘                      (المرجع السابق،الحدیث: ۱۷۶ ، ص ۶۸۸)

{3}…جبکہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :  ’’ اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ، باب الادب ، باب من کان یومن باللہ  والیومالخ، الحدیث:  ۶۰۱۹، ص ۵۰۹)

{4}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  سے ارشاد فرمایا:  ’’ تم زنا کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:  ’’ حرام ہے، اسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قیامت تک کے لئے حرام فرما دیا ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ آدمی کا 10عورتوں سے زنا کرنا اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے سے کم گناہ ہے۔ ‘‘  پھر دریافت فرمایا:  ’’ تم چوری کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے حرام قرار دیا ہے لہذا یہ قیامت تک کے لئے حرام ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ آدمی کا 10گھروں سے چوری کرنا اپنے پڑوسی کے گھر سے چوری کرنے سے کم گناہ ہے۔ ‘‘                ( المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث المقداد بن الأسود ، الحدیث:  ۲۳۹۱۵ ، ج۹ ، ص ۲۲۶)

{5}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!  وہ مؤمن نہیں ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!  وہ ایمان والا نہیں ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!  وہ مؤمن نہیں ہو سکتا۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  وہ  (بد نصیب)  کون ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس کی برائیوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ رہے۔ ‘‘          ( صحیح البخاری ،کتاب الادب ، باب اثم من لایامن جارہ بوائقہ ، الحدیث:  ۶۰۱۶ ، ص۵۰۹)

 ( المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث ابی شریح الخزاعی،الحدیث:  ۱۶۳۷۲ ، ج۵ ،ص ۵۱۴)

{6}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ رہے وہ مؤمن نہیں ۔ ‘‘                              ( مسند ابی یعلٰی الموصلی ، مسندانس بن مالک، الحدیث:  ۴۲۳۶ ، ج ۳ ، ص ۴۴۲)

{7}…سرکار ِمدینہ، راحت قلب وسینہ،باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو جائے، جب وہ (پڑوسی)  شب باشی کرے تو اس کے شر سے محفوظ ہو،بے شک مؤمن تو وہ ہے جو خود پریشانی میں ہواور دوسرے لوگ اس کی طرف سے راحت میں ہوں ۔ ‘‘

 (الترغیب والترہیب،کتاب البروالصلۃ،باب الترہیب من اذیالخ،الحدیث: ۳۹۰۱،ج۳،ص۴۰،۲۳۹)

{8}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!  بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے پڑوسی یا بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے۔ ‘‘     ( صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب الدلیل علی ان من خصال الایمان الخ ، الحدیث:  ۱۷۱ ، ص۶۸۸)

 



Total Pages: 320

Go To