Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

قرض اداکرنے میں ٹال مٹول کرنا

{1}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے، سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ قرض کی ادائیگی میں مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو مال دار شخص کا حوالہ دیا جائے تووہ اسی سے مانگے۔ ‘‘      ( صحیح مسلم ،کتاب المساقاۃ ، باب تحریم مطل الغنی الخ ، الحدیث ۴۴۰۲ ، ص ۹۵۰)

{2}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ قدرت رکھنے والے کا ٹال مٹول کرنا اس کے مال اور سزا کو جائز کر دیتا ہے۔ ‘‘    (صحیح ابن حبان ،کتاب الدعوی،باب عقوبۃ الماکل،الحدیث:  ۵۰۶۶،ج۷،ص۲۷۳)

                یعنی لوگوں سے اس کی ٹال مٹول اور برے معاملے کا ذکر کرنا جائز ہے کیونکہ مظلوم کے لئے صرف ظالم کے اس ظلم کا ذکر کرنا جائز ہے جو ظالم نے اس کے ساتھ کیا ہے اور اسے قید کرنا یا مارنا بھی جائز ہے۔

{3}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ظلم کر نے والے امیر، بوڑھے جاہل اور تکبر کرنے والے فقیر کو ناپسند فرماتا ہے۔ ‘‘    ( المعجم الاوسط ، الحدیث:  ۵۴۵۸ ، ج۴ ،ص ۱۳۰)

{4}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس قوم کو پاک نہیں کرتا جس کا کمزور طاقتور سے پریشان ہوئے بغیر اپنا حق وصول نہیں کر سکتا۔ ‘‘  مزید ارشاد فرمایا:  ’’ جو قرض دینے والے سے اس حال میں جدا ہوا کہ وہ اس سے راضی تھا تو اس کے لئے زمین کے چوپائے اور پانی کی مچھلیاں دعا کرتی ہیں ۔ ‘‘   ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۵۹۱ ، ج۲۴ ، ص ۲۳۳)

{5}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جو بندہ قدرت کے باوجود اپنے  قرض دینے والے سے ٹال مٹول کرتا ہے تو ہر دن، رات، جمعہ اور مہینہ میں اس کا ظلم لکھا جاتا ہے۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۵۹۲ ، ج۲۴ ، ص ۲۳۴،بتغیر قلیل)

{6}…حضرت سیدتنا خولہ زوجہ حمزہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  سے مروی ہے:  ’’ ایک آدمی کی سیدعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرایک وسق  (60 صاع ) کھجوریں قرض تھیں ، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک انصاری کو حکم دیا کہ اسے ادا کرے، اس نے کم کھجوریں ادا کیں تو اس شخص نے لینے سے انکار کر دیا، انصاری نے کہا:  ’’ کیا تو اب سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس جائے گا؟ ‘‘  اس نے کہا:  ’’ کیوں نہیں ، اور کون شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے زیادہ عادل ہو سکتا ہے۔ ‘‘  یہ سن کر حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آنکھیں اشکبار ہو گئیں ، پھر ارشاد فرمایا:  ’’ اس نے سچ کہا، مجھ سے زیادہ کون عدل کرنے کا حق دار ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس قوم کو پاک نہیں کرتا جس کا کمزور طاقتور سے اپنا حق پریشان ہوئے بغیر وصول نہیں کر سکتا۔ ‘‘  پھر ارشاد فرمایا:  ’’ اے خولہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا !  شما ر کرو اور اسے پورا ادا کرو،  جو قرض دینے والے سے اس حال میں جدا ہوا کہ وہ اس سے راضی تھا تو اس کے لئے زمین کے چوپائے اور سمندر کی مچھلیاں دعا کرتی ہیں ، نیز جو بندہ قدرت کے باوجود اپنے قرض دینے والے سے ٹال مٹول کرتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہر دن اور رات اس کا گناہ لکھتا ہے۔ ‘‘   ( المعجم الاوسط ، الحدیث:  ۵۰۲۹ ، ج ۴ ،ص ۱۰)

{7}…سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ وہ قوم پاک نہیں ہو سکتی جس کے کمزور کو اس کا حق پریشان کئے بغیر نہ دیا جائے۔ ‘‘                    ( المرجع السابق، الحدیث:  ۵۸۵۰ ، ج ۴ ، ص ۲۴۰)

{8}…ایک اعرابی کا سرکارِمدینہ،راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر قرض تھا، اس نے شدید تقاضا کیایہاں تک کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کہا میں آپ سے جھگڑا کروں گا مگر یہ کہ آپ ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) ادا کر دیں ۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے اسے جھڑکا اور کہا تیرا برا ہو جانتا نہیں کس سے بات کر رہا ہے؟ ‘‘  تو رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ صاحبِ حق کے ساتھ تمہیں کیاہے؟ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدتنا خولہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کو بلا بھیجا اور اُن سے فرمایا:  ’’ اگر تمہارے پاس کھجوریں ہیں تو ہمیں قرض دے دے جب ہمارے پاس آئیں گی تو تمہیں ادا کر دیں گے۔ ‘‘  انہوں نے عرض کی:  ’’ جی ہاں ، یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر قربان ہوں ۔ ‘‘ پس انہوں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کھجوریں قرض دیں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اعرابی کاقرض بھی ادا کیا اور اسے کھلایا بھی تو  اس نے کہا:  ’’ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے پورا بدلہ عطافرمایا ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پورا بدلہ دے۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ یہی نیک لوگ ہیں کیونکہ وہ قوم پاک نہیں ہو سکتی جس میں کمزور اپنا حق پریشان ہوئے بغیر نہیں لے سکتا۔ ‘‘                 ( سنن ابن ماجۃ،ابواب الصدقات ، باب لصاحب الحق سلطان ،الحدیث:  ۲۴۲۶، ص ۲۶۲۲)  

تنبیہ:

                اسے بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے کیونکہ ظلم، عزت کا حلال ہونا اور سزا بڑی وعیدوں میں سے ہے بلکہ ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی ایک جماعت نے تصریح کی ہے اور کہاہے کہ ’’ اس میں اتفاق ہے کہ جس نے حاکم کے حکم کے بعد قدرت کے باوجود قرض ادا نہ کیا تو حاکم کو اختیار ہے کہ اسے سخت سزا دے اور لوہے کے ساتھ سزا دے یہاں تک کہ وہ ادا کرے یا مر جائے۔جیساکہ نماز چھوڑنے والے کے بارے میں کہاگیاہے۔

 

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

باب الحجر

حجرکابیان

کبیرہ نمبر208:                                               

یتیم کامال کھانا

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عایشان ہے:

اِنَّ  الَّذِیْنَ  یَاْكُلُوْنَ  اَمْوَالَ  الْیَتٰمٰى  ظُلْمًا  اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًاؕ-وَ  سَیَصْلَوْنَ  سَعِیْرًا۠ (۱۰)   (پ۴، النسآء: ۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان :  وہ جو یتیموں کا مال نا حق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتاہے کہ بھڑکتے دھڑے  (آتش کدے ) میں جائیں گے۔

                حضرت سیدنا قتادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں : ’یہ آیتِ مبارکہ قبیلہ غطفان کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہو ئی جو اپنے نابالغ یتیم بھتیجے کے مال کا والی بنا اور اسے کھا گیا۔ ‘‘

 



Total Pages: 320

Go To