Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{7}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس شخص نے کم یازیادہ مہر پر کسی عورت سے نکاح کیا لیکن اس کاا دا کرنے کاارادہ نہ تھا تو اس نے دھوکا کیا،اور ادائیگی کے بغیر مر گیا تو قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے زانی ہو کر ملے گا،اور جس آدمی نے واپس نہ کرنے کے ارادے سے قرض لیاتو اس نے دھوکا کیا یہاں تک کہ اس کامال لے کر مر گیا اور اس کا قرض ادا نہ کیا تو وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے چور بن کر ملے گا۔ ‘‘     (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۱۸۵۱،ج۱،ص۵۰۱)

{8}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن قرض لینے والے کو بلائے گا یہاں تک کہ بندہ اس کے سامنے کھڑا ہو گا تو اس سے کہاجائے گا:  ’’ اے ابن آدم ! تُو نے یہ قرض کیوں لیا؟ اور لوگوں کے حقوق کیوں ضائع کئے؟ ‘‘ وہ عرض کرے گا:  ’’ اے رب عَزَّ وَجَلَّ !  تو جانتاہے کہ میں نے قرض لیا مگرنہ اسے کھایا ،نہ پیا، نہ پہنا، اور نہ ہی ضائع کیا، البتہ وہ یا تو جل گیا یاچوری ہو گیا یا جتنے میں خریدا تھا اس سے کم میں بیچ دیا۔ ‘‘ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:   ’’ میرے بندے نے سچ کہا، میں اس بات کازیادہ حق رکھتا ہوں کہ تیری طرف سے قرض ادا کروں ۔ ‘‘  اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کسی چیز کو بلائے گااور اسے اس کے ترازو میں رکھے گا لہذا اس کی نیکیاں برائیوں سے زیادہ ہو جائیں گی اور وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے فضل ورحمت سے جنت میں داخل ہو جائے گا۔ ‘‘   

                 (المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث عبدالرحمن بن ابی بکر، الحدیث:  ۱۷۰۸،ج۱،ص۴۲۰)

{9}…حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ میں نے دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:  ’’ میں کفر اور قرض سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ ‘‘  ایک آدمی نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کفر کو قرض کے ہم پلہ جانتے ہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ ہاں ۔ ‘‘                         (سنن النسائی، کتاب الاستعاذۃ ، باب الاستعاذۃ من الدین،الحدیث:  ۵۴۷۵،ص۲۴۳۸)

{10}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ صاحبِ قرض اپنے قرض کے ساتھ بندھا ہوا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں تنہائی کی فریاد کرے گا۔ ‘‘    (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۸۹۳،ج۱،ص۲۵۹)

{11}…حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ ان کبیرہ گناہوں کے بعد جن سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے منع فرمایا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ بندہ مرنے کے بعد اس حالت میں اُس کی بارگاہ میں حاضرہوکہ اس پر ایسا قرض ہو جسے اس نے پورا نہ کیا ہو۔ ‘‘  (سنن ابی داؤد، کتاب البیوع، باب فی التشدید فی الدین، الحدیث:  ۳۳۴۲،ص۱۴۷۴)

{12}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ 4شخص ایسے ہیں جو جہنمیوں کو ان کی اذیت پر مزید تکلیف دیں گے، وہ حَمِیْم اور جَحِیْم کے درمیان دوڑیں گے، ہلاکت اور تباہی کوپکاریں گے، جہنمی ایک دوسرے سے کہیں گے:  ’’ یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ہماری تکلیف کواور زیادہ کر دیا؟ ‘‘   (۱) پہلے شخص پر انگاروں کا تابوت معلق ہو گا  (۲) دوسرا اپنی انتڑیوں کو گھسیٹ رہا ہو گا  (۳) تیسرے کے منہ سے پیپ اور خون بہہ رہا ہو گا اور  (۴) چوتھا آدمی اپنا گوشت کھا رہا ہو گا، پس تابوت والے سے کہا جائے گا:  ’’ رحمتِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ  سے دور!  اس شخص کو کیا ہے کہ اس نے ہماری تکلیف کو اور زیادہ کر دیا۔ ‘‘  وہ بتائے گا کہ وہ بدنصیب اس حال میں مرا تھا کہ اس کی گردن پر لوگوں کا بوجھ تھا جسے پورا کرنے کے لئے اس نے کچھ نہیں چھوڑا۔ ‘‘                            (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۷۲۲۶،ج۷،ص۳۱۱)

{13}…حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں : ایک آدمی فوت ہو گیا، ہم نے اسے غسل اور کفن دیااورخوشبولگائی، پھرہم اسے سرکارابد ِقرار،شافعِ روزِشمارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس لے کر حاضر ہوئے کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کا جنازہ پڑھائیں ، ہم نے عرض کی:  ’’ اس کاجنازہ پڑھائیے۔ ‘‘ پس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک قدم چلے پھر دریافت فرمایا:  ’’ کیا اس پر قرض ہے؟ ‘‘ ہم نے عرض کی:  ’’ اس کے ذمہ 2دینار ہیں ۔ ‘‘ توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمواپس چلے گئے، حضرت سیدناابوقتادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اس کی ذمہ داری لے لی توہم دوبارہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور حضرت سیدنا ابو قتادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:  ’’ 2دینارمیرے ذمہ ہیں ۔ ‘‘ توشاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ تحقیق قرض خواہ کا حق پوراکردیاگیاہے اور اب میت اس سے بری ہے۔ ‘‘ حضرت سیدناابوقتادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی:  ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی نمازجنازہ پڑھائی،پھراس کے بعدایک دن استفسارفرمایا:  ’’ ان 2دیناروں کا کیا ہوا۔ ‘‘  میں نے عرض کی:  ’’ وہ شخص توکل فوت ہوگیا۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:  ’’ آنے والے کل اسے (یعنی قرض خواہ کو) لوٹادینا۔ ‘‘ حضرت سیدناابوقتادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی:  ’’ میں نے وہ ادا کر دئیے ہیں ۔ ‘‘ تو رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اب اس کا جسم عذاب سے بری ہوگیاہے۔ ‘‘   (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند جابربن عبداللہ  ، ، الحدیث:  ۱۴۵۴۳،ج۵،ص۸۳)

                اگرچہ یہ بات صحیح ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مقروض کی نمازِ جنازہ نہیں ادا فرمائی لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ (یعنی ختم) ہو گیا ( اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایسے لوگوں کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی)  جیسا کہ مسلم شریف کی روایت ہے:

{14}…رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں جب کوئی ایسی میت لائی جاتی جس پر قرض ہوتا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدریافت فرماتے:  ’’ کیا اس نے اپنے قرض کو پورا کرنے کے لئے کچھ چھوڑا ہے۔ ‘‘  اگر کہا جاتا کہ اس نے پورا کرنے کے لئے کچھ چھوڑا ہے تو اس کاجنازہ پڑھاتے ورنہ فرماتے:  ’’ اپنے رفیق کی نمازجنازہ  پڑھو۔ ‘‘  لیکن جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر فتوحات کے دروازے کھول دئیے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ میں مومنین کے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں ، لہذا جو قرض کی حالت میں مر گیا اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جس نے مال چھوڑا وہ ورثاء کے لئے ہے۔ ‘‘               (صحیح مسلم، کتاب الفرائض ، باب ترک مالاًلو رثتہ، الحدیث:  ۴۱۵۷،ص۹۵۹)

{15}…نبی کریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی گئی:  ’’ مقروض کی نماز جنازہ پڑھائیے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ تمہیں کیا نفع دیتا ہے کہ میں ایسے آدمی کی نمازِ جنازہ پڑھاؤں جس کی روح اپنی قبر میں رہن رکھی ہوئی ہے اور جو آسمان کی طرف بلند نہیں ہوتی، اگر کوئی آدمی اس کے قرض کا ضامن بنے تو میں اس کی نماز پڑھاتا ہوں بے شک میری نماز اس کو نفع دے گی۔ ‘‘  (الترغیب والترہیب، کتاب البیوع، باب الترہیب من الدین الخ،الحدیث:  ۲۸۱۹،ج۲،ص۳۸۷)

{16}…رسول اکرم، شفیعِ مُعظَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ مؤمن کی روح اس کے قرض کی وجہ سے معلَّق رہتی ہے (یعنی اپنے اچھے مقام سے روک دی جاتی ہے) یہاں تک کہ اس کا قرض پورا کر دیا جائے۔ ‘‘

 (جامع الترمذی،



Total Pages: 320

Go To