Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

درمیان اختلاف پیداکردیا۔ ‘‘  (سنن ابن ماجۃ، ابواب الفتن، باب العقوبات ، الحدیث:  ۴۰۱۹،ص۲۷۱۸)

{4}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس قوم میں بھی لوٹ مار یعنی چوری کی کثرت ہوئی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے دلوں پر دشمن کا رعب ڈال دیا، جس قوم میں بھی زنا عام ہوا ان میں اموات کی کثرت ہو گئی، جس قوم نے بھی ناپ تول میں کمی کی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے رزق کو کم کر دیا، جس قوم نے بھی نا حق فیصلہ کیا ان میں لڑائی جھگڑا عام ہو گیا اور جس قوم نے بھی عہد کو توڑا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر دشمن کو مُسلَّط کر دیا۔ ‘‘

 (مشکاۃ المصابیح، کتاب الرقاق، باب تغیر الناس،الفصل الثالث، الحدیث:  ۵۳۷۰،ج۳،ص۲۷۶)

{5}…حضرت سیدناعبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں مرناامانت کے علاوہ تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے، (پھر ارشادفرمایا)  بندے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اگرچہ وہ اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں قتل کیا گیا ہواوراس سے کہاجائے گا:   ’’ اپنی امانت ادا کر۔ ‘‘ وہ عرض کرے گا:  ’’ اے رب عَزَّ وَجَلَّ ! کیسے ادا کروں حالانکہ دنیا توختم ہوگئی۔ ‘‘ پس (فرشتوں سے) کہا جائے گا:  ’’ اسے ھَاوِیَۃ کی طرف لے جاؤ۔ ‘‘ وہ اسے لے کر ھَاوِیَۃکی جانب چل دیں گے اوراس کی امانت اسی ہیئت میں لائی جائے گی جس میں اس دن تھی جب اسے دی گئی تھی،تو وہ اسے دیکھتے ہی پہچان لے گا اور اس کے پیچھے جائے گا یہاں تک کہ اسے حاصل کر لے گا اور اپنے کندھے پر اٹھا لے گا حتی کہ جب اسے یقین ہو جائے گا کہ وہ باہر آ گیا ہے تو وہ اس کے  کندھے سے گر جائے گی اور وہ ہمیشہ اس کے پیچھے جاتا ہی رہے گا۔

                پھر فرمایا:  ’’ نمازایک امانت ہے، وضو بھی امانت ہے، وزن اور ماپ بھی امانت ہیں اور دیگر اشیاء شمار کیں اور ان میں سخت ترین ودیعت ہے۔ ‘‘ حضرت سیدنازاذان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں :  ’’ میں حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے پاس آیا اور ان سے عرض کی:  ’’ کیاآپ نہیں جانتے کہ حضرت سیدنا عبداللہ  بن مسعودرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ایساایساکہاہے؟ ‘‘ توانہوں نے ارشاد فرمایا:   ’’ انہوں نے سچ کہا ہے،کیاآپ نے اللہ  تعالیٰ کا یہ فرمانِ عالیشان نہیں سنا:

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-  (پ۵، النساء: ۵۸)

ترجمۂ کنز الایمان : بے شک اللہ  تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کر و۔

 (شعب الایمان، باب فی الامانات ووجوب ادائھا الی اھلھا، الحدیث:  ۵۲۶۶ ،ج۴، ص ۳ ۲ ۳ )  

تنبیہ:

                علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی تصریح کے مطابق اسے بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور یہ ظاہر بھی ہے کیونکہ یہ لوگوں کے مال باطل طریقے سے کھانے میں شمار ہوتا ہے، اس وجہ سے اس پر شدید وعید ہے، جیسا کہ مذکورہ آیتِ مبارکہ اور ا حادیثِ مبارکہ سے آپ نے جان لیا۔

آیتِ کریمہ (وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ) کی وضاحت:

                آیتِ کریمہ میں کم تولنے والے کو اس لئے مُطَفِّف کہا گیا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ کم تولی ہوئی چیز ہی دیتا ہے جو کہ چوری اور خیانت کی ایک قسم ہے باوجود اس کے کہ اس میں بالکل عدمِ مُرُوَّت کا اظہار ہے اور اسی وجہ سے وَیْْل کے ساتھ انجام بتایا گیا جو کہ شدید عذاب ہے یاجہنم میں ایک وادی ہے اگر اس میں دنیا کے پہاڑ رکھے جائیں تواس کی گر می کی شدت سے پگھل جائیں ، ہم اس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں اور اسی طرح اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ماپ تول میں کمی کی وجہ سے حضرت سیدنا شعیب عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کو شدیدسزادی۔

سوال: غصب کے باب میں آئے گا کہ چاردینار سے کم غصب کرنا کبیرہ گناہ نہیں تو اس کا تقاضاہے کہ یہاں بھی اسی طرح ہو؟

جواب: اس میں اشکال ہے پس اس پر قیاس نہیں کیا جائے گابلکہ اس کے خلاف پر اجماع ہے اورعلامہ اذرعی علیہ ر حمۃاللہ  القوی فرماتے ہیں کہ ’’ یہ حد بندی قابل اعتبار نہیں ۔ ‘‘

                ان میں اس طور پر فرق کیا جائے گا کہ غصب ان چیزوں میں سے نہیں جن کا قلیل کثیر کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ یہ جبر اور غلبہ کے طور پر لیا جاتا ہے، لہذا اُس کا قلیل کثیر کی طرف نہیں لے جاتاالبتہ! کم ماپ تول کا معاملہ اس کے برخلاف ہے،کیونکہ یہ مکر، خیانت اور حیلہ کے طور پر لیا جاتا ہے، لہذا اس کا قلیل کثیر کی طرف لے جاتا ہے پس اس سے نفرت دلانا متعین ہو گیا۔

                اس کی صورت یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کی قلیل اور کثیر مقدار کبیرہ گناہ ہے تو اس کا وہی حکم ہو گاجو شراب کا ایک قطرہ پینے کا ہے کیونکہ یہ کبیرہ گناہ ہے اگرچہ اس میں شراب کا فساد نہ بھی پایا جائے، اس لئے کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس کی قلیل مقدار کثیر کی طرف لے جاتی ہے، لہذا اس فرق کی بناء پر چوری کو غصب کے ساتھ ملانا مشکل نہیں ہے کیونکہ چور کو اکثر خوف ہوتا ہے اور اس کے لئے غیر کا مال لینا ممکن نہیں ہوتا یہاں تک کہ کہاجائے کہ اس کی قلیل مقدار (یعنی چھوٹی چوری)  کثیرمقدار (یعنی بڑی چوری)  کی طرف لے جاتی ہے البتہ!  ’’ مُطَفِّف ‘‘  (یعنی ماپ تول میں کمی کرنے والے ) کامعاملہ اورہے،کیونکہ اس کے لئے غیر کا مال لینا ممکن ہوتا ہے، پس اس میں قلیل مقدار کا کثیر مقدار کی طرف لے جانا زیادہ آسان اور ظاہر ہے۔ اس میں غور وفکر کروکیونکہ میں نے کسی کو اس پر آگاہ ہوتے یا اشارہ کرتے نہیں پایا۔

                نیز یہ بات اس فرق کی تائید بھی کرتی ہے کہ ایک جماعت نے غصب میں مذکورہ شرط لگائی ہے اور کہاہے کہ ’’ چوری میں ایسی کوئی شرط نہیں ۔ ‘‘ گویا انہوں نے میرے ذکر کردہ کلام میں غورکیا اور اس کے اور غصب کے درمیان میرے ثابت کردہ ظاہر فرق کی وجہ سے بعض متاخرین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا یہ مؤقف بھی ردہوگیا :  ’’ معمولی طورپر تول میں کمی کرناصغیرہ ہے۔ ‘‘ مگر غصب میں اختلاف اس صورت میں منقول ہے کہ وہ اختلاف ایک دینار اٹھا لینے پرحدلگانے کے بارے میں ہے۔

                البتہ اتنی معمولی سی چیز غصب کرنا یاکم تولنا بھی صغیرہ گناہ ہونا چاہئے جس کو اکثر لوگ معاف کر دیتے ہیں غصب کرنا بھی صغیرہ ہونا چاہئے، اور یہ بعید بھی نہیں ، لیکن اکثر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’ ان میں کوئی فرق نہیں ۔ ‘‘  اسی وجہ سے سیدنا ابن عبد السلام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے بیان کیا ہے کہ ’’ اناج غصب کرنا یاچوری کرنا بالاجماع کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘  گویا انہوں نے اکثر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ کے مطلق قول سے یہ اخذ کیا ہے جس کی جانب میں نے اشارہ بھی کیا ہے، اس کی مزید وضاحت غصب کے باب میں آئے گی۔

آگ کے دوپہاڑ:

                حضرت سیدنا مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ میں ایک مرتبہ اپنے پڑوسی کے پاس گیا اس حال میں کہ اس پر موت کے آثار نمایا ں تھے اور وہ کہہ رہاتھا:  ’’ آگ کے دو پہاڑ، آگ کے دو پہاڑ۔ ‘‘  آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ میں نے اس سے پوچھا:  ’’ کیا کہہ رہے ہو؟ ‘‘  تو اس نے بتایا:  ’’ اے ابو یحییٰ!  میرے پاس دو پیمانے تھے، ایک سے دیتا اور دوسرے سے لیتا تھا۔ ‘‘  حضرت سیدنا مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ میں اٹھا اور ایک پیمانے کو دوسرے پر  ( توڑنے کی خاطر)  مارنے لگ گیا۔ ‘‘  تواس نے کہا:  ’’ اے ابو یحییٰ!  جب بھی آپ ایک کو دوسرے پر مارتے ہیں معاملہ زیادہ شدیداور سخت ہو جاتاہے۔ ‘‘  پس وہ اسی مرض میں مر گیا۔ ‘‘

                کسی نیک بزرگ کا قول ہے:  ’’ ہر تولنے اور ماپنے والے پر آگ پیش کی جائے گی کیونکہ کوئی نہیں بچ سکتا سوائے اس کے جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بچائے۔ ‘‘

 



Total Pages: 320

Go To