Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کس کے لئے؟توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ،اس کی کتاب، اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، مسلمانوں کے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ ، اور عام لوگوں کے لئے۔ ‘‘                      ( صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب بیان ان الدین النصیحۃ ،الحدیث: ۱۹۶ ، ص ۶۸۹)

{17}…نسائی شریف کے الفاظ یہ ہیں :  ’’ یقینا دین توخیرخواہی کا نام ہے۔ ‘‘

 ( سنن النسائی ،کتاب البیعۃ ،باب النصیحۃ للامام، الحدیث: ۴۲۰۲ ، ص ۲۳۶۲ )

{18}…ابو داؤد شریف میں الفاظ یہ ہیں کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ بے شک دین خیرخواہی کا نام ہے، یقینا دین خیرخواہی کا نام ہے، بے شک دین خیرخواہی کا نام ہے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ، باب فی النصیحۃ ، الحدیث: ۴۹۴۴، ص ۱۵۸۵ )

{19}…طبرانی شریف میں اس طرح ہے کہ سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ دین کی اصل خیر خواہی ہے۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کس کے لئے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ، اس کے دین، مسلمانوں کے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیاور عام لوگوں کے لئے۔ ‘‘    ( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۱۱۸۴،ج۱،ص۳۲۷ )

{20}…حضرت سیدناجریررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ میں شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس حاضر ہوا اور عرض کی:  ’’ میں اسلام پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیعت کرتا ہوں ۔ ‘‘  توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ پر ہر مسلمان کے لئے خیر خواہی کرنے کی شرط عائد کی، پس میں نے اس بات پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بیعت کی اور اس مسجد کے رب کی قسم! بے شک میں تمہارا خیر خواہ ہوں ۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب الایمان ، باب قول النبی صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم الدین النصیحۃ ، الحدیث: ۵۸، ص۷)

{21}… ایک اور روایت میں اس طرح ہے:  ’’ میں نے حکم سننے اوراطاعت کرنے پراللہ  کے رسول  عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بیعت کی اور یہ کہ ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں اور جب آپ کوئی چیز بیچتے یا خریدتے تو فرماتے:  ’’ جو چیزمیں نے تجھ سے لی وہ مجھے اس چیزسے زیادہ پسندہے جومیں نے تجھے دی پس تجھے اختیار ہے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ، باب فی النصیحۃ ، الحدیث: ۴۹۴۵، ص ۱۵۸۵)

{22}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:   ’’  مجھے اپنے بندے کی عبادت میں سب سے زیادہ پسند میرے لئے خیر خواہی کرنا ہے۔ ‘‘

 ( المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث ابی امامۃ الباھلی، الحدیث: ۲۲۲۵۳ ، ج۸ ،ص۲۸۰)

{23}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جو مسلمانوں کے معاملے کو اہمیت نہیں دیتا وہ ان میں سے نہیں ، اور جو صبح شام اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ، اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم، اس کی کتاب، اس کے امام اور عام مسلمانوں کے لئے خیر خواہی نہیں کرتا وہ بھی ان میں سے نہیں ۔ ‘‘      (المعجم الصغیر للطبرانی،الحدیث: ۹۰۸ ،ج۲،ص۵۰)

{24}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری کتاب الایمان ، باب من الایمان ان یحب لاخیہ الخ ، الحدیث:  ۱۳ ، ص ۳ )

{25}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ بندہ ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک کہ لوگوں کے لئے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان،کتاب الایمان،باب ماجاء فی صفات المؤمن،، الحدیث: ۲۳۵،ج۱،ص۲۲۹)

تنبیہ:

                ان احادیثِ مبارکہ میں اس گناہ کے مرتکب سے اسلام کی نفی کئے جانے کی وجہ سے اسے کبیرہ گناہ کہا گیا ہے اوراس وجہ سے بھی کہ وہ ہمیشہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی میں رہتا ہے یا ملائکہ اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں ، پھر میں نے بعض کو اس کے کبیرہ ہونے کی تصریح کرتے ہو ئے بھی دیکھا، لیکن الروضۃ میں اسے صغیرہ شمار کیا گیا حالانکہ یہ بات محلِ نظر ہے کیونکہ اس میں شدید وعید پائی جاتی ہے۔

                حرام دھوکایہ ہے:  ’’ سامان والا جانتا ہو، خواہ وہ بیچنے والا ہو یا خریدنے والا، کہ اس میں ایسا عیب ہے کہ اگرلینے والا اس پر مطلع ہو گیا تو اسے نہ لے گا۔ ‘‘  لہٰذا اس پر لازم ہے کہ اسے بتا دے تا کہ وہ اس کو لینے میں بصیرت سے کام لے اور حضرت سیدنا واثلہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  وغیرہ کی حدیث کی بناء پر کہاگیا ہے کہ ضروری ہے کہ جو عیب نہیں جانتا اس کو وہ عیب بتا دیا جائے اگرچہ وہ اس سے نہ بھی پوچھے جیسا کہ جب کسی انسان کو دیکھے کہ وہ کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے رہا ہے اور وہ مرد یا عورت کے کسی عیب کو جانتا ہے تو ا س پر واجب ہے کہ انہیں خبر دے یا کسی انسان کو کسی معاملہ میں دوسرے کے ساتھ دیکھے تو وہ دونوں میں سے کسی ایک میں کوئی عیب جانتا ہو تو دوسرے کو بتا دے اگرچہ وہ اس سے نہ بھی پوچھے اور عام اور خاص مسلمانوں کے لئے جس خیر خواہی کی تاکید کی گئی ہے یہ سب اسی کی ادائیگی ہے۔

                ہم سے ایک طویل سوال پوچھا گیا جس میں بہت سے اَحکام کا تذکرہ ہے لہذا میں یہاں اس کا ذکر کرناپسندکروں گا کیونکہ اس میں جس نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے وہ وہی ہے جس کے بارے میں میں یہ کتاب تالیف کررہاہوں اور اس کا مرتکب وہی ہو سکتا ہے جس کا کوئی دین نہ ہونیزجو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  سے غافل ہو۔

سوال: آج کل یہ عادت ہے کہ بعض تاجر حضرات بہت چھوٹے برتن میں کالی مرچ خریدتے ہیں جیساکہ بوریا ہوتاہے، پھر اسے ایک ایسے بڑے اور بھاری برتن میں ڈال لیتے ہیں جو بوریے کا5گناہوتا ہے کیونکہ وہ تقریباً3من ہوتاہے اورپھراس بھاری اور بڑے برتن میں تھیلے جمع ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ 20من ہو جاتا ہے پھر اس برتن اوراس میں موجودچیز کوبیچا

 جاتاہے اور وزن کل کا ہوتا ہے لہذا قیمت برتن اور اس میں موجود چیز کے مطابق وصول کی جاتی ہے،

 (۱) …کیا یہ فعل جائز ہے یا حرام اوردھوکا ہے، جس کے کرنے والے کو امام چاہے توتعزیرًاکوڑے مارے، بازاروں میں چکر  لگوائے، قید کرے اور اگر حاکم کا یہ مذہب ہوکہ اس مال کا لینا جائز ہے تولے لے؟

 (۲) …تو کیا ایسی بیع صحیح ہو گی یاباطل اور اگر باطل ہے تو کیا یہ باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھانا ہوا یا نہیں ؟

 (۳) … کیا امیرِ شہر پر لازم ہے کہ وہ تاجروں کو ڈانٹے اور اس سے منع کرے اور ان میں سے جو ایسا کرے اس کو سزا دے؟

 (۴) …کیا متقی تاجروں پر لازم ہے کہ جب انہیں کسی کے بارے میں علم ہو کہ وہ ایسا کرتا ہے کہ وہ شرعی یا سیاسی حاکموں کو خبر دیں یہاں تک کہ وہ اسے سختی سے ایسا کرنے سے منع کریں اور اگر انکار کرے تو سخت



Total Pages: 320

Go To