Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                ایک شخص نے حضرت سیدنا طاؤس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی تو اس کے پاس ایک بزرگ تشریف لائے، اس نے ان سے پوچھا:   ’’ کیا آپ ہی طاؤس ہیں ؟ ‘‘  تو اس بزرگ نے ارشاد فرمایا:   ’’ نہیں !  میں ان کا بیٹا ہوں ۔ ‘‘  تو اس شخص نے کہا:   ’’ اگر تم طاؤس کے بیٹے ہو تو یقینا تمہارے والد ِگرامی سٹھیاگئے ہوں گے (یعنیبُڑھاپے کی وجہ سے اُن کی عقل جاتی رہی  ہو گی )  ۔ ‘‘  اس بزرگ نے جواب دیا :  ’’ عالم کبھی نہیں سٹھیاتا۔ ‘‘  پھر انہوں نے مزید ارشاد فرمایا:  ’’ جب تم ان کے پاس جاؤ تو گفتگو مختصر کرنا۔ ‘‘  اور وہ شخص جب حضرت سیدنا طاؤس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے بیٹے نے پھر اس سے کہا:   ’’ اگر تم کوئی سوال کرنا چاہو تو مختصر سوال کرنا۔ ‘‘  تواس نے کہا:   ’’ اگر وہ مجھ سے مختصر کلام کریں گے تو میں بھی مختصر کلام کروں گا۔ ‘‘  اس سے حضرت سیدنا طاؤس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ میں تمہیں اپنی اس مجلس میں تورات، انجیل اور قرآن کریم سکھاؤں گا۔ ‘‘  تواس نے عرض کی:   ’’ اگر آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہمجھے یہ تینوں کتابیں سکھا ئیں گے تو میں بھی آپ سے کوئی سوال نہ کروں گا۔ ‘‘  تو آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے اتنا ڈرو کہ تمہارے نزدیک اس سے زیادہ خوف میں ڈالنے والی کوئی چیز نہ ہو اور اس سے اپنے خوف سے زیادہ امید رکھو اور جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہو لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا طاؤسرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے بیٹے کی اس بات کہ ’’ عالم کبھی نہیں سٹھیاتا۔ ‘‘  کی تائید حضرت سیدنا عکرمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے اس قول سے بھی ہوتی ہے جو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان:  

وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ  (پ ۱۴، النحل:  ۷۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اورتم میں کوئی سب سے ناقص عمر کی طرف پھیرا جاتاہے۔

کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ ’’ جس نے قرآن کریم کا حق ادا کرتے ہوئے اسے پڑھا وہ اس حالت کو نہیں پہنچے گا۔ ‘‘  

                 ’’ عالم کے نہ سٹھیانے  ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ بڑی عمر میں عالم کی عقل میں عام لوگوں کی طرح فساد پیدا نہیں ہوتا یعنی جس طرح عام لوگ بڑی عمر میں بچو ں کی سی بلکہ ان سے بھی بدتر حرکتیں کرنے لگتے ہیں عالم اس طرح نہیں کرے گا یہی وہ برائی ہے جس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طر ف سے علماء کی حفاظت کی جاتی ہے۔

                حضرت سیدنا مجاہد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اللہ  تعالیٰ کے اس فرمان:

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ (۴۶)   (پ ۲۷، الرحمن:  ۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں ۔

کی تفسیرمیں فرمایا:  ’’ اس سے مراد وہ شخص ہے جو گناہ کے بارے میں سوچے پھر اسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا خیال آ جائے اور وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے خوف اور اس سے حیا کرتے ہوئے اس گناہ کو چھوڑ دے۔ ‘‘  

  دو جنتیں مل گئیں :

                منقول ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے زمانہ میں ایک نوجوان تھا جومتقی، پرہیزگار  اور مسجد میں کثرت سے آتا جاتا تھا۔ اس سے ایک عورت محبت کرتی تھی، ایک مرتبہ اس عورت نے اسے اپنے پا س بلایا یہا ں تک کہ وہ اس کے ساتھ خلوت میں آ گیا پھر اسے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں کھڑے ہونے کا خیال آیا تو وہ غش کھا کر گر گیا اس عورت نے اسے وہاں سے اٹھا کر اپنے دروازے پر ڈال دیا، پھر اس نوجوان کا والد آیا اور اسے اٹھا کر اپنے گھر لے گیا، لیکن اس نوجوان کا رنگ پیلا پڑ چکا تھا اور وہ مسلسل کانپ رہا تھا یہاں تک کہ اس کا انتقال ہوگیا، اس کی تجہیز وتکفین کرکے اسے دفن کردیا گیا تو حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اس کی قبر کے کنارے کھڑے ہو کر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:  

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ (۴۶)   (پ ۲۷ ،الرحمن: ۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں ۔

تواس کی قبر سے آواز آئی :  ’’ اے عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے دو جنتیں عطا فرما دی ہیں اور وہ مجھ سے راضی بھی ہو گیا ہے۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ سب سے بڑا دھوکا اور سب سے بڑی جرأت یہ ہے کہ گناہگار بندہ اپنے گناہ پرندامت کا اظہار کئے بغیر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے عفو کی اُمید رکھے، اعمال صالحہ کئے بغیر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے نیکیوں کے حصول کی اُمید رکھے، عمل کئے بغیر جزاء کا انتظار کرے اور حدسے بڑھنے کے باوجود اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے مغفرت کی تمنا کرے۔ ‘‘  

                خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  کے حصول اور اس میں اضافہ کا سب سے بڑا ذریعہ علم ہے، جیسا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:  

 اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ-۲۲، فاطر:  ۲۸)   

ترجمۂ کنزالایمان:  اللہ  سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔

                یہی وجہ ہے کہ علماء صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  اور ان کے بعدوالے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیپر خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  کاغلبہ رہتا تھا،  یہاں تک کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:  ’’ کاش!  میں کسی مؤ من کے سینے کا ایک بال ہوتا۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنی موت کے وقت فرمایا:  ’’  عمر ہلاک ہو جائے گا اگراس کی مغفرت نہ ہوئی۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:  ’’ کاش!  مجھے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہ کیا جائے۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے اس قول پر کفریہ کلمات میں کئے گئے اعتراضات کے ذریعے کچھ اشکال وارد ہوتے ہیں مگر ان اشکالات کا جواب یہ ہے کہ ان کی یہ تمنا حقیقت پر مبنی نہ تھی بلکہ اس بات کا اظہار مقصود تھا کہ میرے بہت سے گناہ ایسے ہیں جن پر مجھے دوبارہ زندگی ملنے کے بعد مؤاخذے کا خوف ہے۔

{88}…اس کی نظیر حبیبِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے محبوب ابنِ محبوب حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کا واقعہ ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک ایسے شخص کو جو کلمہ پڑھتا تھا یہ گمان کرتے ہوئے قتل کر دیا کہ یہ حقیقت میں کلمہ نہیں پڑھ رہا بلکہ اپنی جان بچانے کے لئے پڑھ رہا ہے، لیکن جب یہ بات نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان پر عتاب فرمایا اور بار بار یہ ارشاد فرماتے رہے :  ’’ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردْگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بات اتنی مرتبہ ارشاد فرمائی کہ میں تمنا کرنے لگا :  ’’  کاش!  میں ا س دن مسلمان نہ ہوتا۔ ‘‘  (المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث عمران بن حصین، الحدیث: ۱۹۹۵۷،ج۷،ص۲۱۷)

                آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے کفر کی تمنا نہیں کی تھی بلکہ اپنے مسلمان ہونے کے اس واقعے سے مؤخر ہونے کی تمنا کی تھی اوراس کی وجہ یہ تھی کہ اگر یہ واقعہ اسلام لانے سے پہلے کا ہوتا تو اسلام اسے مٹا دیتا۔



Total Pages: 320

Go To