Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان:  ’’ عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ  ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جائز طریقے کے مطابق خوش دلی ہو اور اس میں کھانے کاخاص طور پر ذکر کرناکھانے کے ساتھ مقید کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس کے مال سے نفع حاصل کرنے کے غالب ذریعہ ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے، جیسا کہ اس آیتِ مبارکہ میں ہے:

اِنَّ  الَّذِیْنَ  یَاْكُلُوْنَ  اَمْوَالَ  الْیَتٰمٰى  ظُلْمًا  اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًاؕ-  (پ۴، النسآء: ۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان :  وہ جویتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں ۔

                اس بحث کے دلائل وافر ہیں اور اس میں سختی پر وارد احادیثِ مبارکہ بھی بیشتر ہیں مگر ہم ان میں سے بعض پراکتفاء کریں گے۔

{1}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پاک ہے اور پاک ہی کودوست رکھتاہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مؤمنین کو وہی حکم دیا ہے جو مرسلین کو دیا تھاپس اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-  (پ۱۸، المؤمنون: ۵۱)

ترجمۂ کنز الایمان : اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھے کام کرو ۔

   اور فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ  (پ۲، البقرۃ: ۱۷۲)

ترجمۂ کنز الایمان :  اے ایمان والو کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیز یں ۔

                پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتاہے،جس کے بال پریشان اوربدن غبار آلود ہے (یعنی اس کی حالت ایسی ہے کہ جودعا کرے وہ قبول ہو)  اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر یا رب!  یا رب!  کہتاہے حالانکہ اس کا کھانا حرام ہو،پینا حرام ، لباس حرام ، اورغذا حرام،پھر اس کی دعاکیسے قبول ہو گی۔ ‘‘  (یعنی اگرقبول کی خواہش ہوتوکسبِ حلال اختیارکروکہ بغیراس کے قبولِ دعاکے اسباب بے کارہیں )                   ( المسندللامام احمد بن حنبل ، مسند ابی ھریرہ ،الحدیث:  ۸۳۵۶ ، ج۳ ، س ۲۲۰)

{2}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ رزقِ حلال کی تلاش ہر مسلمان پر واجب ہے۔ ‘‘                          ( المعجم الاوسط ، الحدیث:  ۸۶۱۰ ،ج۶، ص۲۳۱)

{3}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ رزقِ حلال کی تلاش فرائض کی ادائیگی کے بعد ایک فرض ہے۔ ‘‘                               ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۹۹۹۳، ج۱۰ ، ص ۷۴)

{4}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے پاکیزہ کھانا کھایا اور سنت کے مطابق عمل کیا اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہے وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  آج آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی اُمت میں ایسے لوگ بہت ہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ عنقریب میرے چند صدیاں بعد بھی ہوں گے۔ ‘‘

 ( جامع الترمذی ،ابواب صفۃ القیامۃ ، باب حدیث اعقلھا وتو کل الخ ، الحدیث:  ۲۵۲۰ ، ص۱۹۰۵ )

{5}…سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اگر تم میں چارخوبیاں ہوں تو تمہیں دنیا کی  کسی محرومی سے نقصان نہ ہو گا:   (۱) امانت کی حفاظت  (۲) سچی بات کہنا  (۳) حسن اخلاق اور  (۴) پاک کھانا۔ ‘‘

 ( المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللہ  بن عمر و بن العاص ، الحدیث:  ۶۶۶۴، ج۲ ، ص ۵۹۲)

{6}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس کی روزی پاکیزہ ہو، باطن اچھا ہو،ظاہر عزت والا ہو اور جو لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے اس کے لئے خوشخبری ہے، نیز جس نے اپنے علم پر عمل کیا اور اپنا ضرورت سے زائد مال خرچ کیا اور فضول گوئی سے رکا رہا اس کے لئے سعادت ہے۔ ‘‘   ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۴۶۱۶ ، ج۵ ، ص ۷۲)

{7}…مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اے سعد  (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ) !  اپنی غذا پاک کر لو!  مستجابُ الدعوات ہو جاؤ گے، اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) کی جان ہے!  بندہ حرام کا لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس کے 40دن کے عمل قبول نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہواس کے لئے آگ زیادہ بہترہے۔ ‘‘                                (المعجم الاوسط ، الحدیث:  ۶۴۹۵، ج۵ ، ص ۳۴)

{8}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس میں امانت نہیں نہ اس کا دین ہے نہ نماز اور نہ ہی زکوٰۃ۔ جس نے حرام مال سے قمیص بنا کر پہنی جب تک وہ قمیص اتار نہ دے اس کی نماز قبول نہ ہو گی،بے شک یہ بات اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے شایانِ شان نہیں  کہ وہ ایسے شخص کا عمل یانمازقبول فرمائے جس نے حرام کی قمیص پہن رکھی ہو۔ ‘‘

 ( البحر الزخار ، بمسند البزار ، مسند علی بن ابی طالب ، الحدیث: ۸۱۹، ج۳ ، ص ۶۱ )

{9}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  فرماتے ہیں :  ’’ جس نے 10درہم کا کپڑا خریدا اور اس میں ایک درہم حرام کا تھا تو جب تک وہ لباس اس کے بدن پر رہے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی کوئی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر ارشاد فرمایا:  ’’ اگر میں نے یہ بات تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے نہ سنی ہو تو میرے کان بہرے ہو جائیں ۔ ‘‘  (المسند للامام احمد بن حنبل،مسندعبداللہ  بن عمر بن خطاب،الحدیث: ۵۷۳۶، ج۲، ص۴۱۶تا۴۱۷)

چوری کا مال خریدنے کاگناہ:

{10}…