Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                یہ ان حیلوں میں سے ہے جن میں اختلاف واقع ہواہے پس جس کے پاس دو صاع گھٹیا کھجوریں ہوں اور وہ ان کے  بدلے ایک صاع عمدہ کھجوریں لینا چاہتا ہو تو اس کے لئے کسی دوسرے عقد کے واسطے کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس (یعنی دوصاع گھٹیاکے بدلے ایک صاع عمدہ کھجوریں لینے ) کے سود ہونے میں اجماع ہے۔ جب اس نے ایک درہم کی دوصاع گھٹیا کھجوریں بیچیں اور اس ایک درہم کی ایک صاع عمدہ کھجوریں خریدلیں جو اس کے ذمہ تھا تو وہ سود سے بچ گیا کیونکہ عقد کھانے والی چیز اور روپے میں واقع ہوا نہ کہ دو کھانے والی چیزوں کے درمیان، لہذا ربا کی صورت نیست ونابود ہو گئی تو اس وقت حرمت کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ پس معلوم ہوا کہ خیبر کے عامل کو رسولِ اکرم، شفیعِ معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو حیلہ سکھایا وہ سود وغیرہ میں حیلہ کے مطلق جائز ہونے میں نص ہے کیونکہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں ۔

                ان لوگوں نے مذکورہ یہودیوں کے قصہ سے جو استدلال کیا وہ اس بات پر مبنی ہے کہ ’’ جوچیز ہم سے پہلی اُمتوں کے لئے مشروع تھی وہ ہمارے لئے بھی مشروع ہے۔ ‘‘ حالانکہ صحیح بات اس کے برعکس ہے کیونکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتاہے کہ ہماری شریعت میں ان کے مخالف کچھ بھی نہیں حالانکہ آپ جان چکے ہیں کہ شارععَلَیْہِ السَّلَام نے جو چیز ہمارے لئے مشروع قرار دی ہے وہ ان کے مخالف ہے۔

٭٭٭٭٭٭

بیع کی ممنوع صورتیں

کبیرہ نمبر186:                                                         

منع الفحل

 (یعنی نرجانورکو جفتی کے لئے دینے سے روکنا)

{1}…حضرت سیدنا بریدہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، فالتو پانی اور نر کو روکناہے۔ ‘‘                     (مجمع الزوائد ،کتاب الایمان ، باب فی الکبائر ، الحدیث:  ۳۹۷، ج۱ ، ص ۲۹۶)

تنبیہ:

                علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے کلام میں اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے لیکن اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور اس کانقصان دوسرے کبیرہ گناہوں کے نقصان کو نہیں پہنچتا اور حدیث میں اس کا ذکر مقدم  ہونے کی وجہ سے ہم نے اسے ذکر کیا۔

                یہ اس بات کی تائید ہے کہ جفتی کے لئے نر کو عاریتاًدینے کی غایت یہ ہے کہ یہ مکروہ ہے اوراگر اسے صحیح کہا جائے تو اسے ایسی صورت پرمحمول کرناممکن ہے کہ اگر کسی گاؤں والے اپنے پاس نر نہ ہونے کی وجہ سے نر کے محتاج ہو گئے تو اس وقت نر کو لینا ضروری ہے کیونکہ مادہ کے پیدائش میں ہی روحوں کی اور دودھ سے بدن کی زندگی ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ سب مفت میں ہو۔

اعتراض: اگر آپ کہیں کہ یہاں پر کیسے اجارہ کا تصورکیا جا سکتا ہے حالانکہ نر کی نسل کو روکنے کے بارے میں اللّٰہکے  مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحیح حدیثِ پاک موجود ہے اور اس نر کی نسل کو روکنے سے مراد اس کی جفتی کرنے کی تعداد یا مادۂ منویہ کی مقدار کی بیع ہے یا جفتی کرنے کی اُجرت لینا ہے؟

جواب: مَیں  (مصنف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہ) کہتا ہوں :  اس کی صورت ممکن ہے وہ یہ کہ مادہ جانور کا مالک معین مدت کے لئے معین مال کے بدلے نر اُجرت پر لے اگرچہ ایک گھڑی کے لئے ہی ہو، اس سے جو چاہے نفع اٹھا لے پس یہ اجارہ صحیح ہے جیسا کہ اجارہ کے باب میں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام کا قیاس ہے اور وہ اس کے پورے منافع حاصل کرے گا اگرچہ وہ اسے اپنے مادہ جانور سے جفتی کرائے کیونکہ جس چیز کا اسے قصداً اُجرت پر لینا جائز نہیں تبعاً جائز ہو جائے گا (یعنی جفتی کے لئے اجرت پر نہیں لے سکتا لیکن کلی اختیارات کے ساتھ اُجرت پر لینے کے بعد جفتی بھی کراسکتا ہے) ۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

 

کبیرہ نمبر187:   

بیوعِ فاسدہ اور دیگر حرام ذرائع سے روزی کمانا

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ  (پ۵، النسآء: ۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔

                اس سے مراد کیا ہے اس میں اختلاف ہے، ایک قول کے مطابق:  ’’ اس سے مراد سود، جوا، غصب، چوری، خیانت، جھوٹی گواہی اور جھوٹی قسم کے ذریعے مال بیچنا ہے۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  فرماتے ہیں :  ’’ باطل سے مراد وہ مال ہے جو انسان سے کسی عوض کے بغیر لیا  جاتا ہے۔ ‘‘ ایک قول یہ ہے کہ ’’ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کسی کے ہاں کھانا کھانے سے احتراز کرنے لگے یہاں تک کہ سورئہ نور کی یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:

وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآىٕكُمْ  (پ۱۸، النور: ۶۱)

ترجمۂ کنز الایمان : اور نہ تم میں کسی پر کہ کھاؤ اپنی اولاد کے گھر یا اپنے باپ کے گھر۔

                ایک قول یہ ہے:  ’’ ان سے مراد عقود فاسدہ ہیں ۔ ‘‘

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے قول کی توجیہ یہ ہے کہ یہ آیتِ مبارکہ مُحْکَمْ ہے (یعنی اس کاحکم پختہ ہے) ، منسوخ  (یعنی جس کا حکم ختم ہو جائے) نہیں ہوئی اور نہ قیامت تک ہوگی کیونکہ باطل طریقے سے مال کھانا ہر اس صورت کو شامل ہے جس میں ناحق مال لیا جائے خواہ وہ ظلم کے طریقے سے ہو جیسے غصب، خیانت اور چوری وغیرہ یامزاح، مسخری یا کھیل کود مثلاًجوا اور آلاتِ لہووغیرہ  (عنقریب ان تمام چیزوں کا بیان آئے گا)  یا مکر و فریب کے طریقے سے لیاجائے جیسے عقدِ فاسد کے ذریعے حاصل کیا جانے والا مال۔

                 بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکایہ قول بھی ہمارے موقف کی تائید کرتا ہے کہ یہ آیتِ مبارکہ انسان کے اپنے ہی مال کو باطل طریقے سے کھانے کو بھی شامل ہے مثلا ًآدمی اپنااوردوسرے کا مال حرام کام میں خرچ کرے جیسے مذکورہ مثالیں ۔

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان:  ’’ اِلاَّ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃٌ ‘‘  میں استثناء منقطع ہے کیونکہ باطل کا خواہ کوئی بھی معنٰی مراد لیا جائے، تجارت باطل کی جنس سے نہیں اور اسے متَّصل بنانے کے لئے سبب کی تاویل کرنا اپنے محل میں نہیں اور تجارت کا لفظ اگرچہ عوض والے عقود کے ساتھ خاص ہے مگر قرض اور ہبہ وغیرہ بھی دیگر دلائل کی بناء پر اس کے ساتھ ملحق ہیں ۔

 



Total Pages: 320

Go To