Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ہے کہ ’’ اعلانِ جنگ سود کو جائز سمجھنے والے سے ہے۔ ‘‘  جبکہ ایک قول کے مطابق اس سے بھی اور دوسروں سے بھی ہے، لیکن آیتِ کریمہ کی ترتیب کے لحاظ سے مناسب پہلا قول ہے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان کا مفہوم ہے کہ ’’ اگر تم سود کی حرمت پر ایمان رکھتے ہو تواسے چھوڑ دوجوباقی ہے، اور اگر ایمان نہیں رکھتے تو اعلانِ جنگ کر دو۔ ‘‘

                اُخروی جنگ سے مراد یہ ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس کا خاتمہ برائی پر فرمائے گا، کیونکہ جس نے بھی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ جنگ کی تو اس کا خاتمہ بالخیرکس طرح ہو سکتا ہے؟ نیزاللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے جنگ کرنا درحقیقت اس کی رحمت کے مقامات سے دوری اور بدبختی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنا ہے۔

وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْۚ-لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ (۲۷۹)

                یعنی اگر تم سود کی حلّت کے پہلے قول سے توبہ کر لو یا دوسرے قول کے مطابق عمل سے توبہ کر لو تو تمہارے لئے صرف اصل مال لینا جائز ہے تا کہ اس اصل مال پر مقروض سے زیادہ مال لے کر نہ تو اس پر تم ظلم کرو اور نہ ہی تمہارے اصل مال میں کمی کر  کے تم پر کوئی ظلم کیا جائے گا۔

                جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی تو سودکا تقاضاکرنے والوں نے یہ کہتے ہوئے توبہ کر لی کہ ’’ ہم اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں کیونکہ ہم میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جنگ کرنے کی کوئی طاقت نہیں ۔ ‘‘  لہٰذا وہ اپنے اصل مال لینے پر ہی راضی ہو گئے اور جب ان کے مطالبہ کی وجہ سے مقروضوں نے تنگ دستی کا شکوہ کیا تو انہوں نے صبر کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی:

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-

                یعنی اگر تمہارا مقروض تنگ دست ہو تو تم پر لازم ہے کہ اسے کشادگی تک مہلت دو، اسی طرح تنگ دست کو ہر قسم کے قرض میں مہلت دینا واجب ہے۔ ([1]) لیکن یہ خاص سبب سے نہیں بلکہ مذکورہ  (آیۂ مبارکہ کے)  الفاظ کے عموم سے استدلال ہے۔

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَاْكُلُوا  الرِّبٰۤوا  اَضْعَافًا  مُّضٰعَفَةً۪-  وَّ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تُفْلِحُوْنَۚ (۱۳۰) وَ  اتَّقُوا  النَّارَ

  الَّتِیْۤ  اُعِدَّتْ  لِلْكٰفِرِیْنَۚ (۱۳۱)   (پ۴، اٰل عمران: ۱۳۰۔۱۳۱)

ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو!  سود دُونا دُون  (دُگنا) نہ کھاؤ اور اللہ  سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہے۔

آیتِ مبارکہ کی وضاحت:

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَاْكُلُوا  الرِّبٰۤوا

                اس آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں اگر کسی کا کسی پر مخصوص مدت تک کے لئے 100 درہم قرض ہوتا اور مقروض تنگ دستی کی بناء پر ادا نہ کرسکتاتوقرض خواہ اس مقروض سے کہتا:  ’’ میں تمہاری ادائیگی کی مقررہ مدت میں اضافہ کر دیتا ہوں تم مال میں اضافہ کر دو۔ ‘‘  اس طرح بسا اوقات اس کا مال 200درہم ہو جاتا،اور جب دوسری مقررہ مدت آتی اور مقروض دوبارہ رقم ادا نہ کر پاتا تو وہ مزید انہی شرائط پر مدت بڑھا دیتا یہاں تک کہ اس طریقہ سے وہ کئی مدتوں تک اضافہ کرتا جاتا اور اس طرح سینکڑوں درہم اس مقروض سے وصول کر لیتا، پس اسی وجہ سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:

اَضْعَافًا  مُّضٰعَفَةً۪-  وَّ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تُفْلِحُوْنَۚ (۱۳۰)

                یعنی سود کو چھوڑ دو اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ڈروتا کہ تم فلاح وکامیابی پا سکو۔اس آیتِ مبارکہ میں اس بات کی جانب اشارہ پایا جارہا ہے کہ اگر اس سودی رَوِش (یعنی خصلت) کوترک نہ کیا توکبھی بھی فلاح وکامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے، اس کا سبب وہی ہے جو گذشتہ آیتِ مبارکہ میں گزر چکا ہے یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے جنگ اور جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صلَّی اللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّمَسے بر سرِپیکار ہو اس کی فلاح و کامیابی کا تصور کیونکر کیا جاسکتا ہے؟ نیز اس آیتِ مبارکہ میں برے خاتمے کی جانب بھی اشارہ ملتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:

وَ  اتَّقُوا  النَّارَ  الَّتِیْۤ  اُعِدَّتْ  لِلْكٰفِرِیْنَۚ (۱۳۱)

                یعنی اس آگ سے ڈرو جس کو کافروں کے لئے ان کی ذات کی وجہ سے اور دوسروں کے لئے کافروں کی پیروی کی وجہ سے تیار کیا گیا ہے، مراد یہ ہے کہ جہنم کی اکثرگھاٹیاں کافروں کے لئے تیار کی گئی ہیں اور یہ اس بات کے منافی نہیں کہ گناہ گار مؤمن ان میں داخل نہیں ہوں گے، بلکہ اسی آیتِ مبارکہ میں ہی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ وہ مسلمان جو سودی کاروبار سے منسلک رہا تو وہ اس آگ میں کفار کے ساتھ ہی ہو گا جو کہ محض انہی کے لئے تیار کی گئی ہے، لہذا جب یہ بات واضح اور ثابت ہو گئی کہ یہ سود اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے کھلی جنگ ہے اوربرُے خاتمہ کا باعث ہے:

فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (۶۳)   (پ۱۸، النور: ۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: توڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ پہنچے یا اُن پر درناک عذاب پڑے۔

                پس غورو فکر کرنا چاہئے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اس آگ کی صفت بیان کی ہے کہ وہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے، کیونکہ اس میں حد درجہ وعید ہے اس لئے کہ وہ مؤمنین جو گناہوں سے پرہیز کرنے کے مخاطب ہیں جب انہیں یہ علم ہو گا کہ اگر انہوں نے گناہوں سے بچنے سے روگردانی کی تو انہیں اس آگ میں ڈال دیا جائے گا جو کہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے اور اس طرح ان کے اذہان میں کفار کی سزاکی زیادتی پختہ ہوگی تو وہ گناہوں سے مکمل طور پر رک جائیں گے۔

                نیزاس میں بھی غور کرنا چاہئے  کہ ان آیاتِ مقدسہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے سودخور کی مذمت میں جووعید ذکر کی ہے اس سے رائی کے برابر بھی عقل ودانش رکھنے والاانسان اس گناہ کا قبیح ہونا آسانی سے جان لے گا۔ خصوصًا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے محاذ آرائی اولیاء اللہ  رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی دشمنی جیسے قبیح گناہ کا باعث بنتی ہے، جب آپ پر دنیا و آخرت کی  ہلاکتوں کا سبب بننے والے اس گناہ کی حقیقت آشکار ہو چکی ہے تو چاہئے کہ آپ اس سے رجوع کر لیں اور اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں توبہ کریں ۔

                سود خوروں کے لئے ان آیاتِ مقدسہ میں جو عقوبتیں اور سزائیں بیان ہوئیں ان کے علاوہ کئی احادیثِ مبارکہ میں انہی جیسا مضمون ملتا ہے، اس مضمون کی تکمیل کی خاطر انہیں بھی یہاں ذکر کرنا پسند کروں گا۔

 



[1] ۔۔۔۔ مفسِّر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہتفسیر نعیمی میں ’’ احکام القرآن‘‘ کے حوالے سے فرماتے ہیں :’’مہلت دینا ہر اس قرض میں واجب ہے جو مالی کاروبار کاہو جیسے تجارتی قرض، مگر دین، مہر، کفالہ، حوالہ ،صلح کے روپیہ پر مہلت واجب نہیں ۔‘‘ (تفسیر نعیمی ،سورۃ البقرۃ،تحت الآیۃ:۲۸۰،ج۳، ص ۷ ۱۶)



Total Pages: 320

Go To