Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

قرض دینے والے کوایک خاص نفع پہنچاتی ہے گویا اس نے یہ چیز ایک ایسے نفع کے اضافے کے ساتھ دی جو اس کی طرف لوٹا۔

                سود کی یہ چاروں اقسام مذکورہ آیاتِ مبارکہ اور آئندہ آنے والی احادیثِ مبارکہ کی بناء پربالاجماع حرام ہیں اور ربا کی مذمت میں جو وعید بھی آئی ہے وہ ان چاروں کو شامل ہے البتہ ان میں سے بعض کی حرمت قیاس سے ثابت ہے اوربعض کی حرمت میں قیاس کو دخل نہیں ۔

                ربا النسیئۃسے مراد وہ طریقہ ہے جوزمانۂ جاہلیت میں مشہور تھا یعنی وہ کسی کو معینہ مدت تک کے لئے کوئی شئے قرض دیتے اور اس پر ہر ماہ ایک معین مقدار میں نفع وصول کرتے جبکہ اصل مال جوں کا توں باقی رہتا اور جب وہ مدت پوری ہو جاتی تو وہ اپنے مال کا مطالبہ کرتا اگر مقروض ادائیگی سے معذرت کرتا تو اس مدت اور نفع میں اضافہ کر دیتا اگرچہ اس پر ربا الفضلکا نام بھی صادق آتا ہے لیکن اسے نسیئہکہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ذاتی طور پرادھار ہی مقصود ہوتا ہے اور یہ صورت   لوگوں میں اب تک رائج اور مشہور ہے۔

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہماصرف ’’ رباالنسیئۃ ‘‘ ہی کوحرام قرار دیتے تھے اور دلیل یہ پیش فرماتے  تھے کہ ہمارے درمیان یہی صورت متعارف ہے لہذاوہ نص کو اس کی طرف پھیردیتے مگر صحیح احادیثِ مبارکہ مذکورہ چاروں صورتوں کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں اور اس پر کسی نے اعتراض کیا نہ ہی اس میں کسی کااختلاف ہے،اسی لئے فقہا ء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے حضرت سیدنا عبداللہ  بن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کے قول کے خلاف اجماع کرلیاکیونکہ انہوں نے اپنے قول سے رجوع کرلیاتھاچنانچہ،

                 حضرت سیدناابی ّ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے جب ان سے کہا:  ’’ کیا آپ اس وقت حاضرتھے جب ہم حاضرنہ تھے؟کیا آپ نے  حضور نبی ٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے وہ باتیں سنی جو ہم نے نہ سنیں ؟ ‘‘ پھران کے سامنے رباکی تمام صورتوں کی حرمت سے متعلق صریح حدیث بیان کر کے کہا:  ’’ آپ جب تک اس مؤقف پر قائم رہیں گے ہم ایک دوسرے کو گھرکے سائے میں پناہ نہیں دیں گے۔ ‘‘ توحضرت سیدنا عبداللہ  بن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے (اپنے مؤقف سے)  رجوع فرما لیا۔

            حضرت سیدناامام محمد بن سیرین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ ہم حضرت سیدناعِکرمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کے گھر پر تھے کہ ان میں سے ایک شخص نے پوچھا:  ’’ کیا آپ کو یادہے کہ ہم فلاں شخص کے گھرپرتھے اور ہمارے ساتھ حضرت سیدنا عبداللہ  بن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  بھی تھے اور انہوں نے ارشاد فرمایاتھا:  ’’ میں بیع صرف  ([1] ) کو اپنی رائے سے حلال سمجھتا تھا پھرمجھے خبرملی کہ حضور نبی ٔ کریم

 صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اسے حرام فرمایا ہے ،پس گواہ ہوجاؤکہ میں اسے حرام کہتا ہوں اور اس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہتا ہوں ۔ ‘‘

سود کی حرمت ظاہر کرنے والے امور:

                فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے سود کی حرمت کو اس کی ہر نوع میں ظاہر کرنے والے بہت سے وہ امور بیان کئے ہیں جنہیں قبول کئے بغیر کوئی چارہ نہیں اس لئے میں نے اپنے ماقبل کلام میں بیان کیا تھا کہ اس میں سے بعض کی حرمت میں قیاس کو دخل نہیں ، ان میں سے چند امور یہ ہیں :

 (۱) …جب ایک درہم کو دودرہموں سے نقدیااُدھار بیچے تو پہلے درہم میں وہ بغیرکسی عوض کے زیادتی کولے گا جبکہ مسلمان کے مال کی حرمت بھی اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے، اسی طرح یہی معاملہ دوسرے درہم میں ہے ، کیونکہ زائد درہم کو لے کر نفع حاصل کرناایک وہم میں ڈالنے والا اَمرہے۔

 (۲) …اگررباالفضل جائز ہوتا تو تمام کاروبارِ تجارت باطل ہو کررہ جاتے کیونکہ جب دو درہم ایک درہم کے بدلے میں حاصل ہو رہے ہوں توکیونکرکوئی محنت ومشقت کرے گا، پس جب کاروبارِ تجارت ہی نہ ہو گا تومخلوق کے مفادات ہی ختم ہو جائیں گے اس لئے کہ ساری دنیا کا انتظام وانصرام اسی تجارت اور صنعت و حرفت پرہی توہے۔

 (۳) …سود،قرض دینے کی نیکی اوراحسان جیسے دروازے کوبندکردے گا کیونکہ جب ایک درہم کے بدلے دو درہم مل رہے ہوں توپھر کوئی بھی ایک درہم کے بدلے میں ایک ہی درہم لیناقطعاً گوارہ نہ کرے گا۔

 (۴) …عام طور پر قرض خواہ امیروغنی اور مقروض تنگ دست وفقیرہوتاہے، اب اگر غنی کو قرض سے زیادہ لینے کی کی اجازت دی جائے تو یہ فقیر کے لئے زیادہ تکلیف دہ ہے ۔ اور وہ  (سود لینے والا) اللہ  رحمن ورحیم کی رحمت وبخشش کو بھی نہ پاسکے گا۔

٭٭٭٭٭٭

سودکی مذمت پرنازل شدہ آیت کی وضاحت

{۱}  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ-فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ-وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِؕ-وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ (۲۷۵) یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ (۲۷۶)     (پ۳، البقرۃ: ۲۷۵۔۲۷۶)

ترجمۂ کنز الایمان : وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑ اہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہویہ اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے اور اللہ  نے حلال



[1] ۔۔۔۔(بیع صرف یہ ہے کہ )ثمن کو ثمن کے بدلے بیچنا۔(بیع)صرف میں کبھی جنس کا جنس سے تبادلہ ہوتا ہے جیسے روپیہ سے چاندی خریدنا یا چاندی کی ریزگاریاں (سکے کے حصے یعنی اٹھنِّی ،چونِّیوغیرہ ) خریدنا،سونے کو اشرفی سے خریدنا۔اورکبھی غیر جنس سے تبادلہ ہوتا ہے جیسے روپے سے سونا یااشرفی خریدنا۔(بہار شریعت،حصہ۱۱،ص۱۲۱)

بیع صرف کے جائز ہونے کی صورتیں :

             احناف کے نزدیک:بیع صرف چند شرائط کے ساتھ جائز ہے ،چنانچہ صدرالشریعہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  القوی کے کلام کا خلاصہ یہ ہے:

(۱)…دونوں طرف ایک ہی جنس(مثلاً چاندی کے بدلے چاندی یا سونے کے بدلے سونا) ہے توشرط یہ ہے کہ دونوں وزن میں برابر ہوں اوراسی مجلس میں دست بدست قبضہ ہویعنی ہر ایک دوسرے کی چیز اپنے فعل سے قبضہ میں لائے، اگر عاقدین نے ہاتھ سے قبضہ نہیں کیا بلکہ فرض کرو عقد کے بعد وہاں اپنی چیز رکھ دی اوراس کی چیز لے کر چلا آیا یہ کافی نہیں ہے اور اس طرح کرنے سے بیع ناجائز ہو گئی بلکہ سود ہوا۔                                       

(۲)…اتحاد جنس کی صورت میں کھرے کھوٹے ہونے کا کچھ لحاظ نہ ہوگایعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ جدھر کھرا مال ہے ادھر کم ہو اور جدھر کھوٹا ہو زیادہ ہو کہ اس صورت میں کمی بیشی سود ہے ۔

(۳)…اس کا بھی لحاظ نہیں ہو گا کہ ایک میں صنعت ہے اور دوسرا چاندی کا ڈھیلاہے یا ایک سکہ ہے دوسرا ویسا ہی ہے اگر ان اختلافات کی وجہ سے کم وبیش کیا تو حرام وسود ہے ۔

(۴)…اگر دونوں جانب ایک جنس نہ ہوبلکہ مختلف جنسیں ہوں  (مثلاً روپے کے بدلے سونایا اشرفی ہو)تو کمی بیشی میں کوئی حرج نہیں مگر تقابضِ بدلین ضروری ہے اگر تقابضِ بدلین سے قبل مجلس بدل گئی توبیع باطل ہو گئی ۔ (ماخوذ ازبہار شریعت،ج۲،حصہ۱۱،ص۱۲۱۔۱۲۲)



Total Pages: 320

Go To