Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{۲}

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (۲۷۸) فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْۚ-لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ (۲۷۹) وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۲۸۰) وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِۗ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ (۲۸۱)   (پ ۳، البقرۃ،۲۷۸تا۲۸۱)

ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو اللہ  سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ  اور اللہ  کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤنہ تمہیں نقصان ہو اور اگر قرض دار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو اور ڈرو اس دن سے جس میں اللہ  کی طرف پھرو گے اور ہر جان کو ا سکی کمائی پوری بھر دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔

{۳}

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَاْكُلُوا  الرِّبٰۤوا  اَضْعَافًا  مُّضٰعَفَةً۪-  وَّ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تُفْلِحُوْنَۚ (۱۳۰) وَ  اتَّقُوا  النَّارَ  الَّتِیْۤ  اُعِدَّتْ

  لِلْكٰفِرِیْنَۚ (۱۳۱)   (پ۴، آل عمران: ۱۳۰۔۱۳۱)

ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو!  سود دُونا دُون  (دُگنا) نہ کھاؤ اور اللہ  سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہے۔

                مذکورہ آیاتِ مبارکہ اور ان میں بیان کئے گئے سود خور کے انجام پر غور کیجئے، آیاتِ مبارکہ کے بعض حصوں کی مختصر تشریح سے اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔

سودکی تعریف: [1]

                رِبا (سود) لغت میں زیادتی یا اضافہ کو کہتے ہیں ،اور شرع میں ربا سے مرادیہ ہے کہ ایسے مخصوص عوض پر عقدکرناکہ بوقتِ عقد جس کا شریعت کے تقاضوں کے مطابق برابر ہونا معلوم نہ ہو یا جوعقد بدلین یاان میں سے کسی ایک کی تاخیر کے ساتھ ہو۔

اس کی تین اقسام ہیں :

(1)         رباالفضل:  [2]  دوہم جنس اشیاء میں سے ایک کو دوسری کے بدلے اضافے کے ساتھ بیچنا۔

(2)            (۲) …ربا بالید:  بدلین یا ان میں سے کسی ایک پر قبضہ مجلس سے جدا ہونے کے بعد کرنا، یا اس تاخیر میں دونوں بدلوں کا متحد ہونا شرط ہو اس علت کی بناء پر کہ وہ دونوں اشیاء خوردنی ہوں یا دونوں نقدی کی قسم سے ہوں اگرچہ ان کی جنس مختلف ہو۔

 (۳) …ربا النساء: خوردنی اشیاء یا ہم جنس یا مختلف الجنس نقدی کو کسی معینہ مدت تک کے لئے بیچنا خواہ وہ ایک لمحہ ہی کیوں نہ ہو، اگرچہ وہ برابر ہی ہوں اور ان پر مجلس ہی میں قبضہ کر لیا جائے۔

مثالیں :

                پہلی قسم کی مثال: گندم کے ایک صاع کو گندم کے ہی ایک صاع سے کم یا زیادہ کے عوض بیچنا یا چاندی کے ایک درہم کو چاندی کے ہی ایک درہم سے کم یا زیادہ کے عوض بیچنا خواہ دونوں پر قبضہ کر لیا جائے یا نہ کیا جائے، خواہ مدت مقرر ہو یا نہ ہو۔

                دوسری قسم کی مثال: ایک صاع گندم کو ایک صاع گندم یا ایک درہم سونے کو ایک درہم سونے یا ایک صاع گندم کو ایک صاع جو یا اس سے زیادہ کے عوض بیچنا یا سونے کے ایک درہم کو ایک درہم چاندی یا اس سے زیادہ کے عوض بیچنا اس شرط کے ساتھ کہ دونوں میں _ سے ایک پر قبضہ کرنا مجلس سے مؤخر ہو جائے۔

                تیسری قسم کی مثال: یہ ہے کہ ایک صاع گندم کو ایک صاع گندم یا ایک درہم چاندی کو ایک درہم چاندی کے عوض بیچا جائے مگر ان میں سے ایک کے لئے کوئی مدت مقرر کر لی جائے اگرچہ وہ مدت ایک لمحہ ہی کیوں نہ ہو اور اگرچہ برابر ہوں اور مجلس میں ان پرقبضہ بھی کرلیاگیاہو۔

          خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب دونوں عوض جنس اور علت میں برابر ہوں مثلاًگندم کے عوض گندم، سونے کے بدلے سونا تو اس میں تین باتیں شرط ہوں گی:   (۱) برابری  (۲) عقدکے وقت اس برابری کا یقینی علم ہونا اور  (۳) جدائی سے پہلے دونوں عوضوں پر قبضہ کر لینا۔

                جب علت متحد ہو اور جنس مختلف ہو جیسے جو کے عوض گندم اور چاندی کے عوض سونا، تواس میں دو چیزیں شرط ہیں :  پہلی معلوم العقد ہونا اور دوسری یہ کہ جدائی سے پہلے باہم قبضہ کا ہونا اور ان میں تفاضل یعنی اضافہ جائز ہے۔لیکن جب جنس اور علت دونوں مختلف ہوں مثلاً گندم سونے یا کپڑے کے عوض ہو تو پھر مذکورہ تینوں شرائط میں سے کوئی چیز شرط نہیں ، علت سے مراد اَشیاء کا خوردنی ہونا ہے یعنی وہ اشیاء جو کھانے پینے کے طور پر استعمال ہوتی ہیں مثلاً ترکاریاں ، پھل یا ادویات وغیرہ۔

                نقدی سونے چاندی میں شمار کی جاتی ہے خواہ وہ ڈھلے ہوئے سکوں کی صورت میں ہو یا زیورات وغیرہ کی صورت میں ، سکوں میں سود نہیں ہوتا اگرچہ وہ رائج ہی کیوں نہ ہوں ۔

                سیدنا متولی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ایک چوتھی نوع کا اضافہ کیا اور وہ  ’’ ربا القرض ‘‘  یعنی قرض کا سود ہے مگر حقیقت میں یہ ربا الفضل ہی کی طرف راجع ہے کیونکہ اس میں ایک ایسی شرط ہے جو



[1] ۔۔۔۔ احناف کے نزدیک سود کی تعریف یہ ہے : ’’ عقد معاوضہ میں جب دونوں طرف مال ہواورایک طرف زیادتی ہوکہ اس کے مقابل میں دوسری طرف کچھ نہ ہویہ سود ہے۔‘‘ (بہار شریعت،ج۲،حصہ۱۱،ص۹۶)

[2] ۔۔۔۔ صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  القوی’’ ہدایہ‘‘ کے حوالے سے  ربا الفضلاورربا النسیئۃ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : ’’قدروجنس دونوں موجود ہوں تو کمی بیشی بھی حرام ہے (اس کو ربا الفضل کہتے ہیں )اورایک طرف نقد ہودوسری طرف ادھار یہ بھی حرام ہے (اس کو ربا النسیئۃ کہتے ہیں ) مثلاًگیہوں کوگیہوں ،جَوکوجَوکے بدلے میں بیع کریں تو کم وبیش حرام، اورایک اب دیتا ہے دوسرا کچھ دیر کے بعد دے گایہ بھی حرام، اوردونوں میں سے ایک ہوایک نہ ہوتو کمی بیشی جائز ہے اورادھار حرا م مثلاًگیہوں کوجَو کے بدلے میں ،یاایک طرف سیسہ ہوایک طرف لوہاکہ پہلی مثال میں ماپ اوردوسری میں وزن مشترک ہے، مگر جنس کا دونوں میں اختلاف ہے ۔کپڑے کو کپڑے کے بدلے میں ،غلام کو غلا م کے بدلے میں بیع کیااس میں جنس ایک ہے مگر قدر موجود نہیں ۔ لہٰذا یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک تھان دے کر دو تھان یا ایک غلام کے بدلے میں دو غلام خرید لے مگر ادھار بیچنا حرام اورسود ہے اگرچہ کمی بیشی نہ ہواوردونوں نہ ہوں تو کمی بیشی بھی جائز اورادھار بھی جائز۔مثلاًگیہوں اورجَو کو روپیہ سے خریدیں یہاں کم وبیش ہونا تو ظاہر ہے کہ ایک روپیہ کے عوض میں جتنے من چاہوخریدو کوئی حرج نہیں ، اور ادھار بھی جائز ہے کہ آج خریدو روپیہ مہینے میں سال میں دوسرے کی مرضی سے جب چاہو دو،جائز ہے کوئی خرابی نہیں ۔‘‘ (بہار شریعت،ج۲،حصہ۱۱،ص۹۶)



Total Pages: 320

Go To