Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

جلانا جائز ہے اور ظاہریہ ہوتا ہے کہ جب فواسق خمس  (یعنی چوہا، چیل، کواّ، کاٹنے والا کتا ( یا بچھو ) اورسانپ)  کے ضرر کو زائل کرنے کے لئے آگ سے جلانے کا طریقہ متعین ہوگیا تو آگ سے جلانامنع نہیں ۔

                اور رہاان کے علاوہ آدمی اور حیوان کو آگ سے جلانا اگرچہ وہ حیوان کھایا نہ جاتا ہو تو یہ کبیرہ گناہ ہے کیونکہ،

{3}… حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی کوباندھ کر تیروں کا نشانہ بنایا ہوا تھا، جب انہوں نے حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کو دیکھا تو بکھر گئے، آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے دریافت فرمایا:  ’’ یہ کس نے کیا ہے؟ بے شک مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اس طرح کرنے والے پر لعنت فرمائی اورآگ سے جلانانشانہ بنا کرتیر مارنے کی طرح یا اس سے بھی سخت ہے ۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب الصید ، باب النہی عن صبر البھائم ،الحدیث: ۵۰۶۲، ص ۱۰۲۷)

{4}…مسلم شریف ہی کی ایک روایت میں ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ انہیں عذاب دے گا جو دنیا میں عذاب دیتے ہیں ۔ ‘‘  (المرجع السابق، الحدیث:  ۶۶۵۷، ص ۱۱۳۴)

{5}…مسلم شریف کی دوسری روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّانہیں عذاب دے گا جودنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں ۔ ‘‘                            (المرجع السابق،الحدیث: ۶۶۵۸)

                راوی نے مذکورہ حدیثِ پاک اس وقت سنائی جب انہوں نے چند لوگوں کو دیکھا کہ انہیں دھوپ میں عذاب دیا جارہا ہے تو پھر آگ کے ساتھ جلانے والے کے بارے میں تیرا کیا گمان ہے ۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر175:                         

نجس یعنی ناپاک چیز کھانا

کبیرہ نمبر176:                         

گندگی کھانا

کبیرہ نمبر177:                         

نقصان دہ چیزیں کھانا

                ان تینوں کو بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، پہلی چیز کے کبیرہ ہونے کے بارے میں دلیل یہ ہے کہ اسے مردار پر قیاس کیا گیا ہے کیونکہ وہ نقصان دہ ہونے کی وجہ سے حرام نہیں بلکہ نجاست کی وجہ سے ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اسے فسق کا نام دیا ہے، لہذا ہر غیر معاف نجاست اس سلسلے میں اس کے ساتھ ملحق ہو گی، پس اسے کبیرہ شمار کرنے کی وجہ ظاہر ہو گئی۔

                دوسری چیز کے کبیرہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ یہ گندگی ہے جیسا کہ ناک کی رینٹھ۔ اور تیسری چیز کے کبیرہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس میں حکم ظاہر ہے کیونکہ نقصان دہ چیز کاکھانا بدن اور عقل کو خراب کرتا ہے جو عظیم گناہ ہے اور جیسا کہ غیر کو نقصان دینا جوبرداشت کی طاقت نہ رکھتاہو کبیرہ گناہ ہے اسی طرح اپنے آپ کو نقصان دینا بھی کبیرہ گناہ ہے بلکہ یہ سب سے بڑا ہے کیونکہ اپنی حفاظت غیر کی حفاظت سے زیادہ اَہم ہوتی ہے۔

چندمسائلِ فقہیہ:

                ہمارے اصحابِ شوافع رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ذکر کیا ہے کہ ’’ بدن کو نقصان دینے والی پاک چیزوں کا کھانا بھی حرام ہے جیسے مٹی  (احناف کے نزدیک:  ’’ مٹی حدِضررتک کھاناحرام ہے۔ ‘‘  بہارِشریعت،ج۱،حصہ۲،ص۶۳)  ، زہر اور افیون، مگر سلامتی کے غالب گمان کے ساتھ دوا کی حاجت کے لئے اس کی قلیل مقدار جائز ہے یا عقل کو نقصان دینے والی پاک چیزوں کا کھانا بھی حرام ہے جیسے نشہ والی بوٹیاں جو سستی پیدا نہ کرتی ہوں اوران سے علاج کروا سکتا ہے اگرچہ نشہ والی ہوں بشرطیکہ شفاء متعین ہو، اس کی صورت یہ ہے کہ دو عادل طبیب کہیں :  ’’ اس کے سوا کوئی چیز تیری بیماری کو نفع نہ دے گی۔ ‘‘  اور اگر بوٹی کے بارے میں شک ہو کہ آیا یہ زہریلی ہے یا نہیں ؟ یا دودھ کے بارے میں شک ہو کہ آیا ان جانوروں کا ہے کہ جن کا گوشت کھایا جاتا ہے یا جن کا گوشت نہیں کھایاجاتا؟ تو اس کا کھانا یا پینا حرام ہے۔

                اگر مکھی وغیرہ پکے ہوئے کھانے میں گر گئی اور اس میں گل گئی تو اس کا کھاناجائز ہے اور پرندے یا آدمی کا کوئی عضو پکے

ہوئے کھانے میں گر گیا تو اس کا کھاناجائز نہیں اگرچہ وہ اس میں حل ہو گیا ہو۔

                اگر نجاست کھانے میں پائی گئی اور وہ جمی ہوئی ہے اور شک ہے کہ کیا اس میں مائع حالت میں گری یا ٹھوس حالت میں تو اس کھانے کو کھاناجائز ہے کیونکہ اصل اس کی طہارت ہے، جبکہ اس کے جمی ہوئی حالت میں گرنے کا احتمال ہو، پس اسے اور اس کے ارد گرد کو نکال دیا جائے گا اگرچہ ظن غالب ہو کہ وہ مائع حالت میں گری۔

                سانپوں کے گوشت کے ساتھ ملی ہوئی دوا (یعنی دواؤں سے زہر کا اثر دور کرنے کے لئے استعمال ہونے والی دوا) حرام ہے، سوائے اس ضرورت کے جس میں مردار کھانا جائز ہوتا ہے اور اگر کسی زمین میں حرام عام ہو جائے اور کوئی حلال چیز باقی نہ رہے اور جاننے والے لوگ بھی اس میں مبتلا ہو جائیں تو قدرے حاجت کھانا جائز ہے نہ کہ عیش کوشی کے لئے اور یہ (یعنی عیش پرستی کے لئے کھانا)  ضرورت پر موقوف نہیں۔

نفع ونقصان دینے والے حیوانات اور ان کے احکام

٭…جوحیوان نقصان دیتے ہیں اور نفع نہیں دیتے جیسے سانپ، بچھو، چوہا، چیل، کاٹنے والا کتا   ([1] ) ، کوا، بھیڑیا، شیر، چیتا اور تمام   (چیرنے پھاڑنے والے) درندے، ریچھ، گدھ، عقاب ، پسو، چھوٹی چیونٹی، چھپکلی، دھبوں والی چھپکلی، کھٹمل اوربھڑ وغیرہ۔یہ اور اس طرح کے جانوروں کو قتل کرنا سنت ہے اگرچہ حرم میں احرام باندھا ہوا ہو۔

٭…جو نفع بھی دیتے ہیں اور نقصان بھی جیسے تیندوا (چیتے کی طرح کا جانور) ، شکرا اور باز۔ پس ان کے نفع کی وجہ سے انہیں قتل کرنا سنت نہیں اور ان کے نقصان کی وجہ سے انہیں قتل کرنا مکروہ نہیں ۔

٭…اور وہ جونہ تو نفع دیتے ہیں نہ نقصان جیسے بڑابھونرا (پتنگا) ، کالے کیڑے، دس پیروں والا بحری جانور (کیکڑا) ،سفید سراور بقیہ کالے جسم والا گھوڑا۔ہاں وہ کتاجو نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان، اس کے قتل کے جائز ہونے میں اختلاف ہے اور زیادہ قابلِ اعتماد  بات یہ ہے کہ یہ حرام نہیں اور اس کے اور مذکورہ حیوانات کے درمیان فرق کیا جائے گا کیونکہ وہ حشرات کے ضمن میں آتے ہیں ، پس ان میں اس قدر معاف ہے جو دوسروں میں نہیں اور بڑی چیونٹی کو قتل کرنا حرام ہے حالانکہ اس میں نہ نفع ہے نہ نقصان۔اسی طرح شہد کی مکھی، ابابیل کی طرح کا ایک پرندہ، لٹورا (کیڑوں کو کھانے والا اور چڑیا کا شکارکرنے والاپرندہ) ، مینڈک اور وہ



[1] ۔۔۔۔ حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہشرح مشکوٰۃ میں نقل فرماتے ہیں :’’اب حکم یہ ہے کہ بے ضررکتوں کے قتل کاحکم منسوخ ہے خواہ کالے ہوں یاکچھ اور،اورضرروالے خصوصاًدیوانے کتے کاقتل ضروری ہے اوربلاضرورت کتاپالنامنع ہے۔‘‘ (مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ،ج۵، ص ۶۸)



Total Pages: 320

Go To